رفع الیدین پرسیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث
➋ وعن نافع أن ابن عمر كان إذا دخل فى الصلوة كبر ورفع يديه وإذا ركع رفع يديه وإذا قال (سمع الله لمن حمده) رفع يديه وإذا قام من الركعتين رفع يديه ورفع ذلك ابن عمر إلى النبى صلى الله عليه وسلم
نافع (تابعی رحمہ الله) روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی الله جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور جب سمع الله لمن حمدہ کہتے تو دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور جب دورکعتوں سے اُٹھتے تو دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور ابن عمر اپنے اس عمل کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرتے۔
(صحیح بخاری 102/1 حدیث 739، مشکوۃ ص 75 ح 794 شرح النبي للبغوی 21/3 ح 560 وقال: هذا الحديث صحیح / محمد ابن تیمیة فی الفتاوی الکبری 105/2، و مجموع فتاولی 453/22 نیز محمد یوسف بنوری دیوبندی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے (معارف السنن 457/2) اور ابن خزیمہ سے اس کی تصحیح نقل کی ہے۔)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء کے نزدیک عبدالاعلیٰ ثقہ ہے۔ صرف ابن سعد کاتب الواقدی نے اس پر جرح کی جس کو حافظ ابن حجر نے مردود قرار دیتے ہوئے کہا:
هذا جرح مردود غير مبين السبب ولعله بسبب القدر وقد احتج به الأئمة كلهم
یہ جرح مردود ہے، غیر واضح ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مسئلہ تقدیر کے سبب یہ بات کی گئی ہو اور تمام اماموں نے عبدالاعلیٰ کی حدیث سے حجت پکڑی ہے۔
(ہدی الساری ص 415)
حافظ ذہبی نے الکاشف (130/2) میں اسے ”ثقة لكنه قدري“ لکھا اور سیر اعلام النبلاء میں کہا: ”تقرر الحال أن حديثه من قسم الصحيح“ یہ بات اس پر ٹھہر گئی ہے کہ عبدالاعلیٰ کی حدیث صحیح حدیث کی قسم سے ہوتی ہے۔ (243/9)
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ کی روایت کے چند شواہد ملاحظہ فرمائیں:
شاہد نمبر 1:
عفان و حجاج بن منهال عن حماد بن سلمة عن أيوب عن نافع عن ابن عمر به (تغلیق التعلیق لابن حجر 2 / 305 والسنن الکبری للبیہقی )
حماد ثقہ تھے۔ (الجرح والتعدیل 142/3 عن ابن معین وسندہ صحیح) ان سے عفان و حجاج بن منہال کی روایت صحیح مسلم میں موجود ہے۔ [تہذیب الکمال للمزی مطبوع 258/7، 257]
لہذا عفان و حجاج کا ان سے سماع اختلاط سے پہلے کا ہے۔ پس اختلاط کا الزام مردود ہے۔ آپ صحیح مسلم وسنن اربعہ کے مرکزی راوی ہیں مثلا دیکھئے صحیح مسلم ج 1 ص 56 ح 59/110 و ترقیم دار السلام: 214، وج 1 ص 75 ح 119/187 وج 1 ص 91 ح 162/259 وغیره، حماد بن سلمہ پر جرح مردود ہے۔
امام یحییٰ بن معین نے کہا: ”حماد بن سلمة ثقة“ حماد بن سلمہ قابل اعتماد راوی ہیں۔
(الجرح والتعدیل 142/3 وسندہ صحیح، نیز دیکھئے تاریخ الدارمی: 37 وسوالات ابن الجنید: 172 اوقال: هفته ثبت)
العجلي المعتدل نے کہا: بصري ثقة، رجل صالح، حسن الحديث (التاریخ بترتیب الہیشمی والسبکی: 354)
یعقوب بن سفیان الفارسی یا حجاج بن منہال) نے کہا: ”وهو ثقة“ [کتاب المعرفة والتاريخ 2 /661]
انھیں درج ذیل محدثین نے بھی ثقہ وصحیح کہا ہے:
➊ احمد بن حنبل (سوالات ابن ہانی: 3131،2130 و موسوعة اقوال الامام احمد بن حنبل 1/299)
➋ ابن حبان [کتاب الثقات 216/6 صحیح ابن حبان الاحسان: 50،22،14]
➌ ابن شاہین [ذکر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ص 41]
➍ الترندی [1238،307،72]
➎ ابن الجارود [46، 124،107]
➏ الحاکم (608/2 ح 4205 و غیره]
➐ ابن خزیمہ ]208/1 ح 400 وح 1412،360]
➑ الساجي كان حافظا ثقة مامونا [تهذيب التهذيب 15/3]
حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ الإمام الحافظ شيخ الإسلام [تذکرة الحفاظ 202/1ت 197]
ولم ينحط حديثه عن رتبة الحسن اور اس کی حدیث حسن کے درجے سے نہیں گری ہے۔ (سیر اعلام العلام النبلاء 446/7)
حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں: ثقة عابد أثبت الناس فى ثابت، وتغير حفظه بأخرة
ثقہ عابد تھے، ثابت (البنانی) سے روایت کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ ثقہ ہیں، آپ کا حافظہ آخری عمر میں متغیر ہو گیا تھا۔ [تقریب التہذیب:1499]
صحیحین میں جس مختلط و متغیر الحفظ راوی سے استدلال کیا گیا ہے اس کی دلیل ہے کہ اس کے شاگردوں کی روایات اختلاط سے پہلے کی ہیں (الا یہ کہ تخصیص ثابت ہو جائے)۔
دیکھئے مقدمہ ابن الصلاح ص 466 دوسرا نسخه 499
خلاصہ یہ کہ روایت مذکورہ پر اختلاط کی جرح مردود ہے کیونکہ یہ اختلاط و تغیر سے پہلے کی ہے (والحمد لله)
شاهد نمبر 2:
إبراهيم بن طهمان عن أيوب بن أبى تميمة و موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر به مختصرا تعليق العليق 306/2 والسفن الكبرى للمتقی 70/2
مختصراً کا مطلب یہ ہے کہ حماد بن سلمہ اور ابراہیم بن طہمان کی روایتوں میں تین مقامات پر رفع الیدین کا ذکر ہے۔ دور کعتیں پڑھ کر اُٹھتے وقت رفع الیدین کا ذکر نہیں اور یہ مسلم ہے کہ عدم ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔
ابراہیم بن طہمان ثقہ تھے۔ [میزان الاعتدال 38/1]
محدث اسماعیلی کا بعض مجہول و نا معلوم مشائخ سے اس روایت کی تضعیف کرنا مردود ہے۔ صحیح بخاری کی روایات کو ضعیف کہنے کے لیے بڑی دلیری کی ضرورت ہے۔!
امام دارقطنی نے کتاب العلل میں عبدالاعلیٰ کی روایت کو ”الأشبه بالصواب“ قرار دیا ہے۔
(فتح الباری 176/2)
تنبیہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ترک رفع الیدین بالکل ثابت نہیں ہے۔ ابوبکر بن عیاش وغیرہ کی روایات وہم کی وجہ سے ضعیف و مردود ہیں، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ان شاء الله