مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں (کسی اختلاف کی صورت میں ) دودھ پلانے والی کی بات قبول کی جائے گی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة
”رضاعت میں بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے ہوتے ہیں۔“
[بخاري: 2644 ، مسلم: 1444 ، دارمي: 155/2 ، عبدالرزاق: 476/7 ، أحمد: 178/6]
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے گذشتہ کتاب النکاح میں ”حرام رشتوں کا بیان۔“
➊ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اُم یحیٰی بنت ابی اھاب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی
قد أرضعتكما
”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“
عقبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كيف وقد قيل؟
”اب تم اسے کس طرح اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو جبکہ رضاعت کی اطلاع دے دی گئی ہے؟ ۔“ عقبہ نے اس عورت کو جدا کر دیا اور اس خاتون نے دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ۔
[بخاري: 2659 – 2660 ، كتاب الشهادات: باب شهادة المرضعة ، احمد: 8/4 ، ابو داود: 3604 ، ترمذي: 1151 ، نسائي: 109/6 ، حميدي: 579 ، دارقطني: 175/4]
➋ امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار آدمیوں اور ان کی بیویوں کے درمیان رضاعت کے مسئلہ میں ایک عورت کی گواہی کی وجہ سے جدائی کرائی۔
[عبدالرزاق: 482/7 ، كتاب الطلاق: باب شهادة امرأة على الرضاع]
(احمدؒ) اس کے قائل ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، امام طاؤس ، امام زہری، امام اوزاعی ابن ابی ذئب اور عمر بن عبد العزیز رحمہم اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(شافعیؒ) چار عورتوں سے کم کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ دو عورتیں گواہی میں ایک مرد کے برابر ہیں۔
(ابو حنیفہؒ) صرف دو مرد ، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت قبول کی جائے گی۔
(ان کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ [البقرة: 282]
”اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔“
حالانکہ یہ آیت عام ہے اور حدیث خاص ہے اور عام کو خاص پر محمول کرنا واجب ہے ) ۔
[المغني: 340/11 ، نيل الأوطار: 423/4]
(راجح) مسئلہ رضاعت میں دودھ پلانے والی اکیلی عورت کی گواہی بھی قبول کی جائے گی جیسا کہ گذشتہ صحیح حدیث اس پر شاہد ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔