سوال:
رضاعت ایک عورت کی شہادت سے ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:
اگر دودھ پلانے والی عورت اکیلی گواہی دے دے، تو یہ گواہی قبول ہے، اس سے رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
❀سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”میں نے ابواہاب کی بیٹی سے شادی کی ، کالے رنگ کی ایک عورت آ کر کہنے لگی : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (کی بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔“
(صحيح البخاري : 2659)