راستے میں عورت پر نظر پڑ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا راستے پر چلتے ہوئے اگر کسی عورت پر نظر پڑ جائے تو فوراً نظر پھیر لینی چاہیے یا نہیں؟ اور حدیث میں ہے کہ پہلی نظر معاف ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب :

نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے، غلط نظر انسان کو گمراہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ اس لیے اسے آنکھ کا زنا بھی کہا گیا ہے۔ لہذا اس کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ قرآن حکیم میں نظر کو نیچا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ اسے بچا کر رکھا جائے۔ اگر راستے میں چلتے چلتے کسی عورت پر نظر پڑ جائے تو اسے فوراً پھیر لینا چاہیے، نہ کہ منہ باندھ کر مسلسل دیکھتے جائیں۔ نظر کے پیچھے نظر لگائے رکھنا حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نظر کے پیچھے نظر نہ لگاؤ۔“
(ابو داود، کتاب النكاح، باب ما يؤمر به من غض البصر ح 2148)
اسی طرح مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اپنی نگاہ کو پھیر لو۔“
(مسند أحمد 361/4 ح 19411)
یہ حدیث اس بات پر نص صریح ہے کہ نظر پڑ جائے تو پہلی نظر معاف سمجھ کر دیکھتے ہی نہیں رہنا چاہیے، بلکہ فوراً نگاہ پھیر لینی چاہیے۔ اگر ہر شخص یہ خیال کرے کہ اس کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی پر اگر کوئی شخص اسی طرح نظر ڈالے رہے تو کیا وہ اس بات کو پسند کرے گا؟ جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ جب ایماندار شخص اپنے گھر کی خواتین کے بارے یہ پسند نہیں کرتا تو دوسرے شخص کی ماں، بہن وغیرہ کے بارے میں بھی اسی طرح محتاط رہنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ صحیح شرم و حیا کی دولت سے مالا مال کرے اور نظر کی پراگندگی سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾