مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رضاعت کا حکم صرف پانچ مرتبہ دودھ پلانے کے ساتھ ثابت ہوتا ہے

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

رضاعت کا حکم صرف پانچ مرتبہ دودھ پلانے کے ساتھ ثابت ہوتا ہے
لغوی وضاحت: لفظِ رضاع یا رضاعة باب رَضِعَ (سمع ، فتح ، ضرب ) سے مصدر ہے۔ اس کا معنی ”دودھ پینا“ ہے۔ اور باب أَرضَعَ (افعال) کا معنی ”دودھ پلانا“ ہے۔
[لسان العرب: 125/8 ، القاموس المحيط: 30/3 ، المنجد: ص/ 295]
اصطلاحی تعریف: عورت کے پستان سے بچے کا مخصوص وقت میں چوس کر دودھ پینا۔
[أنين الفقهاء: ص/ 152 ، الدرر: 355/1]
رضعات ، رضعۃ کی جمع ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بچہ ماں کا پستان منہ میں لے کر چوسے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی سے اسے چھوڑ دے (تو یہ ایک رضعہ ہے ) ۔
[نيل الأوطار: 412/4]
اگر کسی عارض کی وجہ سے چھوڑ دے مثلاً سانس لینے کے لیے یا کچھ آرام کے لیے یا کسی اور ایسی وجہ سے جو اسے دوسری طرف مشغول کر دے پھر جلد ہی دوبارہ پینا یا چوسنا شروع کر دے تو یہ وقفہ ایک (رضعہ یعنی ایک ) مرتبہ پینے سے خارج نہیں ہو گا۔ ایک رضعہ کی تحقیق میں امام شافعیؒ کا یہی مذہب ہے اور یہی لغت کے موافق بھی ہے۔
[سبل السلام: 1529/3]
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :
كان فيما أنزل القرآن عشر رضعات معلومات يحرمن ثم نسخن بخمس معلومات
”قرآن میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا جبکہ اس کے پینے کا یقین ہو جائے نکاح کو حرام کر دیتا ہے۔ پھر یہ حکم پانچ مرتبہ یقینی طور پر دودھ پینے سے منسوخ ہو گیا ۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت پانچ کی تعداد قرآن میں پڑھی جاتی تھی۔
[مسلم: 1452 ، كتاب الرضاع: باب التحريم بخمس رضعات ، موطا: 608/2 ، ابو داود: 2062 ، ترمذي: 1150 ، نسائي: 100/6 ، ابن حبان: 4207 – الإحسان]
➋ حضرت سہلہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ :
فأرضعته خمس رضعات فكان بمنزلة الولد منه
”انہوں نے سالم کو پانچ مرتبہ دودھ پلایا پھر وہ اس کے بچے کی جگہ ہو گیا ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 1815 ، كتاب النكاح: باب فيمن حرم به ، ابو داود: 2061]
(ابن تیمیہؒ) پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
[فتاوى النساء: ص/ 471]
(ترمذیؒ) انہوں نے اسی مذہب کو قوی قرار دیا ہے۔
[ترمذى: بعد الحديث / 1150]
(امیر صنعانیؒ) انہوں نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
[سبل السلام: 1529/3]
(ابن حزمؒ ، صدیق حسن خانؒ) اسی کے قائل ہیں ۔
[المحلى بالآثار: 189/10 ، الروضة الندية: 174/2]
اس مسئلے میں فقہا نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ) پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ، امام عطاءؒ ، امام طاؤسؒ ، حضرت سعید بن جبیرؒ ، حضرت عروہؒ ، لیث بن سعدؒ اور ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔
(جمہور، ابو حنیفہؒ ، مالکؒ) تھوڑا یا زیادہ جتنا بھی دودھ پی لے حرمت ثابت ہو جائے گی خواہ ایک مرتبہ ہی پیے ۔
(اسحاقؒ ، ابو عبیدہؒ ، ابوثورؒ ، ابن منذرؒ) تین مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ کا یہی موقف ہے۔
[الأم: 26/5 ، المغنى: 310/11 ، المدونة الكبرى: 413/2 ، تحفة الأحوذى: 342/4 ، فتح البارى: 50/9 ، نيل الأوطار: 414/4]
تین رضعوں کے قائل حضرات کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحرم المصة ولا المصتان
”ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔“
[مسلم: 1450 ، كتاب الرضاع: باب فى المصة والمصتان ، ابو داود: 2063 ، ترمذي: 1150 ، ابن ماجة: 1940 ، أحمد: 31/6 ، سعيد بن منصور: 277/1 ، أبو يعلى: 239/8]
➋ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان
”ایک مرتبہ دودھ پینے اور دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
ولا تحرم الإملاجة ولا الإملا جتان
”پستان کو ایک مرتبہ منہ میں ڈالنے یا دو مرتبہ منہ میں ڈالنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔“
[مسلم: 1451 أيضا ، ابن ماجة: 1940 ، نسائي: 100/6 ، عبد الرزاق: 469/7 ، طبراني كبير: 22/25 ، بيهقي: 455/7]
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ محض ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے تو حرمت ثابت نہیں ہوتی لٰہذا تین مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہو جائے گی۔ لیکن در حقیقت یہ مفہومِ مخالف کے ذریعے استدلال کیا گیا ہے اور مفہوم مخالف منطوق کے مقابلے میں حجت نہیں جیسا کہ اصول میں یہ ثابت ہے۔ لٰہذا اگر غور کیا جائے تو یہ احادیث بھی خمس رضعات والی حدیث کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ ان میں یہ مذکور ہے کہ دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو یہ اس حدیث میں بھی شامل ہے۔ البتہ اس میں وضاحت آ گئی ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے لٰہذا اس پر عمل کیا جائے گا۔
جمہور اپنے موقف کے لیے اس آیت:
وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ [النساء: 23]
”اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے ۔“
کے عموم سے استدلال کرتے ہیں اور احناف خبر واحد کے ذریعے قرآن کے اس قطعی حکم میں تخصیص جائز نہیں سمجھتے۔ (حالانکہ یہ آیت عام ہے اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا خاص ہے اور عام کو خاص پر محمول کرنا واجب ہے خواہ خبر واحد ہو یا متواتر) ۔
علاوہ ازیں اپنے مفاد کی خاطر بعض اوقات احناف بھی خبر واحد کے ذریعے قرآن کی تخصیص کر لیتے ہیں جیسا کہ قرآن میں حق مہر کے متعلق ارشاد ہے کہ :
أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم [النساء: 24]
”کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو۔“
یہ آیت عام ہے جبکہ ایک روایت میں ہے:
لا مهر أقل من عشرة دراهم
”دس درہموں سے کم حق مہر نہیں ۔“
اب یہاں احناف اس روایت کے ذریعے قرآن کے عام حکم کی تخصیص کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی خبر واحد ہے مزید برآں یہ روایت ضعیف بھی ہے پھر بھی اسے حجت سمجھتے ہیں۔
گذشتہ تمام بحث سے ثابت ہوا کہ پہلا (یعنی امام شافعیؒ کا ) موقف راجح ہے لہذا اسی پر عمل کیا جائے۔
دودھ کی موجودگی کے یقین کے ساتھ اور بچے کا دودھ ابھی چھڑایا نہ گیا ہو
جیسا کہ ایک روایت میں مذکور ہے کہ :
رضعات معلومات……
یعنی ایسے رضعے جو معلوم ہوں کیونکہ رضاعت کا حکم تب ہی ثابت ہو سکتا ہے جب دودھ موجود ہو اور پھر بچے کا اسے پینا بھی متحقق ہو۔
➊ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتریوں کو کھول دے:
و كان قبل الفطام
”اور دودھ چھڑانے کی مدت (یعنی دو سال کی عمر) سے پہلے ہو ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 2150 ، ترمذي: 1152 ، كتاب الرضاع: باب ما جاء ما ذكر أن الرضاعة لا تحرم إلا فى الصغر دون الحولين ، نسائي فى الكبرى: 301/3 ، ابن حبان: 1250 – الموارد]
➋ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
لا رضاع بعد فصال ويتم بعد احتلام
”دودھ چھڑانے کی مدت کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور احتلام کے بعد کسی کو یتیم نہیں سمجھا جائے گا۔“
[حسن: إرواء الغليل: 1244 ، طبراني صغير: 158/2 ، ابو داود طيالسي: 1767]
➌ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :
لا رضاع إلا فى الحولين
”کوئی رضاعت معتبر نہیں سوائے اس رضاعت کے جو دو سال کے دوران ہو ۔“
[دارقطني: 173/4 ، سعيد بن منصور: 974 ، بيهقى: 442/7 ، عبد الرزاق: 1390/3]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”ضرور غور کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں:
فإنما الرضاعة من المجاعة
”کیونکہ رضاعت اسی وقت معتبر ہے جب بھوک کے وقت دودھ پیا جائے ۔“
[بخاري: 5102 ، كتاب النكاح: باب من قال لا رضاع بعد حولين ، مسلم: 1455 ، أحمد: 94/6 ، ابو داود: 2058 ، ابن ماجة: 1945 ، ابن الجارود: 691 ، شرح السنة: 65/5]
اگرچہ دودھ پلانے کی مدت نص قرآن
حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ [البقرة: 233]
”مکمل دو سال“
سے ثابت ہے لیکن اس کے باوجود اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔
(شافعیؒ ، مالکؒ ، ابو یوسفؒ ، محمدؒ) مدتِ رضاعت دو سال ہے۔ حضرت عمر ، حضرت ابن عباس ، حضرت ابن مسعود ، حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت عائشہ کے علاوہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم ، امام شعبی ، امام اوزاعی ، امام اسحاق اور ابو ثور رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی یہی موقف مروی ہے۔
(ابو حنیفہؒ) مدتِ رضاعت اڑھائی سال ہے (ان کی دلیل یہ آیت ہے
وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا [حقاف: 15]
حالانکہ اس آیت میں بھی مدت رضاعت دو سال ہی ہے جبکہ مزید چھ ماہ حمل کی کم از کم مدت ہے۔
مدت رضاعت تین سال ہے۔
[المغنى: 319/11 ، نيل الأوطار: 417/4 ، الأم: 29/5 ، المبسوط: 135/5 ، بداية المجتهد: 36/2 ، تفسير اللباب فى علوم الكتاب: 170/4 ، تفسير الرازي: 101/6 ، تفسير بغوي: 21231 ، تفسير الدر المنثور: 513/1]
(راجح) پہلا موقف راجح ہے اور گذشتہ تمام دلائل اس کا ثبوت ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔