دوسری بحث:
دلائل کا جائزہ
رؤیتِ ہلال کی شرعی حیثیت اور حسابِ فلکی کا جائزہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جاننے کے بعد آتے ہیں فریق مخالف کے دلائل کی طرف۔ رؤیت ہلال کی بجائے حساب و منازل قمر پر اعتماد کرنے والے حضرات کا استدلال چند نقلی دلائل اور چند عقلی دلائل سے ہے۔ ذیل میں ان کے بعض اہم نقلی دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ البتہ عقلی دلائل کے ذکر کا یہ موقع نہیں ہے، کیونکہ عقلی دلائل کا محاسبہ کرنے کا معنی ہے کہ مقالہ طول پکڑ جائے گا، تفصیل کے خواہاں حضرات اس موضوع کو مجلہ مجمع الاسلامی عدد دوم جلد دوم میں اور ابحاث ہیئۃ کبار العلماء کی جلد سوم میں دیکھ سکتے ہیں۔
پہلی دلیل : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا له.
صحیح البخاری: 1900، 1906 الصوم۔ صحیح مسلم: 1080 الصوم بروایت عبد اللہ بن عمر۔
جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو اور اگر تم پر بادل چھا جائے تو اس کا اندازہ کرو۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو فاقدروا له اور دوسری حدیثوں میں وارد ہے کہ اگر مطلع ابر آلود ہو توفأكملوا العدة ثلاثين عام طور پر علماء نے دوسری روایت کو پہلی روایت کی تفسیر مانا ہے، لیکن اس رائے کے قائل حضرات کا کہنا ہے کہ دونوں لفظوں میں دو مختلف کے لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ فاقدروا له تو یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو منازل قمر اور علم ہیئت سے واقف ہیں، یعنی ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب مطلع ابر آلود ہو تو قدروه بمنازل القمر منازل قمر کا حساب لگاؤ، اگر منازل قمر کے حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج چاند ظاہر ہونا چاہیے تو دوسرے دن روزہ رکھو، یا افطار کرو اور اگر منازل قمر کے حساب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ میں دن کا ہے تو روزہ نہ رکھو، اور نہ افطار کرو۔
اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ فأكملوا العدة ثلاثين تو یہ خطاب عام لوگوں کے لیے ہے جو منازل القمر اور علم ہیئت وغیرہ سے واقف نہیں ہیں کہ اگر انتیس کی شام کو مطلع ابر آلود ہو تو چونکہ تم لوگ منازل قمر اور اس کے ذریعے حساب نہیں لگا سکتے اس لیے تیس کی تعداد پوری کرو۔
ان حضرات کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ اب امت میں پڑھے لکھے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اور چاند کی خبر دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک بڑی آسانی سے پہنچائی جا سکتی ہے الہذا رؤیت پر اعتماد صرف اسی چھوٹی جماعت کے لیے ہوگا جن تک ابتدائے ماہ کی خبر نہ پہنچائی جا سکتی ہو۔ البتہ جن لوگوں تک یہ خبر آسانی سے پہنچ سکتی ہو، انہیں اہل فلک کی باتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
دیکھئے: اوائل الشہور لاحمد شاکر ص 15، 16۔
اس استدلال پر چند اعتراضات ہیں:
① حدیث مبارک کا یہ ایسا معنی ہے جو قرون اولیٰ میں کسی امام فقیہ اور عالم سے ثابت نہیں۔
(بعض متقد میں جن کا نام اس سلسلے میں لیا جا سکتا ہے، اس کی تحقیق گزر چکی ہے کہ ان اقوال کی حقیقت کیا ہے؟)
بلکہ اس کے خلاف علمائے امت اور فقہاء ملت کا اجماع رہا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
② حدیث و علم حدیث سے تعلق رکھنے والا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کسی حدیث کا معنی متعین کرنے کے لیے سب سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق پر نظر رکھی جاتی ہے، کیونکہ بسا اوقات حدیث ایک سند سے مختصر مروی ہوتی ہے جبکہ کسی دوسری سند سے یا کسی دوسری کتاب میں وہ حدیث مفصل مذکور ہوتی ہے، اسی طرح اس معنی کی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی حدیثوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے، تب جا کر کسی حدیث کا صحیح مفہوم متعین ہوتا ہے، اس اصول کے تحت محدثین اور شارحین حدیث نے زیر بحث حدیث کا معنی متعین کیا ہے۔ چنانچہ علمائے حدیث نے سب نے پہلے مذکورہ حدیث کے دوسرے طرق پر نظر ڈالی، پھر اس معنی میں مروی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات پر غور کر کے اس نتیجے پر پہنچے کہ اس حدیث میں فاقدروا کا معنی ماہ شعبان کے ایام کا شمار کرنا، اندازہ لگانا اور گنتی کے بعد اس کے تیس دن پورے کرنا ہے۔
دیکھئے: التمہید ج 14 ص 352 اور اس کے بعد، فتح الباری ج 4 ص 156، طرح التثریب ج 4 ص 105، عمدۃ القاری ج 10 ص 373 المرعاۃ ج 6 ص 430 اور اس کے بعد نیز دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 208 تا 311۔
واضح رہے کہ تمام اہل لغت نے بھی اس بارے میں ابن سریج کے قول کی مخالفت کی ہے اور فاقدروا کا معنی اندازہ کرنا، مقدار کے مطابق کرنا وغیرہ لکھا ہے، چنانچہ مشہور لغوی ابو منصور الازھری م 370ھ فان غم عليكم فاقدروا له کی تفسیر میں لکھتے ہیں: أى قدروا عدة الشهر واكملوا ثلاثين يوما، پھر ابن سریج کا مخالف قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: والقول الاول عندي أصح وأوضح (تہذیب اللغۃ ج 9 ص 22) صاحب لسان العرب نے بھی ازھری کا یہ قول نقل کیا ہے اور خاموش رہے ہیں۔
لسان العرب ج 5 ص 78
نیز غریب الحدیث کے مؤلفین نے بھی یہی معنی متعین کیا ہے، دیکھئے: غریب الحدیث لابن الجوزی ج 2 ص 223، النھایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر ج 4 ص 23، تفسیر غریب الحدیث لابن حجر ص 192۔
ابن سریج وہ پہلی شخصیت ہے جس کی طرف اس معنی کی نسبت صحیح مانی جا سکتی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
علی سبیل المثال دیکھئے مشہور شارح کتب حدیث: امام خطابی رحمہ الله شرح بخاری میں مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وذهب عامة العلماء إلى أن معنى التقدير فيه استيفاء عدد الثلاثين وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من طريق أبى هريرة وابن عمر وهذا القول هو المرضي الذى عليه الجمهور من الناس والجماعة منهم.
اعلام الحدیث ج 2 ص 942۔
عام طور پر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس حدیث میں (التقدیر) کا معنی تیس کا عدد پورا کرنا ہے، حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے یہی مروی ہے، یہی قول پسندیدہ ہے اور اسی پر جمہور علماء ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ الله لکھتے ہیں:
فقالوا: المراد بقوله (فاقدروا له) اي انظروا فى أول الشهر واحسبوا تمام الثلاثين، ويرجح هذا القول الروايات الأخر المصرحة بالمراد وهى ما تقدم من قوله (فأكملوا العدة ثلاثين) ونحوها وأولي ما فسر الحديث بالحديث
فتح الباری ج 4 ص 120۔
چنانچہ جمہور کا کہنا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے فرمان فاقدروا له سے مراد یہ ہے کہ ابتدائے ماہ سے دیکھو اور پوری تیس کی گنتی مکمل کرو، دوسری تمام روایات جن میں اس کی تصریح وارد ہے، وہ بھی اسی قول کی تائید کرتی ہیں۔ یعنی وہ حدیثیں جو ابھی گزری ہیں، اور ان میں آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: فأكملوا العدة ثلاثين اور سب سے بہتر یہ ہے کہ ایک حدیث کی تفسیر دوسری حدیث سے کی جائے۔
وہ معروف اور معتمد علیہ آئمہ حدیث جنہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کی تخریج کی ہے ان کا بھی اسلوب اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جس روایت میں فاقدرواله کا لفظ وارد ہے۔ وہ حدیثیں ان کی تفسیر کرتی ہیں جن میں: فأكملوا العدة ثلاثين، فعدوا ثلاثين اور فأكملوا عدة شعبان ثلاثين وغیرہ کے الفاظ وارد ہیں۔ اس سلسلے میں وارد تمام الفاظ کے لیے دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 208، 209۔
علی سبیل المثال دیکھئے:
الف: امام محدثین امام ابو عبد اللہ بخاری رحمہ الله نے اپنی صحیح میں کتاب الصوم، باب نمبر 11 کے تحت جب سب سے پہلے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث نقل کی تو اس کے فوراً بعد اس کی تفسیر میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی درج ذیل حدیثیں بھی
نقل کیں:
① الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
صحیح البخاری: 1907 الصوم۔ صحیح مسلم: 1080 الصوم، بروایت ابن عمر۔
② صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين.
صحیح البخاری: 1909 الصوم۔
فاقدروا له کے بعد ان دونوں حدیثوں کو ذکر کر کے امام بخاری رحمہ الله نے یہ لطیف اشارہ فرمایا کہ فاقدروا له کے معنی میں جو اجمال و اشکال ہے، ان دونوں حدیثوں میں اس کی تفصیل اور توضیح ہے، لہذا یہی اس کی صحیح تفسیر و تعبیر ہے۔
ب : امام بخاری رحمہ الله کے شاگرد امام مسلم رحمہ الله نے بھی یہی اسلوب اختیار کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث نقل فرمائی جس میں فاقدروا له کے الفاظ وارد ہیں پھر اس کی تفسیر اور تفصیل میں اس حدیث کے مختلف طرق نقل کیے (صحیح مسلم ج 2 ص 147، 146 مع منۃ المنعم۔) جن میں سے بعض کے الفاظ یہ ہیں:
① فإن أغمي عليكم فاقدروا له ثلاثين. حدیث الباب: 2
② فإن غم عليكم فاقدروا ثلاثين. حدیث الباب: 3
ان دونوں اماموں کے علاوہ دو اور مشہور اماموں نے بھی اس بارے میں مزید صراحت سے کام لیا ہے۔
ج : چنانچہ امام ابن خزیمہ رحمہ الله اپنی صحیح میں یوں باب باندھتے ہیں:
باب الامر بالتقدير للشهر اذا غم على الناس
اس باب کے تحت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حدیث نقل کی ہے جس میں فاقدروا له کا لفظ وارد ہے۔ پھر اس کی وضاحت کرنے کے لیے ایک نیا باب یوں باندھتے ہیں:
باب ذكر الدليل على ان الأمر بالتقدير للشهر اذا غم ان يعد ثلاثين يوما ثم صام
اور اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی انہی دونوں حدیثوں کی تخریج کی ہے جن کا ذکر امام بخاری رحمہ الله نے کیا ہے۔
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج 5 ص 186۔
امام ابن خزیمہ کے شاگرد امام ابن حبان رحمہ الله اپنی صحیح میں باب یوں باندھتے ہیں:
ذكر الامر بالقدر لشهر شعبان اذا غم على الناس رؤية هلال رمضان
پھر اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حدیث ذکر کی ہے جس کا ذکر بار بار آ چکا ہے۔
پھر اس حدیث میں کلمہ فاقدروا له کی وضاحت کرنے کے لیے مزید دو باب منعقد کیے ہیں اور ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہی حدیث ذکر کی ہے جس کا ذکر بخاری شریف کے حوالے سے گزر چکا ہے:
ذكر البيان بان قوله صلى الله عليه وسلم (فاقدروا له) اراد به اعداد الثلاثين.
ذكر البيان بان قوله (فاقدروا له) اراد به اعداد الثلاثين.
مشكاة المصابيح تحقيق الالباني ج 1 ص 615 ديكهئے: مرعاة المصابيح ج 4 ص 206 طبعۂ قديمة.
ھ : امام بغوی رحمہ الله نے بھی مصابیح السنۃ میں اسی چیز کو واضح کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له وفي رواية قال: الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
اگر اس قسم کے تمام حوالے نقل کیے جائیں تو دامن قرطاس تنگ نظر آئے گا، مقصد بیان صرف یہ ہے کہ جس روایت میں فاقدروا له کے الفاظ آئے ہیں وہ مجمل ہے۔ جس کی تفسیر دوسری روایات میں فأكملوا العدة ثلاثين، فعدوا ثلاثين وغیرہ الفاظ سے وارد ہے، یہ ایسا مسئلہ ہے کہ آئمہ حدیث اور شارحین حدیث کا اس پر اتفاق چلا آ رہا ہے۔
اس موضوع کو میں اتنا طول نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن چونکہ علامہ احمد شاکر رحمہ الله نے اپنے موقف کے لیے اسی حدیث کو بنیاد بنایا تھا اور انہی کی تقلید میں ہمارے بعض بزرگوں نے بھی ہندوستان میں اس موضوع کو ابھارا ہے، اس لیے اسے طول دینے کی ضرورت محسوس ہوئی، اب اختصار کے پیش نظر آخر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ایک حدیث نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، جس ایک ہی حدیث اور ایک ہی سیاق میں فَاقْدِرُوا کی تفسیر مذکور ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:
إن الله جعل الأهلة مواقيت فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا له أتموه ثلاثين.
مصنف عبد الرزاق ج 4 ص 156 نمبر 7306۔ مستدرک الحاکم ج 1 ص 423۔ صحیح ابن خزیمہ ج 3 ص 201۔ السنن الکبری للبیہقی ج 4 ص 204۔
چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے جنتری قرار دیا ہے، اس لیے جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کا اندازہ کرو تیس دن پورے کرو۔
یہ حدیث بڑے واضح لفظوں میں ابو العباس ابن سریج اور علامہ احمد شاکر رحمہما الله بیان کی رائے کی تردید کر رہی ہے کہ فاقدروا کا اصل معنی أتموا ثلاثين يوما ہے نہ کہ منازل قمر کا حساب ہے۔ واللہ اعلم
③ احادیث کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہینوں کی ابتدا وانتہا کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم کا اسوۂ مبارک یہ تھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اس مسئلے میں صرف اور صرف رؤیت ہلال پر اعتماد فرماتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ کو بذریعہ وحی بھی مطلع کر سکتا تھا، اب ظاہر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اسوۂ سے بڑھ کر کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ لشعبان ما لا يتحفظ لغيره ثم يصوم لرؤيته رمضان فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام.
سنن ابو داود وسنن الترمذی وغیرہما، تخریج گزر چکی ہے۔
نبی صلى الله عليه وسلم شعبان کے دنوں کا جیسا اہتمام فرماتے، اتنا کسی اور مہینے کے دنوں کا اہتمام نہیں فرماتے تھے، پھر چاند دیکھ کر روزہ رکھتے اور اگر بادل چھا جاتا تو تیس دن پورا کرتے پھر روزہ رکھتے۔
حافظ ابن القیم رحمہ الله زاد المعاد میں لکھتے ہیں:
وكان من هديه ان لا يدخل فى صوم رمضان الا برؤية محققة او بشهادة شاهد واحد.
زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ج 2 ص 38۔
”آپ صلى الله عليه وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ رمضان کا روزہ رؤیت ہلال کے ثبوت کے بغیر نہ رکھتے یا پھر یہ کہ ایک گواہی دینے والا گواہی دے دے۔“
اس کے بر خلاف آپ صلى الله عليه وسلم کے اسوۂ مبارکہ سے یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ آپ نے منازل قمر کا حساب رکھا ہو یا اس کی تعلیم کی ترغیب دی ہو اور نہ ہی آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین کرام نے ایسا کیا ہے۔
④ جو شریعت عام و خاص، جاہل وعالم ہر ایک کے لیے آئی ہو، اس میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک عمل جو ہر قادر، عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہو جیسے رمضان المبارک کا روزہ، پھر اس میں مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں عالم و جاہل میں فرق رکھا جائے، یہ ایسا نکتہ ہے جس کا قائل کوئی محدث ہے اور نہ حدیث و قرآن سے اس کی کوئی دلیل ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ نقل و عقل اور لغت وادب کسی بھی اعتبار سے اس حدیث کا مفہوم وہ نہیں بنتا جو یہ حضرات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری دلیل : دوسری حدیث جس سے ان حضرات کا استدلال ہے، وہ یہ ہے:
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا يعني مرة تسعة وعشرين، ومرة ثلاثين.
صحیح البخاری: 1913 الصوم۔ صحیح مسلم: ج 2 ص 147 بروایت عمر۔
ہم لوگ امی امت ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرنا، مہینہ اتنا اتنا یعنی کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا ہوتا ہے۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں اپنے آپ اور اپنی امت کو أُمِّيَّةٌ اور حساب و کتاب کی عدم معرفت سے موصوف کیا، پھر جب اس امت کے لوگ أُمِّيَّةٌ نہ رہے بلکہ ان میں حساب، نجوم اور علم فلک کے ماہرین پیدا ہو گئے تو رؤیت ہلال کی ضرورت باقی نہیں رہی الخ۔
اوائل الشھور لاحمد شاکر ص 13، 14۔ نیز دیکھئے: مجلۃ مجمع الفقہ عدد سوم جلد دوم ص 842 شیخ مصطفیٰ کمال تازری کا مقالہ۔
اس استدلال پر چند ملاحظات ہیں:
① یہ استدلال علمائے سلف بلکہ اجماع امت کے خلاف ہے، قرون اولیٰ اور اس کے بعد بھی کسی معتبر عالم اور امام نے اس کا وہ مفہوم نہیں لیا ہے جو یہاں لیا جا رہا ہے، تعجب در تعجب ہے علامہ احمد شاکر رحمہ الله وغفر لہ، جیسے اہل حدیث اور سلفی عالم پر کہ ان کے نوک قلم سے ایسی تاویل و تفسیر کیسے سرزد ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اندھی تقلید کے حامی نہیں ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس چیز کو بھی مسلک اہل حدیث کے سراسر خلاف سمجھتے ہیں کہ کسی آیت وحدیث کا کوئی ایسا مفہوم لیا جائے جو فہم سلف کے خلاف ہو، بلکہ بڑے واضح لفظوں میں یہ کہتا چلوں کہ خوارج اور دوسرے باطل فرقوں کے صحیح راہ سے بھٹکنے کی سب سے بڑی وجہ میری سمجھ کے مطابق یہ تھی کہ ان لوگوں نے بعض آیات واحادیث کا وہ مفہوم متعین کیا تھا جو صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ کے فہم سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے خطرہ ہے کہ ایسے عجیب و غریب معنی لینے والے لوگ اس وعید کے مستحق نہ ٹھہریں جو اس ارشاد الہی میں ہے:
﴿ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾
(النساء: 115)
”جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔“
لیکن بدقسمتی سے آج یہ رجحان ہماری نوجوان نسل اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، پھر جب انہیں اس پر متنبہ کیا جاتا ہے تو بڑی دلیری سے اور کبر کے انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ: ہم کسی کے مقلد تھوڑی ہیں عیاذ باللہ۔
② علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام )کے لیے بطور مدح وارد ہے اور وجہ استدلال میں اس کا جو مفہوم بیان کیا جا رہا ہے، اس سے نقص کا پہلو نکلتا ہے حالانکہ جو آیت اور حدیث امت کے لیے بطور مدح وارد ہو اس کے التزام میں ہی امت کے لیے خیر ہے، یہ ایسا نکتہ ہے جسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے اپنے رسالہ ”الھلال“ میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے اور متعدد مثالوں سے اس مفہوم کی وضاحت کی ہے، ہر طالب علم کو اس کی طرف رجوع کر لینا چاہیے۔ شیخ الاسلام رحمہ الله ایک جگہ لکھتے ہیں:
وظهر بذلك ان الأمية المذكورة هنا صفة مدح وكمال من وجوه من جهة الاستغناء عن الكتاب والحساب بما هو أبين منه وأظهر وهو الهلال، ومن جهة أن الكتاب والحساب هنا يدخلها غلط ومن جهة أن فيهما تعبا كثيرا بلا فائدة فان ذلك شغل عن المصالح اذ هو مقصود لغيره لا بنفسه واذا كان نفي الكتاب والحساب عنهم للاستغناء عنه بخير منه، وللمفسدة التى فيه كان الكتاب والحساب فى ذلك نقصا وعيبا بل سيئة وذنبا فمن دخل فيه فقد خرج عن الأمة الأمية فيما هو من الكمال والفضل السالم عن المفسدة ودخل فى أمر ناقص يؤديه إلى الفساد والاضطراب.
مجموع الفتاوی ج 25 ص 174۔
اس بحث سے ظاہر ہوا کہ اس حدیث میں مذکور (صفت امیت) کو مدح و کمال کے مفہوم میں لیا گیا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں:
① رؤیت ہلال جو بالکل ہی واضح چیز ہے اس کے ذریعے حساب و کتاب سے بے نیازی ہو جاتی ہے۔
② جبکہ اس بارے میں حساب و کتاب پر اعتماد میں غلطی کا امکان ہے۔
③ حساب وکتاب میں بلا فائدے کی بہت بڑی پریشانی ہے کیونکہ اس میں مشغولیت سے دوسرے اہم کاموں سے توجہ ہٹتی ہے اور یہ بات بھی واضح رہے کہ حساب و کتاب یعنی منازل قمر سے متعلق حساب و کتاب خود مطلوب نہیں بلکہ دوسرے مطلوبہ کام کا ذریعہ ہے۔
اور جب صورت حال یہ ہے کہ حساب و کتاب کی نفی اس لیے کی گئی ہے، اس سے بہتر چیز اس سے بے نیاز کرتی ہے، اور اس وجہ سے کہ اس میں مشغولیت سے خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس بارے میں حساب وکتاب میں الجھنا نقص و عیب ہے، بلکہ معاملہ برائی اور گناہ تک پہنچ جاتا ہے۔ لہذا جو شخص حساب وکتاب کے گورکھ دھندوں میں پھنس گیا تو وہ اس امت کی جو شان کمال تھی اس سے محروم ہو گیا اور وہ ایسے بے فائدہ کام میں الجھ گیا جو نتیجتاً اسے نقصانات اور الجھنوں تک پہنچا دے گا۔
علامہ تقی الدین سبکی رحمہ الله اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عرب یا اس امت کا اس بارے میں نہ لکھنا پڑھنا، ان کے لیے شرف کا باعث ہے کیونکہ علم الہی میں یہ مقرر ہو چکا تھا کہ یہ لوگ نبی امی کی امت میں شامل ہوں گے۔
امام سبکی رحمہ الله کا رسالہ العلم المنشور ص 18، 19۔
ان دونوں اماموں یعنی امام ابن تیمیہ اور امام سبکی رحمہما الله کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث میں وارد صفت امیت اور علم حساب و کتاب سے دوری امت کے لیے صفت مدح و کمال ہے نہ کہ صفت ذم و نقص کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی شہر میں برائی وفساد کے اڈے ہوں، اس کا تذکرہ کسی مجلس میں ہو تو کوئی یہ کہے کہ میں تو اس جگہ کو جانتا ہی نہیں اور نہ ہی اس طرف کا راستہ دیکھا ہے، اب ظاہر ہے کہ یہ لاعلمی اور جہالت اس شخص کے بارے میں صفۃ ذم نہیں بلکہ صفۃ مدح و کمال ہے۔ فلينتبه۔
③ اس حدیث میں وارد لفظ إنا أمة أمية کو لفظ لا نكتب ولا نحسب اور الشهر هكذا وهكذا سے مقرون کیا گیا ہے، جس سے امت محمدیہ کو یہ خبر دینا مقصود ہے کہ امت چاند اور قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں علم فلک اور منازل قمر سے متعلق معرفت حاصل کرنے کی محتاج نہیں ہے بلکہ مہینہ یا تو 29 دن کا ہوگا یا پھر تیس دن کا جس کی معرفت کا ذریعہ چاند کا دکھائی دینا ہے یا پھر تیس دنوں کا پورا ہونا، جیسا کہ متعدد حدیثوں میں یہ حکم موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جب اس امت سے صفت امیت ختم ہو جائے گی تو اس کا اعتماد حساب و کتاب اور علم فلک پر ہوگا اور امت رؤیت ہلال سے مستغنی ہو جائے گی۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ الله اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس حدیث میں حساب سے مراد تاروں کی آمد ورفت اور ان کی منازل کا حساب ہے، کیونکہ اس وقت وہاں پر اس علم کو جاننے والے بہت کم لوگ تھے، اس لیے روزہ رکھنے وغیرہ کے حکم کو رؤیت ہلال سے متعلق کیا ہے، جس کی وجہ تاروں کی منازل کو معلوم کرنے میں جو پریشانیاں تھیں ان سے چھٹکارا دلانا ہے، اس کے بعد بھی روزہ وغیرہ کے بارے میں یہی حکم چلتا رہا اگر چہ اس علم کو جاننے والے لوگ پیدا ہوئے، بلکہ حدیث کا سیاق وسباق یہ ظاہر کرتا ہے کہ حساب نجوم اور منازل قمر پر مطلقاً اعتماد نہ کیا جائے گا جس کی توضیح وہ حدیث کرتی ہے جس میں ارشاد ہے کہ فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمہارے اوپر بادل چھا جائے تو اہل حساب سے پوچھو، بلکہ یہ فرمایا کہ (گنتی کے تیس دن پورے کرو۔)
فتح الباری ج 4 ص 132۔ نیز دیکھئے: سیر اعلام النبلاء ج 14 ص 191، 192 ترجمہ محمد بن یحییٰ بن مندہ۔ عارضۃ الاحوذی ج 3 ص 307 اور اس کے بعد، العلم المنشور للسبکی ص 18، 34۔ المرعاۃ ج 4 ص 434 اور اس کے بعد فقه النوازل ج 2 ص 211، 214 وغیرہ۔
قمری مہینوں کو بذریعہ علم فلک ثابت ماننے والوں کے یہ نقلی دلائل تھے جن کا تجزیہ پیش کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اولاً تو ان کے دلائل اپنے معنی میں صریح نہیں ہیں۔
ثانیاً: یہ ایک ایسا قول ہے جو اجماع سلف کے خلاف ہے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے از روئے عقل بھی اس قول کو باطل قرار دیا ہے، نیز عصر حاضر میں شیخ بکر ابو زید رحمہ الله نے بھی اپنے بعض مقالات میں اس موضوع کو تفصیل سے لیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ فلک اور حساب کے ذریعے قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کو قبول کرنے میں دو بڑی اہم خرابیاں لازم آتی ہیں:
① حساب اور علم فلک کا معاملہ ابھی تک ظن و تخمین کی حدود پار نہیں کر سکا۔
② بذریعہ حساب قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کو قبول کرنے میں کئی اعتبار سے شریعت کی مخالفت ہوتی ہے۔
فقه النوازل ج 2 ص 217 معرفۃ اوقات العبادات ج 3 ص 85۔
حساب منازل قمر اور علم فلک کی ظنیت:
① اہل فلک یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کا علم ظنی اور غیر یقینی ہے۔ بلکہ اس کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت منٹ و سیکنڈ کی تحدید کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت رؤیت ہلال کا مسئلہ بالکل یقینی ہے، البتہ حق یہ ہے کہ یہ بات صرف دعویٰ کی حد تک ہے، لیکن ان کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کا مسئلہ اس لیے مشکل ہے کہ عمومی طور پر علم شرع کے حاملین اور اہل دین و تقویٰ حضرات ان عصری علوم میں مہارت نہیں رکھتے اس لیے ان مدعیان علم کا علمی جواب دینے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ علم ابھی تک ظن کی حدود میں ہے جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
بہت سے حوادث ایسے پیش آتے ہیں جو اہل فلک کے دعووں کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ 1406ھ میں اہل فلک نے یہ بات یقین سے کہی کہ شوال کا چاند انتیس رمضان کی شام کو ظاہر نہیں ہوگا اور یہ بات مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی لیکن اللہ کی قدرت کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے کئی آدمیوں نے رؤیت ہلال کی شہادت دی، اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی چاند دیکھا گیا۔
دیکھئے حوالہ سابقہ۔
1424ھ میں مملکت سعودی عرب میں اہل فلک کے بیان کے مطابق یہ چرچا تھا کہ رمضان کا چاند انتیس شعبان کی شام کو ضرور نظر آئے گا، یہ خبر اس تیزی سے لوگوں میں عام ہوئی کہ لوگوں کو مکمل یقین تھا کہ آج تراویح کی نماز پڑھی جائے گی اور کل روزہ رکھنا ہے، حتی کہ بہت سی مساجد میں ایک معمولی سی افواہ پر تراویح کی نماز پڑھ لی گئی، لیکن حق یہ ہے کہ مطلع بھی صاف تھا اور مملکت سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ہزاروں لوگوں کی نگاہیں غروب آفتاب کے وقت افق مغرب میں اس نئے مہمان کے دیدار کے لیے اٹھی ہوئی تھیں، سعودی عرب ہزاروں مربع میل رقبے پر مشتمل ہے، پھر بھی کسی علاقے سے کسی کو بھی اس نئے مہمان کے دیدار کا شرف حاصل نہیں ہوا حتی کہ سدیر کے علاقے کا وہ شخص جس کی نظر کی تیزی پر الحمد للہ کافی اعتماد کیا جاتا ہے، اس نے بھی معذرت ظاہر کی کہ آج وہ بھی اس شرف سے محروم ہے، بالآخر سب کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ نہ ہوا پر نہ ہوا یا ر کا دیدار نصیب۔
رابطہ عالم اسلامی کے مجمع الفقہی میں یہ موضوع کئی بار زیر بحث آیا، جس میں اس موضوع پر بھی بحث ہوئی کہ رؤیت ہلال کا مسئلہ قطعی ہے یا کہ ظنی، دوران بحث اس سلسلے میں متعدد رائیں سامنے آئیں حالانکہ اس میں بعض ماہرین فن بھی موجود تھے چنانچہ 14 ربیع الآخر 1406ھ موافق دسمبر 1985ء کی مجلس میں رئیس مجلس نے فرمایا:
وقد سمعتم ما ذكر على ألسنة البعض منهم أنه ظني وقد سمعتم من يحكي شيئا من قطعية ومنهم من يقول أنه شبه قطعي وما جري مجرى ذلك
مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی عدد ثانی جزء ثانی ص 1030۔
”آپ لوگوں نے یہ بھی سنا جو بعض لوگوں نے ذکر کیا کہ بعض نے اسے ظن کہا اور بعض نے اس کی قطعیت نقل کی اور بعض نے اسے قطعی کے مشابہ قرار دیا۔ “
یہ حادثات اور اہل فن کا یہ اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علم حساب و نجوم ابھی تک ظن کی حدود میں ہے، بلکہ یہ حادثات جہاں ایک طرف اہل ہیئت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ وہ اپنی حد کو پار نہ کریں وہیں اہل علم حضرات سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جدید علوم کے ماہرین کے ہر دعوے کو من وعن قبول کرنے سے پرہیز کریں۔
حساب فلکی کے سارے معاملات اس وقت آلات جدیدہ پر منحصر ہیں، جن میں کسی بھی وقت فنی خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور بسا اوقات اس خرابی کا احساس اس میدان میں کام کرنے والوں کو بھی نہیں ہوتا، روزانہ دنیا کو اس قسم کے واقعات سے سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں خرابی کے کیسے نتائج سامنے آ رہے ہیں، بصرف ہوائی جہازوں کو درپیش حادثات سبق لینے کے لیے کافی ہیں۔
یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ عصر حاضر میں بعض اسلامی شہروں میں روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا معاملہ حساب فلکی کی بنیاد پر ہے اور ان کے یہاں رؤیت ہلال کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن یہ چیز ملاحظے میں ہے بسا اوقات ان ملکوں اور ان دوسرے ملکوں میں جن میں رؤیت ہلال پر اعتماد کیا جاتا ہے، دو یا تین دن کا فرق پڑتا ہے۔ حالانکہ عقلاً اور عقلاً یہ غیر معقول کی بات ہے۔
یہ بات بھی ہر شخص کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ ایک ہی ملک میں موجود کیلنڈر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں کسی میں رمضان کا مہینہ تیس دن مذکور ہوتا ہے اور کسی میں انتیس دن یہ اختلاف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کا علم ابھی ظن و تخمین ہی کی حدود میں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 216 تا 218۔
ابھی چند دن پہلے ایک مجلس میں حاضر تھا، اس میں اٹھارہ ڈیری فارم الغاط میں کام کرنے والے مہندس (انجینئر) محمد عامر بھی موجود تھے۔ بظاہر قابل اعتماد شخص لگ رہے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جنوری 1987ء میں مصری اخبارات نے اعلان کیا کہ فلاں تاریخ کو سورج میں مکمل گرہن لگنے والا ہے، چونکہ میں سائنس کا طالب علم تھا اس لیے اس خبر کے بارے میں بہت سنجیدہ تھا لیکن اللہ کا کرنا کہ کلی تو کیا، جزوی سورج گرہن بھی نہیں لگا۔
اسی طرح اس سال 4 مئی موافق 15 ربیع الاول بروز منگل تمام سعودی اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ آج رات 9 بج کر 47 منٹ پر چاند گرہن کی ابتدا ہوگی اور گیارہ بجے جا کر چاند مکمل طور پر گرہن کی زد میں آ جائے گا، لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ چاند میں گرہن کی ابتدا اہل فلک کے مقررہ وقت سے تقریباً بیس منٹ پہلے ہو گئی بلکہ دوسرے دن اخبارات نے یہ صراحت کی کہ چاند میں گرہن کی ابتدا 9 بج کر 30 منٹ میں ہو گئی تھی۔
حساب نجوم اور علم فلک کا شریعت سے ٹکراؤ:
رؤیت ہلال کو چھوڑ کر ستاروں کی نقل و حرکت اور علم ہیئت پر اعتماد شریعت سے قطعاً میل نہیں کھاتا، جس کی متعدد وجوہات ہیں، ذیل میں چند ایک کا ذکر ہوتا ہے:
① شرعی مہینہ ابتدا و انتہا، عدد ایام اور دیگر امور میں اہل فلک کے متعین کردہ مہینوں سے مختلف ہے، جیسا کہ اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔
② شریعت نے ابتدائے ماہ قمری کو رؤیت ہلال سے مرتبط کیا ہے اور یہ صراحت کر دی ہے کہ شرعی مہینہ یا 29 دن کا ہوگا یا 30 دن کا، جبکہ اہل فلک کے نزدیک رؤیت ہلال کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک ہر قمری مہینہ 29 دن بارہ گھنٹے 44 منٹ اور کچھ سیکنڈ کا ہوتا ہے، خواہ چاند نظر آئے یا نہ آئے۔
③ شریعت نے ابتدائے ماہ قمری کو ایک فطری اور ظاہری چیز سے مرتبط کیا ہے جس میں نہ کوئی مشقت ہے اور نہ ہی اس میں ایسی مشغولیت کہ بندے کو اس کے ضروری کاموں سے روکتی ہو بلکہ اس میں مشغولیت محکم شرع ہے، اس لیے شریعت نے اس کے لیے ایک دعا و ذکر بھی سکھلایا ہے جبکہ اہل فلک اس معاملے میں اس سے مختلف ہیں۔
④ اہل فلک کے مذہب پر عمل کرنے کے نتیجے میں بعض صحیح احادیث پر عمل ترک کرنا پڑتا ہے، وہ احادیث جن میں یہ حکم ہے کہ اگر رؤیت ہلال اور تمہارے درمیان بادل وغیرہ حائل ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو، اب اگر اہل فلک کی بات تسلیم کر لی جائے تو ان حدیثوں کا کیا فائدہ؟ بلکہ اس طرح تو وہ تمام حدیثیں بے کار اور ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جائیں گی۔
فقه النوازل ج 3 ص 318 اور اس کے بعد ، معرفة اوقات العبادات ج 3 ص 87 تا 90 ۔ دیکھئے اس بحث کے آخر میں ضمیمہ ۔
خلاصہ کلام یہ کہ قمری مہینوں کے بارے میں علم فلک پر اعتماد شریعت محمدیہ سے قطعاً میل نہیں کھاتا۔ اس لیے اس مسئلہ کو اپنی حالت پر رہنے دیا جائے اور امت کو اس میں الجھا کر ان کے درمیان متفق علیہ مسئلے کی اجتماعیت کو پاش پاش نہ کیا جائے، یہی سلامتی کا راستہ ہے کیونکہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کا مسئلہ امت مسلمہ میں متفق علیہ چلا آ رہا ہے، اور وہ علماء جن کے اجماع کا اعتبار ہے اس پر متفق رہے ہیں کہ اس بارے میں اہل فلک اور حساب نجوم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، عصر حاضر میں بھی یہ مسئلہ علماء کے درمیان بحث و مناقشہ کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا ہے، چنانچہ مملکت سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی نے متفقہ طور پر اپنی ایک قرار داد میں تحریر کیا کہ:
فبعد دراسة ما أعدته اللجنة الدائمة فى ذلك وبعد الرجوع إلى ما ذكره أهل العلم فقد أجمع أعضاء الهيئة على عدم اعتباره لقوله عليه الصلاة والسلام: صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته الحديث ولقوله عليه الصلاة والسلام: (لا تصوموا حتى تروه ولا تفطروا حتى تروه) الحديث.
ابحاث هيئة كبار العلماء ج 3 ص 34 .
اسی طرح رابطہ عالم اسلامی کی فقہی کمیٹی کے اعضاء کے پاس سنگاپور سے سوال آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سنگاپور کی جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ اور مجلس الاسلامی کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے، جمعیت کا یہ خیال ہے کہ اس سال یعنی 1399ھ میں ماہ رمضان کی ابتدا کو رؤیت ہلال کے ذریعے ہی مانا جائے، جبکہ مجلس اسلامی کا خیال تھا کہ کیونکہ ایشیا کے اس علاقے خصوصاً سنگاپور میں عمومی طور پر مطلع ابر آلود رہتا ہے، اس لیے ابتدائے ماہ مبارک کو حساب فلکی کے ذریعے تسلیم کر لیا جائے، اس سلسلے میں اعضائے مجلس کی کیا رائے ہے؟ مجمع الفقه الاسلامی کی کمیٹی نے متفقہ طور پر اس کا جو جواب دیا تھا، اسے ذیل میں بلفظہ نقل کر دیا جاتا ہے:
وبعد أن قام أعضاء مجلس المجمع الفقهي الإسلامي بدراسة وافية لهذا الموضوع على ضوء نصوص الشريعة، قرر مجلس المجمع الفقهي الإسلامي تأييده لجمعية الدعوة الإسلامية فيما ذهبت إليه لوضوح الأدلة الشرعية في ذلك. كما قرر أنه بالنسبة لهذا الوضع الذي يوجد في أماكن من سنغافورة وبعض مناطق آسيا، وغيرها، حيث تكون سماؤها محجوبة بما يمنع الرؤية فإن للمسلمين في تلك المناطق وما شابهها أن يأخذوا بمن يثقون به من البلاد الإسلامية التي تعتمد على الرؤية البصرية للهلال دون الحساب بأي شكل من الأشكال عملاً بقوله: (صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَافْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ) وقوله صلى الله عليه وسلم: (لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ) وما جاء في معناهما من الأحاديث۔
مجلة مجمع الفقه الاسلامى عدد 2 جلد 2 ص 969، 970
المجمع الفقهی الإسلامي کے ممبران نے اس موضوع سے متعلق شرعی نصوص پر مکمل غور و خوض کرنے کے بعد، نیز اس بارے میں واضح دلائل کی بنیاد پر جمعیت الدعوۃ الاسلامیہ کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔
نیز سنگاپور کے بعض وہ علاقے جہاں آسمان چھپا رہتا ہے اسی طرح اس جیسے ایشیا کے دوسرے علاقوں کی صورت حال سے متعلق کہ جہاں رؤیت ہلال ممکن نہیں ہے وہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان میں کسی ایسے اسلامی ملک پر اعتماد کریں جہاں کے لوگ رؤیت ہلال کے بارے میں صرف نظر (دیکھنے) پر اعتماد کرتے ہیں اور کسی بھی طرح حساب پر اعتماد نہیں کرتے ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ آپ نے فرمایا: صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين يوما. اور آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کہ لا تصوموا حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة ولا تفطروا حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة. اسی طرح دیگر احادیث کی بنیاد پر جو اس بارے میں مروی ہیں۔