مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رشوت کیا ہے اور اس کی شرعی حیثیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

رشوت کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن وسنت کی رو سے جواب عنایت فرمائیں۔

جواب :

رشوت کا شرعی حکم معلوم کرنے سے پہلے اس کی تعریف جانا ضروری ہے کہ رشوت کیا چیز ہے اور شرع کی اصطلاح میں رشوت کے کہتے ہیں؟ علامہ شریف جرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الرشوة ما يعطى لإبطال حق أو إحقاق باطل
(كتاب التعريفات (116))
”جو چیز حق کو باطل اور باطل کو حق کرنے کے لیے دی جائے اسے رشوت کہتے ہیں۔“
صاحب المصباح المنیر لکھتے ہیں:
ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد
(المصباح المنير للفيومي (228))
”جو آدمی حاکم وغیرہ کو کوئی چیز اس غرض سے دے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے، یا حاکم کو اپنی مرضی پر ابھارے، وہ رشوت ہے۔“
تقریباً یہی تعریف شیخ محمد تھانوی نے کشاف اصطلاحات الفنون (86/3) میں نقل کی ہے۔ نیز دیکھیں تاج العروس (150/10) علامہ ابن الاثیر جزری لکھتے ہیں
الرشوة (بالكسر والضم) الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة قال وأما ما يعطى توصلا إلى أحد حق أو دفع ظلم فغير داخل فى الرشوة
(والنهاية في غريب الحديث والأثر (266/2)، نیز دیکھیں جامع المقاصد (ص 363))
رشوت (راہ کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) خاطر مدارات کے ذریعہ حاجت کو پہنچنا۔ بہر کیف حق لینے یا ظلم کو دفع کرنے کے لیے جو دیا جاتا ہے وہ رشوت کی تعریف میں داخل نہیں ہے۔“
حافظ الحدیث امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالٰی نے قرآن حکیم میں سورۃ البقرہ (188) کے اندر جو فرمایا ہے: اپنے اموال کو آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور اسے حاکموں کی طرف نہ پہنچاؤ، تا کہ گناہ کے ذریعے تم لوگوں کے اموال میں سے ایک حصہ کھا جاؤں حالانکہ تم جانتے ہو اس کا مطلب یہ ہے: ”لا تصانعوهم بها ولا ترشوهم ليقتطعوا لكم حقا لغيركم وأنتم تعلمون أن ذلك لا يحل لكم“ تم اپنے مالوں کے ساتھ حاکموں کی خاطر مدارات نہ کرو اور نہ انھیں رشوت دو تا کہ وہ تمھارے غیر کا حق کاٹ کر تمھیں دے دیں، حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ تمھارے لیے حلال نہیں ہے۔“ پھر اس کی حرمت پر کچھ احادیث ذکر کر کے آگے فرماتے ہیں:
إنما تلحق اللعنة الراشي إذا قصد بها أذية مسلم أو ليدفع له بها ما لا يستحق أما إذا أعطى ليتوصل إلى حق له أو ليدفع عن نفسه ظلما فإنه غير داخل فى اللعنة، أما الحاكم فالرشوة عليه حرام سواء أبطل بها حقا أو دفع بها ظلما والرائش وهو الساعي بالرشوة تابع للراشي فى قصده إن قصد خيرا لم تلحقه اللعنة وإلا لحقته
(كتاب الكبائر الذهبي (143 و 142))
رشوت دینے والے پر لعنت اس وقت ہوگی جب وہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانے یا اس کے لیے ایسی چیز کو دور کرنے کا قصد کرے جس کا اسے حق نہیں اور جب اپنے حق تک پہنچنے کے لیے، یا اپنی جان سے ظلم بنانے کے لیے کچھ دے تو وہ لعنت میں داخل نہیں۔ حاکم پر رشوت حرام ہے، خواہ وہ اس کے ذریعے حق کو باطل کرے یا ظلم کا دفعہ کرے۔ رشوت دینے اور لینے والے کے درمیان دوڑ دھوپ کرنے والا اگر رشوت دینے والے کے ساتھ خیر کے ارادے کے ساتھ کوشش کرے تو لعنت کا مستحق نہیں، ورنہ وہ بھی ملعون ہوگا۔“
مذکورہ بالا ائمہ کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا حق مار کر اپنے حق میں فیصلہ کروانے کی غرض سے جو مال دیا جاتا ہے وہ رشوت ہے اور رشوت لینے والا، دینے والا اور درمیان میں رشوت کی وکالت کرنے والا حکم میں برابر ہیں، اور اگر کسی آدمی کو اپنا حق نہ مل رہا ہو اور اسے کچھ دینے پر مجبور کر دیا گیا ہو تو اس صورت میں لینے والا مجرم ہے، حاکم کو کسی صورت میں بھی ایسا مال وصول نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ اس پر حرام ہے۔ رشوت کا مفہوم بڑے بڑے ائمہ لغات، مفسرین اور شارحین حدیث نے لکھا ہے۔ اب اس کے بارے قرآن وسنت کے دلائل ملاحظہ ہوں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
(البقرة: 188)
” اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق نہ کھاؤ اور نہ انھیں حاکموں تک پہنچاؤ، تا کہ تم لوگوں کے مالوں میں سے کچھ گناہ کے ساتھ کھاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو (کہ یہ تم پر حرام ہے)۔“
اس آیت کریمہ میں تمام امت محمدیہ کو خطاب ہے کہ تم ایک دوسرے کے اموال ناجائز طور پر نہ کھاؤ، اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق کا انکار، مالک کی مرضی کے بغیر اس کے اموال کا استعمال، زائنہ کی کمائی، نجومی کی شیرینی، شراب و خنزیر کی قیمتیں، سود اور رشوت وغیرہ تمام محرمات داخل ہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
لا تعطوها الحكام على سبيل الرشوة ليغيروا الحكم
(جامع البيان (ص 362))
”تم اپنے اموال حکام کو رشوت میں نہ دو کہ وہ تمھاری خاطر فیصلے میں تغیر و تبدل کر دیں۔“
امام قرطبی نے بھی تقریباً یہی مفہوم ذکر کیا ہے۔ اسی طرح قرآن حکیم میں یہود کے اوصاف رزیلہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ﴾
(المائدة: 42)
”جھوٹ بنانے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں (اس کے علاوہ) حرام خور بھی ہیں۔“
مسروق کہتے ہیں:
سألت عبد الله يعني ابن مسعود عن السحت فقال الرشاء وسألته عن الجور فى الحكم فقال ذلك الكفر
(بیہقی (139/10 ج: 20179))
”میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ”سحت“ کے بارے پوچھا تو انھوں نے کہا اس سے مراد رشوت ہے اور میں نے فیصلہ میں جور و ستم کے بارے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا یہ کفر ہے۔“

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔