سوال
آج کل یہ رواج بن چکا ہے کہ کسی سرمایہ دار شخص کے بیٹے یا پوتے کی رسم طہر (ختنہ) کے موقع پر شادی کی طرح بڑی دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بعض اوقات غیر شرعی امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ تو ایسی محفلوں میں شریک ہونا اور ان کی دعوت قبول کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مسئلہ مذکورہ میں حکم یہ ہے کہ اگر ایسی تقریب میں:
◈ ڈھول بجائے جائیں،
◈ عورتیں گانے گائیں،
◈ مختلف قسم کی رسومات و بدعات ہوں،
◈ اور فحش اعمال کا ارتکاب ہو،
تو ایسی شادی یا محفل میں شرکت کرنا اور ان کی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدۃ:۲)
’’نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘
احادیث مبارکہ سے دلائل
✿ فاسقین کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا گیا ہے:
((عن عمران بن حصين قال نهى رسول الله صلي الله عليه وسلم عن اجابة طعام الفاسقين.))
اخرجه الطبرانى فى الاوسط، جلد١، صفحہ١٣٨، رقم الحديث:٤٤١، ط: بيروت
✿ لعنت کی گئی ان اعمال پر جو اللہ کی نافرمانی پر مبنی ہیں:
((عن علی رضی الله عنه قال حدثنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع كلمات لعن الله من لعن والديه ولعن الله من ذبح لغيرالله ولعن الله من اوى محدثا ولعن الله من غير منارالأرض.))
صحيح مسلم: كتاب الاضاحی، باب تحريم الذبح لغيرالله تعالى ولعن فاعله، رقم الحديث:٥١٢٤
✿ بدعتیوں کی تعظیم کرنا اسلام کی بربادی میں مدد ہے:
((عن ابراهيم بن ميسرة مرسلا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من وقر صاحب بدعة فقد اعان علي هدم الاسلام.))
البيهقى فى شعب الايمان، جلد٧، صفحہ٦١، رقم الحديث:٩٤٦٤، ط: بيروت
خلاصہ
لہٰذا، ایسی تقریبات میں شرکت کرنا اور ان کی دعوت کو قبول کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ گناہ اور بدعات میں تعاون کے مترادف ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب