رؤیت ہلال صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مقصود الحسن فیضی کی کتاب رویت ہلال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فصل: 1

رؤیت ہلال کی اہمیت

شریعت کی نظر میں رویت ہلال کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ مسلمانوں کی عبادات و معاملات کا دار و مدار قمری مہینوں پر ہے اور قمری مہینوں کی صحیح معرفت رؤیت ہلال کا اہتمام کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ اپنے رسالہ ”الہلال “میں رویت ہلال اور اس کی اہمیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
المقصود ان التسعة والعشرين يجب عددها واعتبارها بكل حال فى كل وقت.
مجموع فتاوی ج 25 ص 153، اہل ذوق طلبہ سے گذارش ہے کہ شیخ الاسلام کا رسالہ الہلال ضرور پڑھیں۔
”مقصد یہ ہے کہ انتیس تاریخ کو شمار کرنا اور اس کا حساب ہر وقت اور ہر حال میں واجب ہے۔“
خصوصاً محرم، شعبان ورمضان اور ذی الحجہ کے مہینوں کا چاند اور اس کا اہتمام کچھ زیادہ ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان مہینوں سے اسلام کے بعض ارکان منسلک ہیں، مشہور ہندوستانی عالم علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
مسألة: يجب على الناس كفاية ان يلتمسوا هلال رمضان يوم التاسع والعشرين من شعبان لأنه قد يكون ناقصا نص عليه الشرنبلالي فى مراقي الفلاح.
القول المنشور في هلال خير الشهور ص 148 نیز دیکھئے: مراقي الفلاح ص 126، شرح فتح القدير ج 2 ص 313۔ صرف یہی نہیں بلکہ جمہور فقہاء نے اسے فرض کفایہ قرار دیا ہے دیکھئے: الـفـقـه عـلـى المذاهب الأربعة ج 1 ص 551، بحوث فقهية معاصرة للدكتور الشريف ص 223 .
”لوگوں پر فرض کفایہ ہے کہ 29 شعبان کو رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ کبھی کبھار مہینہ ناقص یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے علامہ شرنبلالی وغیرہ نے مراقی الفلاح میں اس کی تصریح کی ہے۔“

رؤیت ہلال؛ احادیث کی روشنی میں:

رؤیت ہلال کی اہمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے بھی واضح ہے:
أحصوا هلال شعبان لرمضان.
سنن الترمذي : 687 الصوم ، مستدرك الحاكم ج 1 ص 425 ، سنن الدار قطنی ج 2 ص 163 ، بروایت ابو ہریرہ دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحه :565 ۔
”شعبان کے چاند کو رمضان کے لیے اچھی طرح شمار کرو اور یاد رکھو۔“
② حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نقل فرماتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ لغيره فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام.
سنن ابو داود : 2325 الصوم ، صحیح ابن خزیمه : 1910 ج 3 ص 203 ، صحیح ابن حبان الموارد : 869 دیکھئے: صحیح سنن أبی داودج 3 ص 50 .
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند یا دنوں کو یاد رکھنے میں جس قدر اہتمام سے کام لیتے تھے، اس قدر کسی دوسرے ماہ کے دنوں کو یاد رکھنے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے لیکن اگر انتیسویں شعبان کی شام کو بدلی چھا جاتی تو تیس کی گنتی پوری کرتے، اس کے بعد روزہ رکھتے۔
یعنی ماہ شعبان کے دنوں کو شمار کرتے اور انھیں یاد رکھنے میں اہتمام سے کام لیتے تاکہ رمضان کے روزے اپنی صحیح تاریخوں میں رکھے جا سکیں، ایسا نہ ہو کہ شعبان کے دنوں کے شمار میں بھول ہو جائے تو رمضان کے روزے خطرے میں پڑ جائیں، واللہ اعلم۔
المرعاة ج 6 ص 451 .
مذکورہ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ:
① رؤیت ہلال کے اہتمام کا حکم ہے، خاص کر شعبان ورمضان کا۔
② شعبان کے چاند اور دنوں کے اہتمام میں مدت سے کام لینا اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے مہینوں کے چاند کا بھی عمومی اہتمام کرنا چاہیے۔
③ ہر ماہ کے چاند اور ان کے اہتمام کا ثبوت درج ذیل حدیثوں سے بھی ہوتا ہے:
الف: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایام بیض یعنی ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے روزوں کی ترغیب دلاتے تھے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت – صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى ونوم على الوتر.
صحيح البخاری : 1981 الصوم، باب صيام البيض ثلاث عشرة أربع عشرة وخمس عشرة-صحیح مسلم : 720 کتاب صلاة التطوع : باب نمبر 10 .
میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتا، ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے قبل وتر کی نماز پڑھنا۔
یہی وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء ( صحیح مسلم :722، صلاة التطوع ، سنن أبي داود:1433 الصلاة دیکھئے: صحيح الترغيب والترهيب ج 1 ص 598 .) اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما (مسند أحمد : ج 5 ص 173 – سنن النسائي : 2406 الصوم – صحيح ابن خزيمه 3 ص 144 .) کو بھی فرمائی تھی۔
صرف یہی چند صحابہ رضی اللہ عنہم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ترغیبی حکم تھا۔
حضرت قدامہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا بصيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة وقال هن كهيئة الدهر.
سنن ابو داود : 2449 الصوم ، سنن النسائى : 2432 الصوم، سنن ابن ماجه : 1707 الصيام بروايت قدامة بن ملحان دیکھئے : صحيح الترغيب ج 1 ص 603 .
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ایام بیض کے روزے رکھیں یعنی 13، 14 اور 15 تاریخ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ان دنوں کا روزہ رکھنا گویا پورے سال کا روزہ رکھنا ہے۔“
اب ظاہر ہے کہ اگر ہر مہینے کے چاند اور اس کی رؤیت کا اہتمام نہ کیا گیا تو ان تاریخوں کی صحیح تعیین کس طرح ممکن ہے؟ اسی لیے اللہ کے وہ بندے جو اس وصیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا رہتے ہیں وہ ہر ماہ رویت ہلال کا اہتمام بھی کرتے ہیں جیسا کہ راقم سطور نے بعض بزرگوں کو دیکھا ہے۔
ب : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہ نو کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله.
مسند احمد ج 1 ص 162 – سنن الترمذى : 3451: الدعوات – مستدرك الحاكم ج 4 ص 285 دیکھئے: الصحيحة: 1816 .
”اے اللہ تعالیٰ اس چاند کو ہمارے اوپر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما، اے چاند ہمارا اور تیرا رب اللہ ہے۔“
دعاء کے الفاظ اور عمومی طور پر حدیث کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رویت ہلال کا سخت اہتمام فرماتے تھے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رویت ہلال ایک ایسا اہم عمل ہے کہ اس کا اہتمام کرنا اور اس کے دیکھنے کے بعد دعاء کا پڑھنا ایک شرعی عمل اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ واللہ اعلم۔
ج : مسلمانوں کی زندگی کے بہت سے مسائل قمری مہینوں سے اس طرح منسلک ہیں کہ رؤیت ہلال کا اہتمام کیے بغیر ان کی صحیح ادائیگی مشکل ہے۔ مثلاً عدت طلاق، عدت وفات، نذر کے روزے اور کفارے کے روزے وغیرہ جیسے واجبی امور، نیز عرفہ کا روزہ، عاشوراء کا روزہ، اسی طرح کے اور نفلی روزے، عید الاضحی اور ایام تشریق کی صحیح تعیین، جن دنوں کا روزہ رکھنا حرام ہے ان کی معلومات، یہ تمام امور اور ان کے علاوہ مسلمانوں کے باہمی لین دین کے مسائل بغیر رؤیت ہلال کے اہتمام کے ممکن ہی نہیں ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ رویت ہلال کا اہتمام کیا جائے، لیکن بدقسمتی سے مسلمان دوسرے دینی امور کی طرح اس بارے میں بھی کوتاہی کا شکار ہیں۔ والله المستعان.

کیا رویت ہلال کے لیے جدید آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں:

عصر حاضر میں ہر چیز کے لیے کچھ آلے اور مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں جن سے لوگوں کے کاموں میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ آلات و مشینیں کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدلتیں، بلکہ اس چیز کے حصول میں آسانی یا اس میں پیدا شدہ خلل کی اصلاح کر دیتی ہیں وغیرہ، بعینہ اسی طرح بعض آلے ایسے ایجاد ہوئے ہیں، جو بعض موجود اشیاء کو انسان کے سامنے واضح اور صاف کر کے پیش کر دیتے ہیں جبکہ اس چیز کے وجود میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتے جیسے اگر کسی انسان کی نظر کمزور ہے تو اس کے لیے چشمہ ہے جو نظر کی کمی پورا کر دیتا ہے، انہی آلات میں سے خوردبین اور دوربین آلے بھی ہیں ان کا فائدہ یہ ہے کہ جب انسان کسی چیز کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے حجم کو بڑا کر کے ظاہر کرتے ہیں یا اسے دیکھنے والے کی نظر کے قریب کر دیتے ہیں تا کہ انسان کو اس چیز کے مشاہدے میں آسانی ہو، یہ نہیں ہوتا کہ یہ آلے کسی غیر موجود چیز کا وجود ظاہر کر دیں یا اس کی حقیقت میں کوئی تبدیلی کر دیں۔
اس حقیقت کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رؤیت ہلال کے لیے دوربین وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خاص کر اس زمانے میں جبکہ جہاں ایک طرف عمومی طور پر لوگ نظر کی کمزوری کا شکار ہیں تو دوسری طرف بڑے شہروں کے اردگرد فضا گرد آلود اور کارخانوں اور گاڑیوں کے دھوئیں سے پر رہتی ہے۔ علامہ قسیم شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سوال کے جواب میں رویت ہلال کے لیے دوربین وغیرہ کے استعمال کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: "مہینے کے دخول کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کریں اور چاہیے کہ اس کام کے لیے وہ لوگ تیار کیے جائیں جن کے دین و ایمان اور قوت نظر پر اعتماد کیا جا سکے پھر اگر یہ لوگ چاند دیکھ لیں تو اس رؤیت پر عمل کرنا واجب ہو گا یعنی اگر رمضان کا چاند ہے تو روزہ رکھنا واجب ہو گا اور اگر شوال کا چاند ہے تو افطار کرنا واجب ہو گا، البتہ جہاں تک دور بین کے استعمال کا تعلق ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن اس کا استعمال واجب بھی نہیں ہے کیونکہ حدیث سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ محض رویت پر اعتماد ہونا چاہیے نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر، لیکن اگر کوئی قابل اعتماد آدمی دور بین کے ذریعے چاند دیکھ لیتا ہے تو اس کی رؤیت کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ جب کبھی کسی بھی ذریعے سے رؤیت ثابت ہو گی تو اس رؤیت کے مطابق عمل کیا جائے گا، جس کی دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا.
”جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔“
مجموع رسائل وفتاوى الشيخ ابن عثيمين ج19 ص 37، 36 .
مملکت سعودی عرب کی دائمی فتوی کمیٹی نے بھی یہی فتوی دیا ہے۔
فتاوى اللجنة الدائمة ج 10 ص 99 .

شرعی مہینوں کے اثبات کے لیے حساب اور علم فلک پر اعتماد:

یہ موضوع گزر چکا ہے کہ قمری اور شرعی مہینوں کی معرفت کا ذریعہ اسلام نے صرف رؤیت ہلال مقرر کیا ہے، دلیل کے طور پر بعض حدیثیں نقل کی جا چکی ہیں اور اسی مقام پر یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ علمائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں صرف اور صرف رؤیت ہلال کا اعتبار ہو گا۔

سوال :

اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ عصر حاضر میں جب کہ علم سائنس نے یہ تحدید کر دی ہے کہ اتنے بج کر اتنے منٹ پر چاند افق مغرب پر نظر آئے گا تو دیگر علمی حقائق کی طرح اسے بھی قبول کیوں نہ کیا جائے اور رؤیت ہلال کے بدلے اس پر اعتماد کر کے اپنے روزے اور عید کا معاملہ کیوں نہ حل کیا جائے؟

جواب :

صرف یہ ایک رائے ہی نہیں بلکہ عصر حاضر میں اس رائے پر کافی زور دیا جا رہا ہے اور وحدت رویت کا مسئلہ چھیڑتے ہوئے اس پر بھی زور دیا جاتا ہے، اہل علم کے درمیان معروف شخصیات میں سے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ(علامہ مرحوم نے اس سلسلے میں ایک مستقل رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام ہے ”أوائل الشهور العربية، هل يجوز شرعا إثباتها بالحساب الفلكي“) نے اس پر کافی زور دیا ہے۔ عصر حاضر میں فقہی مسائل پر اچھی دسترس رکھنے والے شام کے حنفی عالم شیخ مصطفی الزرقاء رحمہ اللہ علیہ(دیکھئے موصوف کا طویل مقالہ مجلة مجمع الفقه الإسلامي ميں عدد ثاني جزء ثاني، ص 932۔) کی بھی رائے یہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو بھی قرآن و حدیث اور علمائے سلف و خلف کے اقوال کی روشنی میں تفصیل اور دلیل کے ساتھ دیکھ لیا جائے۔

تاریخی پس منظر:

علمائے امت میں سے متقدمین کے درمیان یہ مسئلہ بالکل متفق علیہ رہا ہے، البتہ متاخرین میں سے بعض نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ شرعی اور تاریخی اعتبار سے اس کی بنیاد بھی تلاش کر لی ہے، پھر اسے حسن اتفاق کہیے یا سوء اتفاق کہ انھیں اپنے مطالب کے بعض دلائل بھی مل گئے، اس لیے ان کے دلائل پر تحقیقی نظر ڈالنے سے قبل ضروری ہے کہ اس کی تاریخی حیثیت پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، لہذا اس موضوع کو ہم دو بحثوں میں تقسیم کرتے ہیں:
بحث اول: مشہور اہل علم جن کی طرف اس مسئلے کی نسبت کی جاتی ہے۔
بحث دوم: ان کے دلائل کا جائزہ۔

بحث اول:

اس مسئلے میں تالیف شدہ کتابوں پر نظر رکھنے کے بعد مشاہیر اہل علم میں سے درج ذیل شخصیتوں کے نام سامنے آتے ہیں:
① مشہور تابعی مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر۔
② الامام محمد بن ادریس الشافعی۔
③ فقیہ محمد بن مقاتل حنفی الرازی۔
④ ابو العباس احمد بن عمر بن سریج الشافعی۔
⑤ عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری۔
⑥ تقی الدین علی بن عبد الکافی السبکی۔
⑦ علامہ احمد بن محمد شاکر۔ رحمہم اللہ جمیعاً۔
ان شخصیات کے علاوہ بعض اور بھی نام پیش کیے جاتے ہیں، لیکن چونکہ عمومی طور پر یا اپنے اپنے میدان میں مذکورہ شخصیات کا ایک اثر ہے اس لیے انہی ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مذکورہ ناموں کی جو فہرست پیش کی گئی ہے، اس میں حقیقت کہاں تک ہے؟ اس کا اندازه درج ذیل سطور سے بآسانی ہو سکتا ہے:

① مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر رحمہ اللہ:

(مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر رحمہ اللہ کبار تابعین میں ان کا شمار ہے۔ مشہور صحابی عبد اللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں، امام ذہبی لکھتے ہیں: (الامام القدوة الحجة) نیز صاحب ورع، مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات بزرگ تھے۔ 95ھ میں انتقال ہوا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ثقہ عابد فاضل، کتب ستہ کے رواۃ میں سے ہیں، دیکھئے: سیر اعلام النبلاء ج 4 ص 187 وبعدها، تقریب التهذیبص 948۔)
حضرت مطرف رحمہ اللہ کا نام حافظ ابن عبد البر نے التمهيد اور الاستذكار میں، حافظ العراقی نے طرح التثریب میں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لیا ہے اور ان کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ اگر انتیس کی شام مطلع ابر آلود رہے تو علم حساب اور منازل قمر پر اعتماد کر کے روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
التمہید ج 14 ص 352، الاستذکار ج 10 ص 18، فتح الباری ج 4 ص 122، طرح التثریب ج 4 ص 112۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جن علماء نے بھی اس قول کی نسبت مطرف بن عبد اللہ کی طرف کی ہے ان سب کا مرجع حافظ ابن عبد البر ہیں، اور حافظ ابن عبد البر کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے کے بعد یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ واقع میں بھی مطرف بن عبد اللہ کی طرف یہ نسبت صحیح ہو۔
چنانچہ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ اس سلسلے میں بحث کرتے ہوئے الاستذکار میں لکھتے ہیں:
قيل انه مطرف بن عبد الله بن الشخير والله اعلم كها جاتا هے كه وه مطرف بن عبد الله بن الشخير هيں، والله اعلم.
الاستذکار ج 10 ص 18۔
”کہا جاتا ہے وہ مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر ہیں واللہ علم۔ “
اور التمهيد میں اس موضوع پر ایک لمبی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وهو مذهب تركه العلماء قديما وحديثا للاحاديث الثابتة عن النبى صلى الله عليه وسلم: (صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأتموا ثلاثين) ولم يتعلق احد من فقهاء المسلمين باعتبار المنازل فى ذلك انما هو شيء روي عن مطرف بن عبد الله بن الشخير وليس بصحيح عنه والله اعلم ولو صح ما وجب اتباعه لشذوذه ولمخالفة الحجة له.
التمہید ج 14 ص 352۔
یہ ایسا مذہب ہے یعنی مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں منازل قمر کے حساب پر اعتماد کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث کی وجہ سے اگلے پچھلے تمام علماء نے اس کو ترک کر دیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو پھر اگر تمھارے اوپر بادل چھا جائیں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔“
مسلمان فقہاء میں سے کسی نے بھی رؤیت ہلال کے بارے میں منازل قمر کو بنیاد نہیں بنایا۔ اس چیز کی نسبت مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر کی طرف کی جاتی ہے، ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس قول کی نسبت مطرف کی طرف صحیح نہیں ہے اور اگر نسبت صحیح ثابت بھی ہو جائے تب بھی دلیل کی مخالفت اور قول شاذ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل واجب نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 157 طبعہ دار السلام۔
حافظ ابن عبد البر اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کی بنیاد حساب و منازل قمر پر رکھنے کا مسئلہ حضرت مطرف رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرنا دو اعتبار سے صحیح نہیں ہے:
اولاً : اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف صحیح نہیں ہے، یہیں سے ان متوافین کی غلطی یا کوتاہی کا اندازہ ہو جاتا ہے، جو اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف بصیغۂ جزم ویقین کرتے ہیں۔
ثانیاً: اگر اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف صحیح مان بھی لی جائے تو منازل قمر پر اعتماد صرف ایک صورت میں ہو سکتا ہے، وہ اس وقت جب مطلع ابر آلود ہو اور ماہرین علم فلک یہ یقین دہانی کرائیں کہ اگر ابر نہ ہوتا تو رؤیت کا معاملہ یقینی تھا۔

② امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ:

اس سلسلے کی دوسری اہم شخصیت امام شافعی کی ہے چنانچہ ان کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ جو شخص منازل قمر اور تاروں کے ذریعے چاند کے طلوع و غروب کا علم جانتا ہے اور وہ اپنے علم کے ذریعے یہ جان لے کہ آج چاند ضرور نکلے گا، لیکن چاند کے ظاہر ہونے کے وقت مطلع پر بادل چھا گیا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ کی نیت کرلے، یہ روزہ اس کے لیے کافی ہوگا، یعنی اس کا فرض ادا ہو جائے گا۔ التمہید ج 14 ص 353، 352۔ یہاں دو باتیں قابل غور ہیں:
اولاً: یہ قول نہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی کسی کتاب میں موجود ہے،مثل: الام، احکام القرآن، المسند، تاویل مختلف الحدیث وغیرہ۔ نہ ہی کسی معتبر شاگرد نے آپ سے نقل کیا ہے اور نہ امام شافعی رحمہ اللہ کے منہج سے مطابقت رکھتا ہے۔ خاص کر اگر کسی شخص نے امام موصوف کی کتاب الرسالة کا مطالعہ کیا ہے تو وہ یہ بات یقینی طور پر کہہ دے گا کہ یہ امام موصوف کا قول نہیں ہے۔ مزید برآں متعدد کبار آئمہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف اس نسبت کو غلط قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن عبد البر، امام ابن تیمیہ، حافظ زین الدین عراقی اور علامہ ابو بکر ابن العربی رحمہم اللہ جمیعاً۔
التمہید ج 14 ص 353، مجموع الفتاوی ج 25 ص 182، طرح التثریب ج 4 ص 112، عارضۃ الاحوذی ج 3 ص 307 وغیرہ۔
ثانیاً: وہی بات جو حضرت مطرف رحمہ اللہ کے بارے میں کہی گئی کہ یہ اجازت صرف اسی شخص کے لیے ہے، جو اس فن کا ماہر ہو، اور صرف اسی صورت میں جبکہ مطلع ابر آلود ہو اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند کا نظر آنا ممکن نہ ہو۔

③ الفقیہ محمد بن مقاتل الرازی :

(امام محمد بن الحسن الشیبانی کے شاگرد ہیں، امام وکیع وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں۔ علمائے حدیث نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ فقہ میں ان کا ایک مقام تھا، دیکھئے: الجواهر المضیئہ ج 3 ص 372، میزان الاعتدال ج 4 ص 47، تقریب التهذیب ص 898، کشف الاستار عن رجال معانی الآثار ص 96۔)
کتب فقہ میں آتا ہے کہ محمد بن مقاتل رازی کا مذہب تھا کہ اگر متعدد ماہرین فلک اس بات کی تائید کر دیں کہ آج رؤیت ہلال یقینی ہے، تو ان پر اعتماد کر لیتے تھے، لیکن اولاً تو ان کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث وفقہ میں وہ اس مقام پر فائز نہیں کہ ان کی مخالفت سے اجماع امت پر اثر پڑے، ثانیاً خود متعدد علمائے احناف نے ان کی رائے کی تردید کی ہے جیسے امام سرخسی وغیرہ۔
دیکھئے: المبسوط للسرخسی ج 3 ص 78، الاشباه والنظائر لابن نجیم ص 200، تنبیہ الغافل والوسنان عن احکام ہلال رمضان ص 96۔

④ ابو العباس احمد بن سریج الشافعی:

(شیخ الاسلام ابو العباس احمد بن عمر بن سریج شافعی اپنے وقت کے امام ہیں، امام شافعی کے شاگرد المزنی سے علم حاصل کیا اور اس مقام پر پہنچے کہ انہیں تیسری صدی کا مجدد کہا جانے لگا۔ 306ھ میں انتقال ہوا، کہا جاتا ہے کہ تقریباً چار سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ الوافی بالوفیات ج 7 ص 260، سیر اعلام النبلاء ج 14 ص 210 اور اس کے بعد، الاعلام للزرکلی ج 1 ص 185۔)
جن علماء کی طرف اس قول کی نسبت صحیح مانی جا سکتی ہے ان میں سے سب سے اہم اور قدیم شخصیت امام ابن سریج رحمہ اللہ کی ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے ان کا نام بڑے زوردار انداز سے لیا ہے۔
دیکھئے: رسالہ اوائل الشہور ص 15۔
لیکن چند امور قابل ملاحظہ ہیں:
① ابن سریج رحمہ اللہ کی کوئی تالیف اس وقت ہمارے سامنے موجود نہیں ہے، فقہ کی کتابوں میں ان کا ایک مجمل قول نقل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کی تفسیر اور اس سے مسائل اخذ کرنے میں فقہائے شافعیہ میں شدید اختلاف ہے، امام نووی، حافظ ابن حجر اور حافظ زین الدین عراقی رحمہم اللہ نے آئمہ شافعیہ کے کل پانچ قول نقل کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:
الف : مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو حساب اور منازل قمر کا علم رکھنے والے کے لیے اپنے علم پر اعتماد کر کے روزہ رکھنا جائز ہے۔ لیکن یہ روزہ فرض کے قائم مقام نہ ہوگا۔
ب : روزہ رکھنا جائز ہوگا اور اس سے فرض بھی ساقط ہو جائے گا۔
ج : حساب کا صحیح علم رکھنے والوں کے لیے تو ایسے دن کا روزہ رکھنا جائز ہوگا اور غیر کے لیے صحیح نہیں ہوگا۔
د : علم ہیئت اور علم نجوم کے ماہر کے لیے روزہ رکھنا جائز ہوگا اور غیر کے لیے نہیں۔
ھ : علم ہیئت اور علم نجوم کے ماہرین کے لیے بھی اور غیروں کے لیے بھی روزہ رکھنا جائز ہوگا۔
المجموع ج 6 ص 235، فتح الباری ج 4 ص 123، طرح التثریب ج 4 ص 112، 113۔ العلم المنشور للسبکی ص 20، 21۔
② امام ابن سریج رحمہ اللہ کا علم وتقویٰ اپنی جگہ مسلم اور ان کی فقہی دسترس نا قابل انکار حقیقت ہے، لیکن یہ چیز بھی قابل لحاظ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ سے ان کی ملاقات نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ابن سریج رحمہ اللہ تک کیسے پہنچا، کیونکہ ابن سریج نے اپنے قول کی بنیاد امام شافعی رحمہ اللہ ہی کے قول پر رکھی ہے۔
③ ابن سریج کی طرف منسوب قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ علم فلک کی بنیاد پر روزہ رکھنا جائز ہوگا مگر چند شروط کے ساتھ:
اولاً: علم فلک کی رو سے یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ ہلال ظاہر ہو چکا ہے۔
ثانیاً: مطلع کے ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند کا نظر آنا ممکن نہ ہو۔
ثالثاً: صرف علم فلک کا علم رکھنے والوں کے لیے اس پر عمل کرنا جائز ہوگا غیروں کے لیے نہیں۔
④ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابن سریج رحمہ اللہ نے یہ بات اپنے امام کی تقلید میں کہی ہے اور یہ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے عقیدت و تقلید میں پڑکر ایک شخص کسی بات کی تائید اور اپنے کسی قابل احترام بزرگ کی شخصیت کا دفاع پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا مقصد باطل کا دفاع کرنا نہیں ہوتا، اس لیے بہت ممکن ہے کہ امام ابو العباس رحمہ اللہ تک امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب یہ قول کسی ذریعے سے پہنچا ہو، اور وہ اپنے امام کی تقلید اور عقیدت میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں۔
اس لیے جب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امام شافعی کا یہ مسلک نہیں ہے، تو استدلال کی ساری بنیاد ہی خود بخود ختم ہوگئی۔ دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 204۔ واللہ اعلم

⑤ عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ:

(عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ، ابن قتیبہ الدینوری کے نام سے مشہور ہیں سخت قسم کے سلفی مزاج تھے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ انہیں خطیب اہل السنۃ کا لقب دیتے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ امام اسحاق ابن راہویہ کے مذہب پر تھے۔ رجب 276ھ میں انتقال ہوا۔ امام ذہبی انہیں العلامۃ الکبیر ذوالفنون سے ملقب کرتے ہیں۔ سیر اعلام النبلاء ج 13 ص 296، وفیات الاعیان ج 3 ص 42، 43۔ )
مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں علم حساب اور منازل قمر پر اعتماد کر لینے کے بارے میں علامہ ابن قتیبہ کا نام بھی حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، لیکن اولاً تو ابن قتیبہ کی طرف اس قول کی نسبت کے بارے میں کاتب سطور کو تردد ہے (تردد اس لیے ہے کہ علامہ موصوف کی متعدد کتابوں کی طرف رجوع کے بعد بھی مجھے ان کا یہ قول نہ مل سکا اور نہ ہی حافظ ابن عبد البر کے علاوہ کسی اور نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ابتدا میں مجھے قوی امید تھی کہ علامہ موصوف کی کتاب غریب الحدیث میں یہ قول مل جائے گا۔ لیکن تلاش کے باوجود یہ حدیث کتاب الصیام اور احادیث ابن عمر رضی اللہ عنہما میں نہ مل سکی واللہ اعلم۔)
ثانیاً حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ علامہ ابن قتیبہ کا یہ قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ ابن قتیبہ کا موضوع نہیں ہے اور ایسے مسائل میں ان پر اعتماد کیا جائے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
التمہید ج 14 ص 352۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ابن عبد البر کا یہ قول نقل کیا ہے اور ان کی موافقت کی ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 133۔

⑥ امام تقی الدین السبکی الشافعی رحمہ اللہ:

اس بارے میں امام سبکی رحمہ اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور ان کا بھی موقف تقریباً وہی ہے جو ابن سریج رحمہ اللہ کا نقل کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب العلم المنشور میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فانا اختار فى ذلك قول ابن سريج ومن وافقه فى الجواز خاصة لافي الوجوب وشرط اختياري للجواز حيث ينكتشف من علم الحساب انكشافا جليا امكانه ولا يحصل ذلك الا لماهر فى الصنعة.
العلم المنشور ص 22۔ متاخرین میں ایک مصری حنفی عالم شیخ محمد بن بخیت المطیعی کی بھی رائے یہی ہے۔ دیکھئے: ان کا رسالہ ارشاد اہل الملۃ ص 257، 258۔ نیز شیخ محمد بخیت المطیعی کے شاگرد احمد الغماری المغربی نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے اور اس بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ہے ”توجیہ الانظار“۔
اس بارے میں ابن سریج اور ان کے ہم رائے لوگوں کا قول پسند کرتا ہوں اور وہ صرف جواز کی حد تک وجوب کی حد تک نہیں اور جواز کے اختیار کے لیے شرط یہ ہے کہ علم حساب کی بنیاد پر یہ امر منکشف ہو کر سامنے آجائے کہ ہلال تو ضرور ظاہر ہوگا۔ اور یہ اعتبار سوائے علم فلک میں ماہر شخص کے کسی اور کو حاصل
ہونے والا نہیں ہے۔

⑦ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ:

(علامہ رحمہ اللہ 1309ھ میں مصر میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد علامہ محمد شاکر کے سایہ عاطفت میں رہ کر دینی و دنیوی تربیت حاصل کی اور اس مقام کو پہنچے کہ لوگ ان کے والد کو بھول گئے، علامہ مرحوم حدیث و تفسیر، فقہ و لغت بلکہ ہر فن میں اچھی دسترس رکھتے تھے۔ عصر حاضر کے مسائل پر ان کی اچھی نظر تھی، جیسا کہ ان کی تالیفات اور تحقیقات سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ نے موصوف کو عجیب جرات سے نوازا تھا، اپنے عصر میں اندھی تقلید اور مذہبی جمود پر بڑی کاری ضرب لگائی تیس سال سے زیادہ قاضی کے منصب پر فائز رہے، 1377ھ میں وفات پائی۔ دیکھئے: مقدمۂ کلمۂ الحق لاخیہ محمود شاکر۔)
میرے نزدیک متاخرین میں یہ سب سے اہم شخصیت ہیں کیونکہ علامہ مرحوم حدیث وفقہ بلکہ تمام علوم شرعیہ اور عربیہ میں اچھی دسترس رکھتے تھے۔ علامہ مرحوم نے 1357ھ موافق 1939م میں ایک رسالہ تالیف فرمایا جس میں تین باتوں پر زور دیا:
① قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا سے متعلق اب رؤیت ہلال پر اعتماد جائز نہیں ہے۔
② سارے عالم کو مرکز اسلامی مکہ مکرمہ کی رؤیت کے تابع ہونا چاہیے۔
③ سارے عالم کو ایک ہی دن روزہ عید اور عرفہ کا دن اپنانا چاہیے۔
علامہ مرحوم کی پہلی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس امت سے امیت کی صفت ختم ہوگئی تو اب واجب ہے کہ صرف حساب کی طرف رجوع کیا جائے، رؤیت ہلال کے مسئلے کو بالائے طاق رکھ دیا جائے اور مہینے کی پہلی تاریخ وہی ہونی چاہیے جس تاریخ کو چاند سورج کے بعد غائب ہو خواہ ایک لحظہ کے بعد ہی کیوں نہ ہوا ہو۔
اوائل الشہور ص 14۔
گزشتہ صفحات میں ہم نے مسئلہ رؤیت ہلال یا قمری مہینہ کی ابتدا وانتہا کو حساب یا منازل قمر سے متعین کرنے کا تاریخی پس منظر بیان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جلیل القدر علماء کی طرف اس رائے کو منسوب کیا جاتا ہے، ان کی طرف یہ نسبت قابل اطمینان نہیں اور جن شروط کے ساتھ ان علماء نے اجازت دی ہے، ان سے بھی عمومی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ ذاتی عمل کی اجازت ہے۔ البتہ اس دور میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ جب حساب دان اور منازل قمر کو جاننے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں تو علم فلکیات کے ذریعے قمری مہینوں کو متعین کر لینا چاہیے، اس لیے شاید میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ عصر حاضر کی بدعت ہے اور بدقسمتی سے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کا بھی قلم یہاں ٹھوکر کھا «» گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں علامہ مرحوم پر معلوم نہیں علامہ نے کسی دھن میں یہ رسالہ تحریر فرمایا ہے؟ ان جیسے سلفی اور اثری عالم سے ایسی تاویلات کا صادر ہونا عجائب عالم میں سے ہے، سچ ہے کہ راقم سطور نے جب یہ رسالہ پڑھا تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ اگر میں علامہ مرحوم کی تحریر اور ان کے اسلوب سے واقف نہ ہوتا تو کہہ دیتا کہ یہ علامہ مرحوم کی تالیف نہیں ہے، لیکن سچ ہے (لكل جواد كبوة ولكل عالم هفوة) بعد میں معلوم ہوا کہ اس تعجب و استغراب میں راقم سطور اکیلا نہیں ہے بلکہ ہم سے قبل بعض دوسرے علماء کو بھی اس پر تعجب ہوا ہے، چنانچہ شیخ اسماعیل انصاری نے علامہ احمد شاکر کی تردید میں ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام رکھا (لو غيرك قالها يا استاذ) اے استاذ! کاش کہ یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی۔ مشہور محقق علامہ بکر بن ابو زید رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شیخ اسماعیل انصاری رحمہ اللہ کے پاس مجھے شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ کا ایک خط ملا، جس میں انہوں نے اپنے لکھے پر معذرت کا اظہار کیا ہے اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ میں اس رائے پر مطمئن نہیں ہوں بلکہ میرا مقصد صرف مسئلے کو ابھارنا تھا۔ (فقه النوازل ج 2 ص 204) علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ مرحوم کو اپنی رائے پر اطمینان نہیں تھا اور اب وہ اس سے رجوع کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ مرحوم کا یہ کتابچہ 1357ھ موافق 1939م کا تحریر کردہ ہے، یعنی ان کی وفات سے تقریباً بیس سال پہلے، پھر اس کے بعد علامہ مستقل تالیف و تصنیف میں مشغول رہے، اس موضوع کو چھیڑنے کے متعدد مواقع ہاتھ آئے لیکن بالکل خاموش رہے۔ خصوصاً مسند احمد کی شرح جس کی پہلی جلد کا مقدمہ 1365ھ میں لکھا گیا اور مسند میں متعدد حدیثیں ایسی گزریں جو موضوع سے مناسبت رکھتی تھیں لیکن مرحوم نے کسی پر بھی کوئی حاشیہ نہیں لگایا حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث بھی گزری، جس سے علماء نے لكل أهل بلد رؤيتهم پر استدلال کیا ہے، اس حدیث پر حضرت علامہ مرحوم سند کے اعتبار سے بحث کرتے ہوئے گزر گئے اور ایک لفظ بھی نہیں لکھا دیکھئے: ج 2 ص 282، جب کہ یہ بڑا اہم موقع تھا اپنی رائے کے اظہار کا جیسا کہ ایسے موقعوں پر ان کی عادت رہی ہے مزید برآں یہ دیکھئے کہ وہ تفصیلی فہرست جو ہر جلد کے آخر میں رکھی ہے اور جس کے لیے مسند کا اصل کام شروع کیا تھا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پر عنوان لگاتے ہیں: رؤية الهلال ولكل أهل بلد رؤيتهم (ج 2 ص 381)
یہ تمام باتیں اس حقیقت کو تقویت دیتی ہیں کہ علامہ مرحوم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا۔ والحمد للہ۔
شیخ الا سلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وقد اجمع المسلمون عليه ولا يعرف فيه خلاف قديم اصلا ولا خلاف حديث الا ان بعض المتاخرين من المتفقهة الحادثين بعد الماية الثالثة زعم انه اذا غم الهلال صار للحاسب ان يعمل فى حق نفسه بالحساب فان كان الحساب دل على الرؤية صام والا فلا هذا القول وان كان مقيدا بالاغمام ومختصا بالحاسب فهو شاذ مسبوق بالاجماع على خلافه فاما اتباع ذلك فى الصحو و تعليق عموم الحكم العام به فما قاله مسلم.
مجموع الفتاوی ج 25 ص 133، 132۔
یعنی اس بات پر (کہ قمری ماہ کی ابتداء وانتہا میں صرف رؤیت ہلال کا اعتبار ہو گا) مسلمانوں کا اتفاق رہا ہے، نہ ہی اس بارے میں کوئی قدیم اختلاف مروی ہے اور نہ ہی جدید، ہاں تیسری صدی ہجری کے بعد کچھ فقہاء پیدا ہوئے جن کا یہ خیال تھا کہ اگر انتیس کی شام مطلع ابر آلود ہو تو علم ہیئت کا حساب جاننے والوں کے لیے جائز ہے کہ اپنے طور پر حساب کے مطابق عمل کر لیں۔ چنانچہ اگر حساب یہ کہتا ہے کہ (اگر مطلع صاف ہوتا تو رؤیت ہلال یقینی تھا تو) روزہ رکھے ورنہ نہیں، یہ قول اگر چہ مطلع کے ابرآلود ہونے کے ساتھ مشروط اور اہل ہیئت کے ساتھ خاص ہے، پھر بھی شاذ اور اجماع امت کے بعد پیدا ہوا ہے، البتہ مطلع صاف ہونے کی صورت میں اسے ماننا اور اسے ایک عام حکم قرار دینا ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس کا قائل کبھی کوئی مسلمان نہیں رہا۔
لیکن یہاں ایک یہ سوال ہے کہ اہل ہیئت کا قول مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں تو قابل حجت ہو اور مطلع کے صاف ہونے کی صورت میں قابل حجت نہ ہو، اس تفریق پر قرآن و حدیث سے کیا دلیل ہے؟ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين کا کیا معنی ہے، جبکہ یہ حدیث صرف کتب ستہ میں تقریباً نصف درجن صحابہ کرام سے مروی ہے۔ دیکھئے: جامع الاصول ج 6 ص 260 اور اس کے بعد۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن سریج کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ابن الصباغ عبد السید بن محمد کہتے ہیں کہ علم حساب وفلک کی بنیاد پر روزہ رکھنا قطعاً واجب نہ ہوگا، ہمارے مذہب کے اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ ابن المنذر نے اپنی کتاب الاشراف میں اس بات پر امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ مطلع کے ابرآلود ہونے کی وجہ سے اگر چاند نہ نظر آئے تو تیسویں دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں ہے بلکہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے مکروہ کہا ہے۔ واضح رہے کہ ابن المنذر نے علم فلکیات کا حساب جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے درمیان کوئی فرق ذکر نہیں کیا ہے۔ اس لیے جو شخص اس میں فرق ظاہر کرتا ہے اس کے خلاف اجماع حجت ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 157، 158 طبع دار السلام۔ تفصیل دیکھئے: ابحاث ہیئۃ کبار العلماء ج 3 ص 30۔
ان دونوں اماموں کی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ قمری مہینوں کے ثبوت کے لیے رؤیت ہلال شرط ہے، ورنہ تیس دنوں کی گنتی پوری کرنا ضروری ہے۔ یہی علمائے سلف وخلف کا مسلک رہا ہے، اگر بعد میں کچھ لوگوں نے اس اجماع سے اختلاف کیا ہے تو بڑے ہی محدود دائرے میں، جس سے اجماع امت متاثر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس کی حجیت باقی رہتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی نے بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس رائے کی تائید کی ہے (دیکھئے سابقہ حوالہ) مشہور محقق شیخ بکر بن ابو زید رحمہ اللہ نے اس موضوع پر ایک طویل مقالہ تحریر کیا ہے جس کا پڑھنا ہر طالب علم کے لیے ازحد مفید ہے۔
فقه النوازل ج 2 ص 189 اور اس کے بعد۔