مضمون کے اہم نکات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی کا عمل: رفع یدین
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين ، أما بعد:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے، یہ حدیث بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہم نے بیان کی اور یہ حدیث متواتر ہے۔ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے پانچ صحابہ کی روایات مع تحقیق ، تبصرہ و فوائد پیش خدمت ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں آپ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے اور آپ کی وفات کے وقت مدینہ طیبہ میں موجود تھے:
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلى بنا النبى صلى الله عليه وسلم العشاء فى آخر حياته فلما سلم قام … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دور میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے ۔ (صحیح بخاری ج 1 ص22 ح 116، کتاب العلم باب السمر بالعلم، صحیح مسلم ج 2 ص 310 ح 2537)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں آپ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری جب زیادہ ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ابو بکر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ الخ (صحیح بخاری: 682)
یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دور اور آخری دنوں کا واقعہ ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام فى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه و كان يفعل ذلك حين يكبر للركوع و يفعل ذلك إذا رفع رأسه من الركوع …
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کندھوں تک رفع یدین کرتے، رکوع کرتے وقت بھی آپ اسی طرح کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 102 ح 736، صحیح مسلم ج 1 ص 168 ح 390، ترقیم دار السلام: 862 وعنده: إذا قام للصلاة)
راوی کا عمل: اب اس حدیث پر اسی حدیث کے راوی کا عمل پیش خدمت ہے:
➊ امام سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ نے فرمایا: رأيت أبى يفعله
میں نے اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کام (شروع نماز میں رفع یدین، رکوع کے وقت رفع یدین اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین) کرتے ہوئے دیکھا۔ (حدیث السراج ج 2 ص 34-35 ح 115، وسندہ صحیح)
➋ امام نافع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے تھے، جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب سمع اللہ لمن حمده کہتے تو رفع یدین کرتے تھے … الخ (صحیح بخاری: 739 وسندہ صحیح، شرح السنة للبغوی21/3 ح 560 وقال: هذا الحديث صحيح)
➌ محارب بن دثار رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو رفع یدین کرتے تھے)۔ (جزء رفع الیدین للبخاری: 48 وسندہ صحیح)
➍ ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس المکی رحمہ اللہ نے فرمایا: رأيت ابن عمر و ابن الزبير يرفعان أيديهما إذا ركعا و إذا رفعا میں نے ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ رکوع کے وقت اور (رکوع سے) اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (کتاب العلل للاثرم بحوالہ التمہید 9/217 وسندہ حسن)
یاد رہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیدا ہوئے تھے اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی کے گواہ ہیں۔
ان صحیح و ثابت روایات کے مقابلے میں کسی ایک بھی صحیح یا حسن روایت کے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین ثابت نہیں اور اس سلسلے میں حنفیہ کی پیش کردہ دونوں روایتیں ضعیف و مردود ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
➊ ابن فرقد : أخبرنا محمد بن أبان بن صالح عن عبد العزيز بن حكيم قال: رأيت ابن عمر يرفع يديه حذاء أذنيه فى أول تكبيرة افتتاح الصلاة ولم يرفعهما فيما سوى ذلك. (موطا ابن فرقد 1/140-141 ح 108، ط مکتبۃ البشری کراچی)
اس روایت کی سند دو وجہ سے مردود ہے:
اول: ابن فرقد جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔ (دیکھئیے تحقیقی مقالات 2/341۔364)
دوم: محمد بن ابان بن صالح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح راوی ہے۔ (دیکھئیے تحقیقی مقالات 3/126)
➋ ابو بکر بن عیاش عن حصین عن مجاهد الخ (شرح معانی الآثار 1/225، نصب الراية 1/409)
یہ روایت ابو بکر بن عیاش (صدوق حسن الحدیث و ثقہ الجمہور) کی غلطی اور وہم کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: یہ باطل ہے۔ (مسائل احمد، روایۃ ابن ہانی 50/1)
امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ابو بکر کی حصین سے روایت اس کا وہم ہے، اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔ (جزء رفع الیدین للبخاری: 16، نصب الراية 392/1)
امام دارقطنی نے فرمایا: قاله أبو بكر بن عياش عن حصين وهو وهم منه أو من حصين (العلل ج 13 ص 16 سوال 2902)
قاری ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ جو جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں، ان کے بارے میں ان کے شاگرد امام ابو نعیم الفضل بن دکین الکوفی رحمہ اللہ نے فرمایا: لم يكن من شيوخنا أكثر غلطا من أبى بكر بن عياش ہمارے استادوں میں ابو بکر بن عیاش سے زیادہ غلطیاں کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ (تاریخ بغداد 14/378 وسندہ صحیح)
امام ترمذی نے ایک جگہ فرمایا: و أبو بكر بن عياش كثير الغلط (سنن ترمذی: 2567)
ثابت ہوا کہ ابو بکر بن عیاش کی ترک رفع یدین والی روایت غلط، وہم اور ضعیف ہے اور ان کی باقی روایات (سوائے اس روایت کے جس پر خاص جرح ثابت ہو) حسن ہیں۔
راوی سے راوی یعنی تابعی کا عمل:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درج ذیل شاگرد بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے:
◈ سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ
(حدیث السراج 2/34-35 ح 115، وسندہ صحیح، جزء رفع الیدین للبخاری: 62 وسندہ حسن)
◈ طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ
(السنن الکبری للبیہقی 2/74 وسندہ صحیح، الجامع لأخلاق الراوی و آداب السامع 1/118 ح 101، من اجتزأ بالسماع النازل مع كون الذي حدث عنه موجودا، دوسرا نسخہ 1/175 ح 104)
② سیدنا انس بن مالک الانصاری المدنی رضی اللہ عنہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بیماری میں فوت ہوئے، اس( بیماری کے دنوں) میں ابو بکر( رضی اللہ عنہ) انہیں نماز پڑھاتے تھے، حتی کہ سوموار کے دن جب نماز میں صفیں قائم تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ ہٹایا، آپ ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ الخ
(صحیح بخاری: 680 کتاب الاذان باب اهل العلم والفضل احق بالامامت، صحیح مسلم: 419، ترقیم دارالسلام: 944)
آپ اسی دن فوت ہو گئے تھے، لہذا ثابت ہوا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن بھی مدینہ طیبہ میں آپ کے قریب موجود تھے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے انس! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم( کی قبر) پر مٹی ڈالتے وقت تمھارے دل راضی تھے؟ (صحیح بخاری: 4462)
ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی انس رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود تھے اور آپ کو حجرہ مطہرہ و روضہ الجنہ کی قبر میں دفن کرنے والوں میں شامل تھے، یعنی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی کے گواہ ہیں۔
امام ابو یعلی الموصلی رحمہ اللہ نے فرمایا: حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة : حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حميد الطويل عن أنس قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه إذا افتتح الصلاة و إذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع.
انس (رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے، جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ (مسند ابی یعلی 6/424-425 ح 1038، وسندہ صحیح)
حمید الطویل ثقہ مدلس ہیں لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے عن والی روایت بھی صحیح ہوتی ہے، لہذا یہاں تدلیس کا اعتراض کرنا غلط ہے۔ (دیکھیے تحقیقی مقالات 5/215-217)
راوی کا عمل:
➊ عاصم الاحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، آپ رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین للبخاری: 20 وسندہ صحیح)
➋ حمید الطویل (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ انس( رضی اللہ عنہ) جب نماز میں داخل ہوتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 1/235 ح 2433 وسندہ صحیح)
یاد رہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین ہرگز ثابت نہیں۔
③ سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بیماری میں فوت ہوئے، اس میں لوگوں کو ابو بکر (الصدیق رضی اللہ عنہ) نمازیں پڑھاتے تھے اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس دن بھی ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تھی۔ (دیکھیے صحیح بخاری: 680 صحیح مسلم: 419، دار السلام 944)
سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ آپ نماز شروع کرتے وقت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/73 وقال: رواته ثقات، المهذب في اختصار السنن الكبير للذہبی 2/49 ح 1943، وقال: رواته ثقات، الخصائص الحبير لابن حجر العسقلانی 1/219 ح 328 وقال: ورجاله ثقات قلت: وسندہ صحیح)
تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب نور العینین (ص 120-121)
راوی کا عمل:
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ آپ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/73 وسندہ صحیح)
یاد رہے کہ سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین قطعاً ثابت نہیں اور اس سلسلے میں محمد بن جابر الیمامی کی روایت اس کے ضعیف و مجروح ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔ محمد بن جابر کے بارے میں حافظ ہیثمی نے فرمایا: وهو ضعيف عند الجمهور اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد 5/191)
④ سیدنا ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ
سیدنا ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ابو بکر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ الخ
پس آپ (ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ (صحیح بخاری: 678 صحیح مسلم: 420، دار السلام: 948)
سیدنا ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بتائی تو رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کیا۔ (دیکھیے سنن دار قطنی 1/292 ح 1111، وسندہ صحیح، نور العینین ص 118-119)
راوی کا عمل:
حطان بن عبد اللہ الرقاشی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کیا۔ (سنن دار قطنی 1/292 ح 1111 ملخصاً وسندہ صحیح)
⑤ سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے تین( دن) پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ کے ساتھ صرف حسن ظن کی حالت میں ہی تمھیں موت آنی چاہیے۔ (صحیح مسلم: 2877، دار السلام: 7231، 7229)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں، جس میں آپ فوت ہوئے تھے کاغذ منگوایا تاکہ اپنی امت کے لیے کچھ تحریر لکھوا دیں، نہ تو لوگ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں۔ پھر جب گھر میں شور ہوا اور باتیں ہوئیں تو عمر بن خطاب( رضی اللہ عنہ )نے کلام کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ (طبقات ابن سعد 2/243 وسندہ صحیح)
یعنی آخری دور میں تحریر لکھوانے والی حدیث منسوخ ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا یعنی آپ شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (مسند السراج ص 39 ح92 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ ص 62-63 سنن ابن ماجہ: 868)
راوی کا عمل:
ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس المکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، جابر (رضی اللہ عنہ) شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (مسند السراج: 92 وسندہ حسن)
ان کے علاوہ دیگر صحابہ کی روایات بھی موجود ہیں۔ مثلاً:
➊ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت مدینہ میں موجود تھے، بلکہ اتنے پریشان ہوئے تھے کہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین نہیں آ رہا تھا اور بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سمجھانے پر رجوع کیا اور تلوار پھینک دی۔
رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کے لیے دیکھیے شرح سنن الترمذی لابن سید الناس (مخطوط 2/217) نور العینین (ص 195-196) اور الجامع لأخلاق الراوی و آداب السامع (1/118 ح 101)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اپنے عمل کے لیے دیکھیے الخلافات للبیہقی (بحوالہ النفح الشذی شرح جامع الترمذی لابن سید الناس الیعمری مطبوع 4/390)
یاد رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین ثابت نہیں اور اس سلسلے میں بعض حنفیہ کی پیش کردہ روایت ابراہیم نخعی مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➋ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دنوں کی احادیث بیان کیں۔ مثلاً دیکھیے صحیح بخاری (4432، 4443، 4444، 4454، 4455-4457، 5478) اور طبقات ابن سعد (2/252 وسندہ حسن)
ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میں نے( عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ آپ شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ نسخہ محمد عوامہ 2/411 ح 2446 نسخه حم الجمعه واللحيد ان 2/63 ح 2443، جزء رفع الیدین للبخاری: 21)
درج ذیل کتابوں میں ابو حمزہ کے بجائے ابو جمرہ لکھا ہوا ہے:
مصنف ابن ابی شیبه (ط 1966 م ج 1 ص 235 وفی هامشه: ابو حمزه) وبعض النسخ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے دو شاگرد درج ذیل ہیں:
◈ ابو حمزہ القصاب (تہذیب الکمال 4/178 قلمی ج 2 ص 699)
عمران بن ابی عطاء الاسدی مولاهم، الواسطی (تقریب التہذیب: 5162)
⋆ صدوق وثقه الجمهور
◈ ابو جمرہ الضبعی (تہذیب الکمال قلمی ج 2 ص 699)
نصر بن عمران بن عصام البصری (تقریب التهذیب: 7122) ثقه ثبت
یہاں ان دونوں میں پہلے راوی یعنی ابو حمزہ القصاب مراد ہیں، جس کی دو دلیلیں درج ذیل ہیں:
اول: عمران بن ابی عطاء کے شاگردوں میں ہشیم اور ہشیم کے استادوں میں عمران بن ابی عطاء کا نام ہے، جبکہ نصر بن عمران کے شاگردوں میں ہشیم یا ہشیم کے استادوں میں نصر بن عمران کا نام نہیں ملا۔ دیکھیے تہذیب الکمال
دوم: مصنف عبدالرزاق (69/2 ح 2523 دوسرا نسخہ: 2526) میں ہشیم کی اسی روایت میں” ابو حمزہ مولی بنی اسد“ کی صراحت ہے اور عمران بن ابی عطاء اسدی ہیں جبکہ نصر بن عمران کا اسدی ہونا ثابت نہیں۔
لطیفہ: دیوبندی قافلہ باطل کے ایک لکھاری شبیر احمد (دیوبندی) نے لکھا ہے:
ابو جمرہ سے روایت ہے کہ…
اس سے غیر مقلدین کا” مذہب“ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ: 1: اس کی سند میں ابو جمرہ (ج کے ساتھ) مجہول ہے اس لیے سند صحیح نہیں۔ (نسخہ دہلی، اسوہ ص 27)
افسوس کہ غیر مقلدین نے تحریف کر کے اس کو ابو حمزہ بنا دیا ہے۔ (جزء رفع یدین مترجم از حضرت اوکاڑوی ص 279) (قافلہ جلد 6 شماره 3 ص 31)
عرض ہے کہ اہل حدیث نے تحریف نہیں کی بلکہ مصنف ابن ابی شیبہ کے کئی نسخوں میں ابو حمزہ لکھا ہوا ہے اور باقی تفصیل ابھی گزر چکی ہے۔ محمد عوامہ (غالی حنفی تقلیدی) کے نسخے میں بھی ابو حمزہ ہی ہے، لہذا اگر تحریف کا الزام لگانا ہے تو اپنے” بزرگوں“ پر لگائیں۔ اگر اس سند میں ابو جمرہ راوی ہیں تو پھر یہ سند بالکل صحیح ہے اور ابو جمرہ کو شبیر احمد جیسے جاہل شخص کا ”مجہول“ کہنا کیا حیثیت رکھتا ہے؟
اگر اس میں ابو حمزہ راوی ہیں تو یہ سند حسن لذاتہ ہے۔
کیا آل دیوبند میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو شبیر احمد دیوبندی کو سمجھائے کہ جاہل ہو کر ”مفتی“ بننے کی کوشش نہ کرو، ورنہ رسوائی اور ذلت کا بھانڈا عین چوک میں پھوٹ جائے گا اور ”بے عزتی“ مزید خراب ہو جائے گی۔
قارئین کرام! سیدنا مالک بن الحویرث اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہم کی بیان کی احادیث بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی پر ہی محمول ہیں۔
➌ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نماز کے بارے میں فرماتے تھے: اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں بے شک تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ (سنن نسائی: 1157 صحیح بخاری: 803)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (رکوع کے لیے) جھکتے وقت اور ہر (رکوع سے) اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور فرماتے تھے: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہوں۔ (المخلصیات 2/139 ح 1229، وسندہ حسن)
یہ حدیث مرفوع بھی ہے اور موقوف بھی، نیز سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ وہ تکبیر تحریمہ، رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت اور رکوع سے اٹھ کر رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین للبخاری: 22 وسندہ صحیح)
اس روایت کو مد نظر رکھ کر اوپر والی روایت کی بریکٹوں میں رکوع کے لیے اور رکوع سے کا اضافہ کیا گیا ہے، کیونکہ حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے۔
ہم نے اس تحقیقی مضمون میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی کا مشاہدہ کرنے والے صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین روایت کیا اور آپ کی وفات کے بعد ان صحابہ نے رفع یدین پر عمل کیا، جبکہ ترک رفع یدین یا نسخ رفع یدین کسی صحیح یا حسن لذاتہ سند کے ساتھ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی سے ثابت ہے، لہذا بعض الناس کا رفع یدین کو متروک یا منسوخ قرار دینا غلط و باطل ہے۔
وما علينا إلا البلاغ (13/ شوال 1433ھ بمطابق 1/ ستمبر 2012ء)