رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے ، تو عدت ہوگی ؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے ، تو عدت ہوگی ؟

جواب:

رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے ، تو عدت نہیں ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ‎﴿٤٩﴾‏
(33-الأحزاب:49)
مؤمنو! جب مومن عورتوں سے نکاح کر لو، پھر دخول سے قبل طلاق دے دو، تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ بس انہیں فائدہ پہنچائیں اور عمدگی کے ساتھ چھوڑ دیں۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء أنه إذا كان الطلاق قبل المسيس والخلوة فلا عدة .
اہل علم کا اجماع ہے کہ اگر خلوت اور مجامعت سے پہلے طلاق ہو جائے ،تو عورت پر کوئی عدت نہیں ۔
(زاد المسير : 472/3)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
هذا أمر مجمع عليه بين العلماء أن المرأة إذا طلقت قبل الدخول بها لا عدة عليها فتذهب فتتزوج فى فورها من شاء ت، ولا يستثنى من هذا إلا المتوفى عنها زوجها، فإنها تعتد منه أربعة أشهر وعشرا، وإن لم يكن دخل بها بالإجماع أيضا .
علمائے کرام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ غیر مدخولہ کی طلاق کی کوئی عدت نہیں ، وہ جس سے چاہے شادی کر سکتی ہے ۔ ہاں وہ عورت اس حکم سے خارج ہے، جس کا خاوند فوت ہو جائے ، کیوں کہ اس پر بھی اجماع ہے کہ خواہ وہ غیر مدخولہ ہی کیوں نہ ہو، چار مہینے دس دن عدت گزارے گی ۔
(تفسير ابن كثير : 194/5 )

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے