رؤیتِ ہلال کی شرعی حیثیت اور حسابِ فلکی کا جائزہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مقصود الحسن فیضی کی کتاب رویت ہلال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فضل: 1

رؤیت ہلال کی اہمیت

شریعت کی نظر میں رویت ہلال کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ مسلمانوں کی عبادات و معاملات کا دار و مدار قمری مہینوں پر ہے اور قمری مہینوں کی صحیح معرفت رؤیت ہلال کا اہتمام کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ اپنے رسالہ ”الہلال “میں رویت ہلال اور اس کی اہمیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
المقصود ان التسعة والعشرين يجب عددها واعتبارها بكل حال فى كل وقت.
مجموع فتاوی ج 25 ص 153، اہل ذوق طلبہ سے گذارش ہے کہ شیخ الاسلام کا رسالہ الہلال ضرور پڑھیں۔
”مقصد یہ ہے کہ انتیس تاریخ کو شمار کرنا اور اس کا حساب ہر وقت اور ہر حال میں واجب ہے۔“
خصوصاً محرم، شعبان ورمضان اور ذی الحجہ کے مہینوں کا چاند اور اس کا اہتمام کچھ زیادہ ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان مہینوں سے اسلام کے بعض ارکان منسلک ہیں، مشہور ہندوستانی عالم علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
مسألة: يجب على الناس كفاية ان يلتمسوا هلال رمضان يوم التاسع والعشرين من شعبان لأنه قد يكون ناقصا نص عليه الشرنبلالي فى مراقي الفلاح.
القول المنشور في هلال خير الشهور ص 148 نیز دیکھئے: مراقي الفلاح ص 126، شرح فتح القدير ج 2 ص 313۔ صرف یہی نہیں بلکہ جمہور فقہاء نے اسے فرض کفایہ قرار دیا ہے دیکھئے: الـفـقـه عـلـى المذاهب الأربعة ج 1 ص 551، بحوث فقهية معاصرة للدكتور الشريف ص 223 .
”لوگوں پر فرض کفایہ ہے کہ 29 شعبان کو رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ کبھی کبھار مہینہ ناقص یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے علامہ شرنبلالی وغیرہ نے مراقی الفلاح میں اس کی تصریح کی ہے۔“

رؤیت ہلال؛ احادیث کی روشنی میں:

رؤیت ہلال کی اہمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے بھی واضح ہے:
أحصوا هلال شعبان لرمضان.
سنن الترمذي : 687 الصوم ، مستدرك الحاكم ج 1 ص 425 ، سنن الدار قطنی ج 2 ص 163 ، بروایت ابو ہریرہ دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحه :565 ۔
”شعبان کے چاند کو رمضان کے لیے اچھی طرح شمار کرو اور یاد رکھو۔“
② حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول نقل فرماتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ من شعبان ما لا يتحفظ لغيره فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام.
سنن ابو داود : 2325 الصوم ، صحیح ابن خزیمه : 1910 ج 3 ص 203 ، صحیح ابن حبان الموارد : 869 دیکھئے: صحیح سنن أبی داودج 3 ص 50 .
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند یا دنوں کو یاد رکھنے میں جس قدر اہتمام سے کام لیتے تھے، اس قدر کسی دوسرے ماہ کے دنوں کو یاد رکھنے کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے لیکن اگر انتیسویں شعبان کی شام کو بدلی چھا جاتی تو تیس کی گنتی پوری کرتے، اس کے بعد روزہ رکھتے۔
یعنی ماہ شعبان کے دنوں کو شمار کرتے اور انھیں یاد رکھنے میں اہتمام سے کام لیتے تاکہ رمضان کے روزے اپنی صحیح تاریخوں میں رکھے جا سکیں، ایسا نہ ہو کہ شعبان کے دنوں کے شمار میں بھول ہو جائے تو رمضان کے روزے خطرے میں پڑ جائیں، واللہ اعلم۔
المرعاة ج 6 ص 451 .
مذکورہ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ:
① رؤیت ہلال کے اہتمام کا حکم ہے، خاص کر شعبان ورمضان کا۔
② شعبان کے چاند اور دنوں کے اہتمام میں مدت سے کام لینا اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے مہینوں کے چاند کا بھی عمومی اہتمام کرنا چاہیے۔
③ ہر ماہ کے چاند اور ان کے اہتمام کا ثبوت درج ذیل حدیثوں سے بھی ہوتا ہے:
الف: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایام بیض یعنی ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے روزوں کی ترغیب دلاتے تھے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت – صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى ونوم على الوتر.
صحيح البخاری : 1981 الصوم، باب صيام البيض ثلاث عشرة أربع عشرة وخمس عشرة-صحیح مسلم : 720 کتاب صلاة التطوع : باب نمبر 10 .
میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتا، ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی نماز اور سونے سے قبل وتر کی نماز پڑھنا۔
یہی وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء ( صحیح مسلم :722، صلاة التطوع ، سنن أبي داود:1433 الصلاة دیکھئے: صحيح الترغيب والترهيب ج 1 ص 598 .) اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما (مسند أحمد : ج 5 ص 173 – سنن النسائي : 2406 الصوم – صحيح ابن خزيمه 3 ص 144 .) کو بھی فرمائی تھی۔
صرف یہی چند صحابہ رضی اللہ عنہم نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ترغیبی حکم تھا۔
حضرت قدامہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا بصيام أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة وقال هن كهيئة الدهر.
سنن ابو داود : 2449 الصوم ، سنن النسائى : 2432 الصوم، سنن ابن ماجه : 1707 الصيام بروايت قدامة بن ملحان دیکھئے : صحيح الترغيب ج 1 ص 603 .
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ایام بیض کے روزے رکھیں یعنی 13، 14 اور 15 تاریخ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ان دنوں کا روزہ رکھنا گویا پورے سال کا روزہ رکھنا ہے۔“
اب ظاہر ہے کہ اگر ہر مہینے کے چاند اور اس کی رؤیت کا اہتمام نہ کیا گیا تو ان تاریخوں کی صحیح تعیین کس طرح ممکن ہے؟ اسی لیے اللہ کے وہ بندے جو اس وصیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا رہتے ہیں وہ ہر ماہ رویت ہلال کا اہتمام بھی کرتے ہیں جیسا کہ راقم سطور نے بعض بزرگوں کو دیکھا ہے۔
ب : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہ نو کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله.
مسند احمد ج 1 ص 162 – سنن الترمذى : 3451: الدعوات – مستدرك الحاكم ج 4 ص 285 دیکھئے: الصحيحة: 1816 .
”اے اللہ تعالیٰ اس چاند کو ہمارے اوپر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما، اے چاند ہمارا اور تیرا رب اللہ ہے۔“
دعاء کے الفاظ اور عمومی طور پر حدیث کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رویت ہلال کا سخت اہتمام فرماتے تھے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رویت ہلال ایک ایسا اہم عمل ہے کہ اس کا اہتمام کرنا اور اس کے دیکھنے کے بعد دعاء کا پڑھنا ایک شرعی عمل اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ واللہ اعلم۔
ج : مسلمانوں کی زندگی کے بہت سے مسائل قمری مہینوں سے اس طرح منسلک ہیں کہ رؤیت ہلال کا اہتمام کیے بغیر ان کی صحیح ادائیگی مشکل ہے۔ مثلاً عدت طلاق، عدت وفات، نذر کے روزے اور کفارے کے روزے وغیرہ جیسے واجبی امور، نیز عرفہ کا روزہ، عاشوراء کا روزہ، اسی طرح کے اور نفلی روزے، عید الاضحی اور ایام تشریق کی صحیح تعیین، جن دنوں کا روزہ رکھنا حرام ہے ان کی معلومات، یہ تمام امور اور ان کے علاوہ مسلمانوں کے باہمی لین دین کے مسائل بغیر رؤیت ہلال کے اہتمام کے ممکن ہی نہیں ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ رویت ہلال کا اہتمام کیا جائے، لیکن بدقسمتی سے مسلمان دوسرے دینی امور کی طرح اس بارے میں بھی کوتاہی کا شکار ہیں۔ والله المستعان.

کیا رویت ہلال کے لیے جدید آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں:

عصر حاضر میں ہر چیز کے لیے کچھ آلے اور مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں جن سے لوگوں کے کاموں میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ آلات و مشینیں کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدلتیں، بلکہ اس چیز کے حصول میں آسانی یا اس میں پیدا شدہ خلل کی اصلاح کر دیتی ہیں وغیرہ، بعینہ اسی طرح بعض آلے ایسے ایجاد ہوئے ہیں، جو بعض موجود اشیاء کو انسان کے سامنے واضح اور صاف کر کے پیش کر دیتے ہیں جبکہ اس چیز کے وجود میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتے جیسے اگر کسی انسان کی نظر کمزور ہے تو اس کے لیے چشمہ ہے جو نظر کی کمی پورا کر دیتا ہے، انہی آلات میں سے خوردبین اور دوربین آلے بھی ہیں ان کا فائدہ یہ ہے کہ جب انسان کسی چیز کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے حجم کو بڑا کر کے ظاہر کرتے ہیں یا اسے دیکھنے والے کی نظر کے قریب کر دیتے ہیں تا کہ انسان کو اس چیز کے مشاہدے میں آسانی ہو، یہ نہیں ہوتا کہ یہ آلے کسی غیر موجود چیز کا وجود ظاہر کر دیں یا اس کی حقیقت میں کوئی تبدیلی کر دیں۔
اس حقیقت کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رؤیت ہلال کے لیے دوربین وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خاص کر اس زمانے میں جبکہ جہاں ایک طرف عمومی طور پر لوگ نظر کی کمزوری کا شکار ہیں تو دوسری طرف بڑے شہروں کے اردگرد فضا گرد آلود اور کارخانوں اور گاڑیوں کے دھوئیں سے پر رہتی ہے۔ علامہ قسیم شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سوال کے جواب میں رویت ہلال کے لیے دوربین وغیرہ کے استعمال کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: "مہینے کے دخول کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کریں اور چاہیے کہ اس کام کے لیے وہ لوگ تیار کیے جائیں جن کے دین و ایمان اور قوت نظر پر اعتماد کیا جا سکے پھر اگر یہ لوگ چاند دیکھ لیں تو اس رؤیت پر عمل کرنا واجب ہو گا یعنی اگر رمضان کا چاند ہے تو روزہ رکھنا واجب ہو گا اور اگر شوال کا چاند ہے تو افطار کرنا واجب ہو گا، البتہ جہاں تک دور بین کے استعمال کا تعلق ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن اس کا استعمال واجب بھی نہیں ہے کیونکہ حدیث سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ محض رویت پر اعتماد ہونا چاہیے نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر، لیکن اگر کوئی قابل اعتماد آدمی دور بین کے ذریعے چاند دیکھ لیتا ہے تو اس کی رؤیت کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ جب کبھی کسی بھی ذریعے سے رؤیت ثابت ہو گی تو اس رؤیت کے مطابق عمل کیا جائے گا، جس کی دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا.
”جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔“
مجموع رسائل وفتاوى الشيخ ابن عثيمين ج19 ص 37، 36 .
مملکت سعودی عرب کی دائمی فتوی کمیٹی نے بھی یہی فتوی دیا ہے۔
فتاوى اللجنة الدائمة ج 10 ص 99 .

شرعی مہینوں کے اثبات کے لیے حساب اور علم فلک پر اعتماد:

یہ موضوع گزر چکا ہے کہ قمری اور شرعی مہینوں کی معرفت کا ذریعہ اسلام نے صرف رؤیت ہلال مقرر کیا ہے، دلیل کے طور پر بعض حدیثیں نقل کی جا چکی ہیں اور اسی مقام پر یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ علمائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں صرف اور صرف رؤیت ہلال کا اعتبار ہو گا۔

سوال :

اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ عصر حاضر میں جب کہ علم سائنس نے یہ تحدید کر دی ہے کہ اتنے بج کر اتنے منٹ پر چاند افق مغرب پر نظر آئے گا تو دیگر علمی حقائق کی طرح اسے بھی قبول کیوں نہ کیا جائے اور رؤیت ہلال کے بدلے اس پر اعتماد کر کے اپنے روزے اور عید کا معاملہ کیوں نہ حل کیا جائے؟

جواب :

صرف یہ ایک رائے ہی نہیں بلکہ عصر حاضر میں اس رائے پر کافی زور دیا جا رہا ہے اور وحدت رویت کا مسئلہ چھیڑتے ہوئے اس پر بھی زور دیا جاتا ہے، اہل علم کے درمیان معروف شخصیات میں سے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ علیہ(علامہ مرحوم نے اس سلسلے میں ایک مستقل رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام ہے ”أوائل الشهور العربية، هل يجوز شرعا إثباتها بالحساب الفلكي“) نے اس پر کافی زور دیا ہے۔ عصر حاضر میں فقہی مسائل پر اچھی دسترس رکھنے والے شام کے حنفی عالم شیخ مصطفی الزرقاء رحمہ اللہ علیہ(دیکھئے موصوف کا طویل مقالہ مجلة مجمع الفقه الإسلامي ميں عدد ثاني جزء ثاني، ص 932۔) کی بھی رائے یہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو بھی قرآن و حدیث اور علمائے سلف و خلف کے اقوال کی روشنی میں تفصیل اور دلیل کے ساتھ دیکھ لیا جائے۔

تاریخی پس منظر:

علمائے امت میں سے متقدمین کے درمیان یہ مسئلہ بالکل متفق علیہ رہا ہے، البتہ متاخرین میں سے بعض نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ شرعی اور تاریخی اعتبار سے اس کی بنیاد بھی تلاش کر لی ہے، پھر اسے حسن اتفاق کہیے یا سوء اتفاق کہ انھیں اپنے مطالب کے بعض دلائل بھی مل گئے، اس لیے ان کے دلائل پر تحقیقی نظر ڈالنے سے قبل ضروری ہے کہ اس کی تاریخی حیثیت پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، لہذا اس موضوع کو ہم دو بحثوں میں تقسیم کرتے ہیں:
بحث اول: مشہور اہل علم جن کی طرف اس مسئلے کی نسبت کی جاتی ہے۔
بحث دوم: ان کے دلائل کا جائزہ۔

بحث اول:

اس مسئلے میں تالیف شدہ کتابوں پر نظر رکھنے کے بعد مشاہیر اہل علم میں سے درج ذیل شخصیتوں کے نام سامنے آتے ہیں:
① مشہور تابعی مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر۔
② الامام محمد بن ادریس الشافعی۔
③ فقیہ محمد بن مقاتل حنفی الرازی۔
④ ابو العباس احمد بن عمر بن سریج الشافعی۔
⑤ عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری۔
⑥ تقی الدین علی بن عبد الکافی السبکی۔
⑦ علامہ احمد بن محمد شاکر۔ رحمہم اللہ جمیعاً۔
ان شخصیات کے علاوہ بعض اور بھی نام پیش کیے جاتے ہیں، لیکن چونکہ عمومی طور پر یا اپنے اپنے میدان میں مذکورہ شخصیات کا ایک اثر ہے اس لیے انہی ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مذکورہ ناموں کی جو فہرست پیش کی گئی ہے، اس میں حقیقت کہاں تک ہے؟ اس کا اندازه درج ذیل سطور سے بآسانی ہو سکتا ہے:

① مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر رحمہ اللہ:

(مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر رحمہ اللہ کبار تابعین میں ان کا شمار ہے۔ مشہور صحابی عبد اللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں، امام ذہبی لکھتے ہیں: (الامام القدوة الحجة) نیز صاحب ورع، مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات بزرگ تھے۔ 95ھ میں انتقال ہوا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ثقہ عابد فاضل، کتب ستہ کے رواۃ میں سے ہیں، دیکھئے: سیر اعلام النبلاء ج 4 ص 187 وبعدها، تقریب التهذیبص 948۔)
حضرت مطرف رحمہ اللہ کا نام حافظ ابن عبد البر نے التمهيد اور الاستذكار میں، حافظ العراقی نے طرح التثریب میں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لیا ہے اور ان کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ اگر انتیس کی شام مطلع ابر آلود رہے تو علم حساب اور منازل قمر پر اعتماد کر کے روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
التمہید ج 14 ص 352، الاستذکار ج 10 ص 18، فتح الباری ج 4 ص 122، طرح التثریب ج 4 ص 112۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جن علماء نے بھی اس قول کی نسبت مطرف بن عبد اللہ کی طرف کی ہے ان سب کا مرجع حافظ ابن عبد البر ہیں، اور حافظ ابن عبد البر کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے کے بعد یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ واقع میں بھی مطرف بن عبد اللہ کی طرف یہ نسبت صحیح ہو۔
چنانچہ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ اس سلسلے میں بحث کرتے ہوئے الاستذکار میں لکھتے ہیں:
قيل انه مطرف بن عبد الله بن الشخير والله اعلم كها جاتا هے كه وه مطرف بن عبد الله بن الشخير هيں، والله اعلم.
الاستذکار ج 10 ص 18۔
”کہا جاتا ہے وہ مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر ہیں واللہ علم۔ “
اور التمهيد میں اس موضوع پر ایک لمبی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وهو مذهب تركه العلماء قديما وحديثا للاحاديث الثابتة عن النبى صلى الله عليه وسلم: (صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأتموا ثلاثين) ولم يتعلق احد من فقهاء المسلمين باعتبار المنازل فى ذلك انما هو شيء روي عن مطرف بن عبد الله بن الشخير وليس بصحيح عنه والله اعلم ولو صح ما وجب اتباعه لشذوذه ولمخالفة الحجة له.
التمہید ج 14 ص 352۔
یہ ایسا مذہب ہے یعنی مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں منازل قمر کے حساب پر اعتماد کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث کی وجہ سے اگلے پچھلے تمام علماء نے اس کو ترک کر دیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو پھر اگر تمھارے اوپر بادل چھا جائیں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔“
مسلمان فقہاء میں سے کسی نے بھی رؤیت ہلال کے بارے میں منازل قمر کو بنیاد نہیں بنایا۔ اس چیز کی نسبت مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر کی طرف کی جاتی ہے، ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس قول کی نسبت مطرف کی طرف صحیح نہیں ہے اور اگر نسبت صحیح ثابت بھی ہو جائے تب بھی دلیل کی مخالفت اور قول شاذ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل واجب نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 157 طبعہ دار السلام۔
حافظ ابن عبد البر اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کی بنیاد حساب و منازل قمر پر رکھنے کا مسئلہ حضرت مطرف رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرنا دو اعتبار سے صحیح نہیں ہے:
اولاً : اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف صحیح نہیں ہے، یہیں سے ان متوافین کی غلطی یا کوتاہی کا اندازہ ہو جاتا ہے، جو اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف بصیغۂ جزم ویقین کرتے ہیں۔
ثانیاً: اگر اس قول کی نسبت حضرت مطرف کی طرف صحیح مان بھی لی جائے تو منازل قمر پر اعتماد صرف ایک صورت میں ہو سکتا ہے، وہ اس وقت جب مطلع ابر آلود ہو اور ماہرین علم فلک یہ یقین دہانی کرائیں کہ اگر ابر نہ ہوتا تو رؤیت کا معاملہ یقینی تھا۔

② امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ:

اس سلسلے کی دوسری اہم شخصیت امام شافعی کی ہے چنانچہ ان کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ جو شخص منازل قمر اور تاروں کے ذریعے چاند کے طلوع و غروب کا علم جانتا ہے اور وہ اپنے علم کے ذریعے یہ جان لے کہ آج چاند ضرور نکلے گا، لیکن چاند کے ظاہر ہونے کے وقت مطلع پر بادل چھا گیا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ کی نیت کرلے، یہ روزہ اس کے لیے کافی ہوگا، یعنی اس کا فرض ادا ہو جائے گا۔ التمہید ج 14 ص 353، 352۔ یہاں دو باتیں قابل غور ہیں:
اولاً: یہ قول نہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی کسی کتاب میں موجود ہے،مثل: الام، احکام القرآن، المسند، تاویل مختلف الحدیث وغیرہ۔ نہ ہی کسی معتبر شاگرد نے آپ سے نقل کیا ہے اور نہ امام شافعی رحمہ اللہ کے منہج سے مطابقت رکھتا ہے۔ خاص کر اگر کسی شخص نے امام موصوف کی کتاب الرسالة کا مطالعہ کیا ہے تو وہ یہ بات یقینی طور پر کہہ دے گا کہ یہ امام موصوف کا قول نہیں ہے۔ مزید برآں متعدد کبار آئمہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف اس نسبت کو غلط قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن عبد البر، امام ابن تیمیہ، حافظ زین الدین عراقی اور علامہ ابو بکر ابن العربی رحمہم اللہ جمیعاً۔
التمہید ج 14 ص 353، مجموع الفتاوی ج 25 ص 182، طرح التثریب ج 4 ص 112، عارضۃ الاحوذی ج 3 ص 307 وغیرہ۔
ثانیاً: وہی بات جو حضرت مطرف رحمہ اللہ کے بارے میں کہی گئی کہ یہ اجازت صرف اسی شخص کے لیے ہے، جو اس فن کا ماہر ہو، اور صرف اسی صورت میں جبکہ مطلع ابر آلود ہو اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند کا نظر آنا ممکن نہ ہو۔

③ الفقیہ محمد بن مقاتل الرازی :

(امام محمد بن الحسن الشیبانی کے شاگرد ہیں، امام وکیع وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں۔ علمائے حدیث نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ فقہ میں ان کا ایک مقام تھا، دیکھئے: الجواهر المضیئہ ج 3 ص 372، میزان الاعتدال ج 4 ص 47، تقریب التهذیب ص 898، کشف الاستار عن رجال معانی الآثار ص 96۔)
کتب فقہ میں آتا ہے کہ محمد بن مقاتل رازی کا مذہب تھا کہ اگر متعدد ماہرین فلک اس بات کی تائید کر دیں کہ آج رؤیت ہلال یقینی ہے، تو ان پر اعتماد کر لیتے تھے، لیکن اولاً تو ان کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث وفقہ میں وہ اس مقام پر فائز نہیں کہ ان کی مخالفت سے اجماع امت پر اثر پڑے، ثانیاً خود متعدد علمائے احناف نے ان کی رائے کی تردید کی ہے جیسے امام سرخسی وغیرہ۔
دیکھئے: المبسوط للسرخسی ج 3 ص 78، الاشباه والنظائر لابن نجیم ص 200، تنبیہ الغافل والوسنان عن احکام ہلال رمضان ص 96۔

④ ابو العباس احمد بن سریج الشافعی:

(شیخ الاسلام ابو العباس احمد بن عمر بن سریج شافعی اپنے وقت کے امام ہیں، امام شافعی کے شاگرد المزنی سے علم حاصل کیا اور اس مقام پر پہنچے کہ انہیں تیسری صدی کا مجدد کہا جانے لگا۔ 306ھ میں انتقال ہوا، کہا جاتا ہے کہ تقریباً چار سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ الوافی بالوفیات ج 7 ص 260، سیر اعلام النبلاء ج 14 ص 210 اور اس کے بعد، الاعلام للزرکلی ج 1 ص 185۔)
جن علماء کی طرف اس قول کی نسبت صحیح مانی جا سکتی ہے ان میں سے سب سے اہم اور قدیم شخصیت امام ابن سریج رحمہ اللہ کی ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے ان کا نام بڑے زوردار انداز سے لیا ہے۔
دیکھئے: رسالہ اوائل الشہور ص 15۔
لیکن چند امور قابل ملاحظہ ہیں:
① ابن سریج رحمہ اللہ کی کوئی تالیف اس وقت ہمارے سامنے موجود نہیں ہے، فقہ کی کتابوں میں ان کا ایک مجمل قول نقل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کی تفسیر اور اس سے مسائل اخذ کرنے میں فقہائے شافعیہ میں شدید اختلاف ہے، امام نووی، حافظ ابن حجر اور حافظ زین الدین عراقی رحمہم اللہ نے آئمہ شافعیہ کے کل پانچ قول نقل کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:
الف : مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو حساب اور منازل قمر کا علم رکھنے والے کے لیے اپنے علم پر اعتماد کر کے روزہ رکھنا جائز ہے۔ لیکن یہ روزہ فرض کے قائم مقام نہ ہوگا۔
ب : روزہ رکھنا جائز ہوگا اور اس سے فرض بھی ساقط ہو جائے گا۔
ج : حساب کا صحیح علم رکھنے والوں کے لیے تو ایسے دن کا روزہ رکھنا جائز ہوگا اور غیر کے لیے صحیح نہیں ہوگا۔
د : علم ہیئت اور علم نجوم کے ماہر کے لیے روزہ رکھنا جائز ہوگا اور غیر کے لیے نہیں۔
ھ : علم ہیئت اور علم نجوم کے ماہرین کے لیے بھی اور غیروں کے لیے بھی روزہ رکھنا جائز ہوگا۔
المجموع ج 6 ص 235، فتح الباری ج 4 ص 123، طرح التثریب ج 4 ص 112، 113۔ العلم المنشور للسبکی ص 20، 21۔
② امام ابن سریج رحمہ اللہ کا علم وتقویٰ اپنی جگہ مسلم اور ان کی فقہی دسترس نا قابل انکار حقیقت ہے، لیکن یہ چیز بھی قابل لحاظ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ سے ان کی ملاقات نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ابن سریج رحمہ اللہ تک کیسے پہنچا، کیونکہ ابن سریج نے اپنے قول کی بنیاد امام شافعی رحمہ اللہ ہی کے قول پر رکھی ہے۔
③ ابن سریج کی طرف منسوب قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ علم فلک کی بنیاد پر روزہ رکھنا جائز ہوگا مگر چند شروط کے ساتھ:
اولاً: علم فلک کی رو سے یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ ہلال ظاہر ہو چکا ہے۔
ثانیاً: مطلع کے ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند کا نظر آنا ممکن نہ ہو۔
ثالثاً: صرف علم فلک کا علم رکھنے والوں کے لیے اس پر عمل کرنا جائز ہوگا غیروں کے لیے نہیں۔
④ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابن سریج رحمہ اللہ نے یہ بات اپنے امام کی تقلید میں کہی ہے اور یہ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے عقیدت و تقلید میں پڑکر ایک شخص کسی بات کی تائید اور اپنے کسی قابل احترام بزرگ کی شخصیت کا دفاع پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا مقصد باطل کا دفاع کرنا نہیں ہوتا، اس لیے بہت ممکن ہے کہ امام ابو العباس رحمہ اللہ تک امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب یہ قول کسی ذریعے سے پہنچا ہو، اور وہ اپنے امام کی تقلید اور عقیدت میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں۔
اس لیے جب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امام شافعی کا یہ مسلک نہیں ہے، تو استدلال کی ساری بنیاد ہی خود بخود ختم ہوگئی۔ دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 204۔ واللہ اعلم

⑤ عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ:

(عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ، ابن قتیبہ الدینوری کے نام سے مشہور ہیں سخت قسم کے سلفی مزاج تھے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ انہیں خطیب اہل السنۃ کا لقب دیتے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ امام اسحاق ابن راہویہ کے مذہب پر تھے۔ رجب 276ھ میں انتقال ہوا۔ امام ذہبی انہیں العلامۃ الکبیر ذوالفنون سے ملقب کرتے ہیں۔ سیر اعلام النبلاء ج 13 ص 296، وفیات الاعیان ج 3 ص 42، 43۔ )
مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں علم حساب اور منازل قمر پر اعتماد کر لینے کے بارے میں علامہ ابن قتیبہ کا نام بھی حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، لیکن اولاً تو ابن قتیبہ کی طرف اس قول کی نسبت کے بارے میں کاتب سطور کو تردد ہے (تردد اس لیے ہے کہ علامہ موصوف کی متعدد کتابوں کی طرف رجوع کے بعد بھی مجھے ان کا یہ قول نہ مل سکا اور نہ ہی حافظ ابن عبد البر کے علاوہ کسی اور نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ابتدا میں مجھے قوی امید تھی کہ علامہ موصوف کی کتاب غریب الحدیث میں یہ قول مل جائے گا۔ لیکن تلاش کے باوجود یہ حدیث کتاب الصیام اور احادیث ابن عمر رضی اللہ عنہما میں نہ مل سکی واللہ اعلم۔)
ثانیاً حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ علامہ ابن قتیبہ کا یہ قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ ابن قتیبہ کا موضوع نہیں ہے اور ایسے مسائل میں ان پر اعتماد کیا جائے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
التمہید ج 14 ص 352۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ابن عبد البر کا یہ قول نقل کیا ہے اور ان کی موافقت کی ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 133۔

⑥ امام تقی الدین السبکی الشافعی رحمہ اللہ:

اس بارے میں امام سبکی رحمہ اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور ان کا بھی موقف تقریباً وہی ہے جو ابن سریج رحمہ اللہ کا نقل کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب العلم المنشور میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فانا اختار فى ذلك قول ابن سريج ومن وافقه فى الجواز خاصة لافي الوجوب وشرط اختياري للجواز حيث ينكتشف من علم الحساب انكشافا جليا امكانه ولا يحصل ذلك الا لماهر فى الصنعة.
العلم المنشور ص 22۔ متاخرین میں ایک مصری حنفی عالم شیخ محمد بن بخیت المطیعی کی بھی رائے یہی ہے۔ دیکھئے: ان کا رسالہ ارشاد اہل الملۃ ص 257، 258۔ نیز شیخ محمد بخیت المطیعی کے شاگرد احمد الغماری المغربی نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے اور اس بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ہے ”توجیہ الانظار“۔
اس بارے میں ابن سریج اور ان کے ہم رائے لوگوں کا قول پسند کرتا ہوں اور وہ صرف جواز کی حد تک وجوب کی حد تک نہیں اور جواز کے اختیار کے لیے شرط یہ ہے کہ علم حساب کی بنیاد پر یہ امر منکشف ہو کر سامنے آجائے کہ ہلال تو ضرور ظاہر ہوگا۔ اور یہ اعتبار سوائے علم فلک میں ماہر شخص کے کسی اور کو حاصل
ہونے والا نہیں ہے۔

⑦ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ:

(علامہ رحمہ اللہ 1309ھ میں مصر میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد علامہ محمد شاکر کے سایہ عاطفت میں رہ کر دینی و دنیوی تربیت حاصل کی اور اس مقام کو پہنچے کہ لوگ ان کے والد کو بھول گئے، علامہ مرحوم حدیث و تفسیر، فقہ و لغت بلکہ ہر فن میں اچھی دسترس رکھتے تھے۔ عصر حاضر کے مسائل پر ان کی اچھی نظر تھی، جیسا کہ ان کی تالیفات اور تحقیقات سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ نے موصوف کو عجیب جرات سے نوازا تھا، اپنے عصر میں اندھی تقلید اور مذہبی جمود پر بڑی کاری ضرب لگائی تیس سال سے زیادہ قاضی کے منصب پر فائز رہے، 1377ھ میں وفات پائی۔ دیکھئے: مقدمۂ کلمۂ الحق لاخیہ محمود شاکر۔)
میرے نزدیک متاخرین میں یہ سب سے اہم شخصیت ہیں کیونکہ علامہ مرحوم حدیث وفقہ بلکہ تمام علوم شرعیہ اور عربیہ میں اچھی دسترس رکھتے تھے۔ علامہ مرحوم نے 1357ھ موافق 1939م میں ایک رسالہ تالیف فرمایا جس میں تین باتوں پر زور دیا:
① قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا سے متعلق اب رؤیت ہلال پر اعتماد جائز نہیں ہے۔
② سارے عالم کو مرکز اسلامی مکہ مکرمہ کی رؤیت کے تابع ہونا چاہیے۔
③ سارے عالم کو ایک ہی دن روزہ عید اور عرفہ کا دن اپنانا چاہیے۔
علامہ مرحوم کی پہلی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس امت سے امیت کی صفت ختم ہوگئی تو اب واجب ہے کہ صرف حساب کی طرف رجوع کیا جائے، رؤیت ہلال کے مسئلے کو بالائے طاق رکھ دیا جائے اور مہینے کی پہلی تاریخ وہی ہونی چاہیے جس تاریخ کو چاند سورج کے بعد غائب ہو خواہ ایک لحظہ کے بعد ہی کیوں نہ ہوا ہو۔
اوائل الشہور ص 14۔
گزشتہ صفحات میں ہم نے مسئلہ رؤیت ہلال یا قمری مہینہ کی ابتدا وانتہا کو حساب یا منازل قمر سے متعین کرنے کا تاریخی پس منظر بیان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جلیل القدر علماء کی طرف اس رائے کو منسوب کیا جاتا ہے، ان کی طرف یہ نسبت قابل اطمینان نہیں اور جن شروط کے ساتھ ان علماء نے اجازت دی ہے، ان سے بھی عمومی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ ذاتی عمل کی اجازت ہے۔ البتہ اس دور میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ جب حساب دان اور منازل قمر کو جاننے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں تو علم فلکیات کے ذریعے قمری مہینوں کو متعین کر لینا چاہیے، اس لیے شاید میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ عصر حاضر کی بدعت ہے اور بدقسمتی سے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کا بھی قلم یہاں ٹھوکر کھا «» گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں علامہ مرحوم پر معلوم نہیں علامہ نے کسی دھن میں یہ رسالہ تحریر فرمایا ہے؟ ان جیسے سلفی اور اثری عالم سے ایسی تاویلات کا صادر ہونا عجائب عالم میں سے ہے، سچ ہے کہ راقم سطور نے جب یہ رسالہ پڑھا تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ اگر میں علامہ مرحوم کی تحریر اور ان کے اسلوب سے واقف نہ ہوتا تو کہہ دیتا کہ یہ علامہ مرحوم کی تالیف نہیں ہے، لیکن سچ ہے (لكل جواد كبوة ولكل عالم هفوة) بعد میں معلوم ہوا کہ اس تعجب و استغراب میں راقم سطور اکیلا نہیں ہے بلکہ ہم سے قبل بعض دوسرے علماء کو بھی اس پر تعجب ہوا ہے، چنانچہ شیخ اسماعیل انصاری نے علامہ احمد شاکر کی تردید میں ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام رکھا (لو غيرك قالها يا استاذ) اے استاذ! کاش کہ یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی۔ مشہور محقق علامہ بکر بن ابو زید رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شیخ اسماعیل انصاری رحمہ اللہ کے پاس مجھے شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ کا ایک خط ملا، جس میں انہوں نے اپنے لکھے پر معذرت کا اظہار کیا ہے اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ میں اس رائے پر مطمئن نہیں ہوں بلکہ میرا مقصد صرف مسئلے کو ابھارنا تھا۔ (فقه النوازل ج 2 ص 204) علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ مرحوم کو اپنی رائے پر اطمینان نہیں تھا اور اب وہ اس سے رجوع کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ مرحوم کا یہ کتابچہ 1357ھ موافق 1939م کا تحریر کردہ ہے، یعنی ان کی وفات سے تقریباً بیس سال پہلے، پھر اس کے بعد علامہ مستقل تالیف و تصنیف میں مشغول رہے، اس موضوع کو چھیڑنے کے متعدد مواقع ہاتھ آئے لیکن بالکل خاموش رہے۔ خصوصاً مسند احمد کی شرح جس کی پہلی جلد کا مقدمہ 1365ھ میں لکھا گیا اور مسند میں متعدد حدیثیں ایسی گزریں جو موضوع سے مناسبت رکھتی تھیں لیکن مرحوم نے کسی پر بھی کوئی حاشیہ نہیں لگایا حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث بھی گزری، جس سے علماء نے لكل أهل بلد رؤيتهم پر استدلال کیا ہے، اس حدیث پر حضرت علامہ مرحوم سند کے اعتبار سے بحث کرتے ہوئے گزر گئے اور ایک لفظ بھی نہیں لکھا دیکھئے: ج 2 ص 282، جب کہ یہ بڑا اہم موقع تھا اپنی رائے کے اظہار کا جیسا کہ ایسے موقعوں پر ان کی عادت رہی ہے مزید برآں یہ دیکھئے کہ وہ تفصیلی فہرست جو ہر جلد کے آخر میں رکھی ہے اور جس کے لیے مسند کا اصل کام شروع کیا تھا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پر عنوان لگاتے ہیں: رؤية الهلال ولكل أهل بلد رؤيتهم (ج 2 ص 381)
یہ تمام باتیں اس حقیقت کو تقویت دیتی ہیں کہ علامہ مرحوم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا۔ والحمد للہ۔
شیخ الا سلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وقد اجمع المسلمون عليه ولا يعرف فيه خلاف قديم اصلا ولا خلاف حديث الا ان بعض المتاخرين من المتفقهة الحادثين بعد الماية الثالثة زعم انه اذا غم الهلال صار للحاسب ان يعمل فى حق نفسه بالحساب فان كان الحساب دل على الرؤية صام والا فلا هذا القول وان كان مقيدا بالاغمام ومختصا بالحاسب فهو شاذ مسبوق بالاجماع على خلافه فاما اتباع ذلك فى الصحو و تعليق عموم الحكم العام به فما قاله مسلم.
مجموع الفتاوی ج 25 ص 133، 132۔
یعنی اس بات پر (کہ قمری ماہ کی ابتداء وانتہا میں صرف رؤیت ہلال کا اعتبار ہو گا) مسلمانوں کا اتفاق رہا ہے، نہ ہی اس بارے میں کوئی قدیم اختلاف مروی ہے اور نہ ہی جدید، ہاں تیسری صدی ہجری کے بعد کچھ فقہاء پیدا ہوئے جن کا یہ خیال تھا کہ اگر انتیس کی شام مطلع ابر آلود ہو تو علم ہیئت کا حساب جاننے والوں کے لیے جائز ہے کہ اپنے طور پر حساب کے مطابق عمل کر لیں۔ چنانچہ اگر حساب یہ کہتا ہے کہ (اگر مطلع صاف ہوتا تو رؤیت ہلال یقینی تھا تو) روزہ رکھے ورنہ نہیں، یہ قول اگر چہ مطلع کے ابرآلود ہونے کے ساتھ مشروط اور اہل ہیئت کے ساتھ خاص ہے، پھر بھی شاذ اور اجماع امت کے بعد پیدا ہوا ہے، البتہ مطلع صاف ہونے کی صورت میں اسے ماننا اور اسے ایک عام حکم قرار دینا ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس کا قائل کبھی کوئی مسلمان نہیں رہا۔
لیکن یہاں ایک یہ سوال ہے کہ اہل ہیئت کا قول مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں تو قابل حجت ہو اور مطلع کے صاف ہونے کی صورت میں قابل حجت نہ ہو، اس تفریق پر قرآن و حدیث سے کیا دلیل ہے؟ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين کا کیا معنی ہے، جبکہ یہ حدیث صرف کتب ستہ میں تقریباً نصف درجن صحابہ کرام سے مروی ہے۔ دیکھئے: جامع الاصول ج 6 ص 260 اور اس کے بعد۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن سریج کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ابن الصباغ عبد السید بن محمد کہتے ہیں کہ علم حساب وفلک کی بنیاد پر روزہ رکھنا قطعاً واجب نہ ہوگا، ہمارے مذہب کے اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ ابن المنذر نے اپنی کتاب الاشراف میں اس بات پر امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ مطلع کے ابرآلود ہونے کی وجہ سے اگر چاند نہ نظر آئے تو تیسویں دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں ہے بلکہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے مکروہ کہا ہے۔ واضح رہے کہ ابن المنذر نے علم فلکیات کا حساب جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے درمیان کوئی فرق ذکر نہیں کیا ہے۔ اس لیے جو شخص اس میں فرق ظاہر کرتا ہے اس کے خلاف اجماع حجت ہے۔
فتح الباری ج 4 ص 157، 158 طبع دار السلام۔ تفصیل دیکھئے: ابحاث ہیئۃ کبار العلماء ج 3 ص 30۔
ان دونوں اماموں کی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ قمری مہینوں کے ثبوت کے لیے رؤیت ہلال شرط ہے، ورنہ تیس دنوں کی گنتی پوری کرنا ضروری ہے۔ یہی علمائے سلف وخلف کا مسلک رہا ہے، اگر بعد میں کچھ لوگوں نے اس اجماع سے اختلاف کیا ہے تو بڑے ہی محدود دائرے میں، جس سے اجماع امت متاثر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس کی حجیت باقی رہتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی نے بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس رائے کی تائید کی ہے (دیکھئے سابقہ حوالہ) مشہور محقق شیخ بکر بن ابو زید رحمہ اللہ نے اس موضوع پر ایک طویل مقالہ تحریر کیا ہے جس کا پڑھنا ہر طالب علم کے لیے ازحد مفید ہے۔
فقه النوازل ج 2 ص 189 اور اس کے بعد۔

دوسری بحث:

دلائل کا جائزہ

رؤیت ہلال کی بجائے حساب و منازل قمر پر اعتماد کرنے والے حضرات کا استدلال چند نقلی دلائل اور چند عقلی دلائل سے ہے۔ ذیل میں ان کے بعض اہم نقلی دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ البتہ عقلی دلائل کے ذکر کا یہ موقع نہیں ہے، کیونکہ عقلی دلائل کا محاسبہ کرنے کا معنی ہے کہ مقالہ طول پکڑ جائے گا، تفصیل کے خواہاں حضرات اس موضوع کو مجلہ مجمع الاسلامی عدد دوم جلد دوم میں اور ابحاث ہیئۃ کبار العلماء کی جلد سوم میں دیکھ سکتے ہیں۔
پہلی دلیل : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا له.
صحیح البخاری: 1900، 1906 الصوم۔ صحیح مسلم: 1080 الصوم بروایت عبد اللہ بن عمر۔
جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو اور اگر تم پر بادل چھا جائے تو اس کا اندازہ کرو۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو فاقدروا له اور دوسری حدیثوں میں وارد ہے کہ اگر مطلع ابر آلود ہو توفأكملوا العدة ثلاثين عام طور پر علماء نے دوسری روایت کو پہلی روایت کی تفسیر مانا ہے، لیکن اس رائے کے قائل حضرات کا کہنا ہے کہ دونوں لفظوں میں دو مختلف کے لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ فاقدروا له تو یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو منازل قمر اور علم ہیئت سے واقف ہیں، یعنی ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب مطلع ابر آلود ہو تو قدروه بمنازل القمر منازل قمر کا حساب لگاؤ، اگر منازل قمر کے حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج چاند ظاہر ہونا چاہیے تو دوسرے دن روزہ رکھو، یا افطار کرو اور اگر منازل قمر کے حساب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ میں دن کا ہے تو روزہ نہ رکھو، اور نہ افطار کرو۔
اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ فأكملوا العدة ثلاثين تو یہ خطاب عام لوگوں کے لیے ہے جو منازل القمر اور علم ہیئت وغیرہ سے واقف نہیں ہیں کہ اگر انتیس کی شام کو مطلع ابر آلود ہو تو چونکہ تم لوگ منازل قمر اور اس کے ذریعے حساب نہیں لگا سکتے اس لیے تیس کی تعداد پوری کرو۔
ان حضرات کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ اب امت میں پڑھے لکھے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اور چاند کی خبر دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک بڑی آسانی سے پہنچائی جا سکتی ہے الہذا رؤیت پر اعتماد صرف اسی چھوٹی جماعت کے لیے ہوگا جن تک ابتدائے ماہ کی خبر نہ پہنچائی جا سکتی ہو۔ البتہ جن لوگوں تک یہ خبر آسانی سے پہنچ سکتی ہو، انہیں اہل فلک کی باتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
دیکھئے: اوائل الشہور لاحمد شاکر ص 15، 16۔
اس استدلال پر چند اعتراضات ہیں:
① حدیث مبارک کا یہ ایسا معنی ہے جو قرون اولیٰ میں کسی امام فقیہ اور عالم سے ثابت نہیں۔
(بعض متقد میں جن کا نام اس سلسلے میں لیا جا سکتا ہے، اس کی تحقیق گزر چکی ہے کہ ان اقوال کی حقیقت کیا ہے؟)
بلکہ اس کے خلاف علمائے امت اور فقہاء ملت کا اجماع رہا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
② حدیث و علم حدیث سے تعلق رکھنے والا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کسی حدیث کا معنی متعین کرنے کے لیے سب سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق پر نظر رکھی جاتی ہے، کیونکہ بسا اوقات حدیث ایک سند سے مختصر مروی ہوتی ہے جبکہ کسی دوسری سند سے یا کسی دوسری کتاب میں وہ حدیث مفصل مذکور ہوتی ہے، اسی طرح اس معنی کی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی حدیثوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے، تب جا کر کسی حدیث کا صحیح مفہوم متعین ہوتا ہے، اس اصول کے تحت محدثین اور شارحین حدیث نے زیر بحث حدیث کا معنی متعین کیا ہے۔ چنانچہ علمائے حدیث نے سب نے پہلے مذکورہ حدیث کے دوسرے طرق پر نظر ڈالی، پھر اس معنی میں مروی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات پر غور کر کے اس نتیجے پر پہنچے کہ اس حدیث میں فاقدروا کا معنی ماہ شعبان کے ایام کا شمار کرنا، اندازہ لگانا اور گنتی کے بعد اس کے تیس دن پورے کرنا ہے۔
دیکھئے: التمہید ج 14 ص 352 اور اس کے بعد، فتح الباری ج 4 ص 156، طرح التثریب ج 4 ص 105، عمدۃ القاری ج 10 ص 373 المرعاۃ ج 6 ص 430 اور اس کے بعد نیز دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 208 تا 311۔
واضح رہے کہ تمام اہل لغت نے بھی اس بارے میں ابن سریج کے قول کی مخالفت کی ہے اور فاقدروا کا معنی اندازہ کرنا، مقدار کے مطابق کرنا وغیرہ لکھا ہے، چنانچہ مشہور لغوی ابو منصور الازھری م 370ھ فان غم عليكم فاقدروا له کی تفسیر میں لکھتے ہیں: أى قدروا عدة الشهر واكملوا ثلاثين يوما، پھر ابن سریج کا مخالف قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: والقول الاول عندي أصح وأوضح (تہذیب اللغۃ ج 9 ص 22) صاحب لسان العرب نے بھی ازھری کا یہ قول نقل کیا ہے اور خاموش رہے ہیں۔
لسان العرب ج 5 ص 78
نیز غریب الحدیث کے مؤلفین نے بھی یہی معنی متعین کیا ہے، دیکھئے: غریب الحدیث لابن الجوزی ج 2 ص 223، النھایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر ج 4 ص 23، تفسیر غریب الحدیث لابن حجر ص 192۔
ابن سریج وہ پہلی شخصیت ہے جس کی طرف اس معنی کی نسبت صحیح مانی جا سکتی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
علی سبیل المثال دیکھئے مشہور شارح کتب حدیث: امام خطابی رحمہ الله شرح بخاری میں مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وذهب عامة العلماء إلى أن معنى التقدير فيه استيفاء عدد الثلاثين وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من طريق أبى هريرة وابن عمر وهذا القول هو المرضي الذى عليه الجمهور من الناس والجماعة منهم.
اعلام الحدیث ج 2 ص 942۔
عام طور پر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس حدیث میں (التقدیر) کا معنی تیس کا عدد پورا کرنا ہے، حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے یہی مروی ہے، یہی قول پسندیدہ ہے اور اسی پر جمہور علماء ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ الله لکھتے ہیں:
فقالوا: المراد بقوله (فاقدروا له) اي انظروا فى أول الشهر واحسبوا تمام الثلاثين، ويرجح هذا القول الروايات الأخر المصرحة بالمراد وهى ما تقدم من قوله (فأكملوا العدة ثلاثين) ونحوها وأولي ما فسر الحديث بالحديث
فتح الباری ج 4 ص 120۔
چنانچہ جمہور کا کہنا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے فرمان فاقدروا له سے مراد یہ ہے کہ ابتدائے ماہ سے دیکھو اور پوری تیس کی گنتی مکمل کرو، دوسری تمام روایات جن میں اس کی تصریح وارد ہے، وہ بھی اسی قول کی تائید کرتی ہیں۔ یعنی وہ حدیثیں جو ابھی گزری ہیں، اور ان میں آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے: فأكملوا العدة ثلاثين اور سب سے بہتر یہ ہے کہ ایک حدیث کی تفسیر دوسری حدیث سے کی جائے۔
وہ معروف اور معتمد علیہ آئمہ حدیث جنہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کی تخریج کی ہے ان کا بھی اسلوب اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جس روایت میں فاقدرواله کا لفظ وارد ہے۔ وہ حدیثیں ان کی تفسیر کرتی ہیں جن میں: فأكملوا العدة ثلاثين، فعدوا ثلاثين اور فأكملوا عدة شعبان ثلاثين وغیرہ کے الفاظ وارد ہیں۔ اس سلسلے میں وارد تمام الفاظ کے لیے دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 208، 209۔
علی سبیل المثال دیکھئے:
الف: امام محدثین امام ابو عبد اللہ بخاری رحمہ الله نے اپنی صحیح میں کتاب الصوم، باب نمبر 11 کے تحت جب سب سے پہلے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث نقل کی تو اس کے فوراً بعد اس کی تفسیر میں حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی درج ذیل حدیثیں بھی
نقل کیں:
① الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
صحیح البخاری: 1907 الصوم۔ صحیح مسلم: 1080 الصوم، بروایت ابن عمر۔
② صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين.
صحیح البخاری: 1909 الصوم۔
فاقدروا له کے بعد ان دونوں حدیثوں کو ذکر کر کے امام بخاری رحمہ الله نے یہ لطیف اشارہ فرمایا کہ فاقدروا له کے معنی میں جو اجمال و اشکال ہے، ان دونوں حدیثوں میں اس کی تفصیل اور توضیح ہے، لہذا یہی اس کی صحیح تفسیر و تعبیر ہے۔
ب : امام بخاری رحمہ الله کے شاگرد امام مسلم رحمہ الله نے بھی یہی اسلوب اختیار کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث نقل فرمائی جس میں فاقدروا له کے الفاظ وارد ہیں پھر اس کی تفسیر اور تفصیل میں اس حدیث کے مختلف طرق نقل کیے (صحیح مسلم ج 2 ص 147، 146 مع منۃ المنعم۔) جن میں سے بعض کے الفاظ یہ ہیں:
① فإن أغمي عليكم فاقدروا له ثلاثين. حدیث الباب: 2
② فإن غم عليكم فاقدروا ثلاثين. حدیث الباب: 3
ان دونوں اماموں کے علاوہ دو اور مشہور اماموں نے بھی اس بارے میں مزید صراحت سے کام لیا ہے۔
ج : چنانچہ امام ابن خزیمہ رحمہ الله اپنی صحیح میں یوں باب باندھتے ہیں:
باب الامر بالتقدير للشهر اذا غم على الناس
اس باب کے تحت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حدیث نقل کی ہے جس میں فاقدروا له کا لفظ وارد ہے۔ پھر اس کی وضاحت کرنے کے لیے ایک نیا باب یوں باندھتے ہیں:
باب ذكر الدليل على ان الأمر بالتقدير للشهر اذا غم ان يعد ثلاثين يوما ثم صام
اور اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی انہی دونوں حدیثوں کی تخریج کی ہے جن کا ذکر امام بخاری رحمہ الله نے کیا ہے۔
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج 5 ص 186۔
امام ابن خزیمہ کے شاگرد امام ابن حبان رحمہ الله اپنی صحیح میں باب یوں باندھتے ہیں:
ذكر الامر بالقدر لشهر شعبان اذا غم على الناس رؤية هلال رمضان
پھر اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہی حدیث ذکر کی ہے جس کا ذکر بار بار آ چکا ہے۔
پھر اس حدیث میں کلمہ فاقدروا له کی وضاحت کرنے کے لیے مزید دو باب منعقد کیے ہیں اور ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہی حدیث ذکر کی ہے جس کا ذکر بخاری شریف کے حوالے سے گزر چکا ہے:
ذكر البيان بان قوله صلى الله عليه وسلم (فاقدروا له) اراد به اعداد الثلاثين.
ذكر البيان بان قوله (فاقدروا له) اراد به اعداد الثلاثين.
مشكاة المصابيح تحقيق الالباني ج 1 ص 615 ديكهئے: مرعاة المصابيح ج 4 ص 206 طبعۂ قديمة.
ھ : امام بغوی رحمہ الله نے بھی مصابیح السنۃ میں اسی چیز کو واضح کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له وفي رواية قال: الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
اگر اس قسم کے تمام حوالے نقل کیے جائیں تو دامن قرطاس تنگ نظر آئے گا، مقصد بیان صرف یہ ہے کہ جس روایت میں فاقدروا له کے الفاظ آئے ہیں وہ مجمل ہے۔ جس کی تفسیر دوسری روایات میں فأكملوا العدة ثلاثين، فعدوا ثلاثين وغیرہ الفاظ سے وارد ہے، یہ ایسا مسئلہ ہے کہ آئمہ حدیث اور شارحین حدیث کا اس پر اتفاق چلا آ رہا ہے۔
اس موضوع کو میں اتنا طول نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن چونکہ علامہ احمد شاکر رحمہ الله نے اپنے موقف کے لیے اسی حدیث کو بنیاد بنایا تھا اور انہی کی تقلید میں ہمارے بعض بزرگوں نے بھی ہندوستان میں اس موضوع کو ابھارا ہے، اس لیے اسے طول دینے کی ضرورت محسوس ہوئی، اب اختصار کے پیش نظر آخر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ایک حدیث نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، جس ایک ہی حدیث اور ایک ہی سیاق میں فَاقْدِرُوا کی تفسیر مذکور ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:
إن الله جعل الأهلة مواقيت فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا له أتموه ثلاثين.
مصنف عبد الرزاق ج 4 ص 156 نمبر 7306۔ مستدرک الحاکم ج 1 ص 423۔ صحیح ابن خزیمہ ج 3 ص 201۔ السنن الکبری للبیہقی ج 4 ص 204۔
چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے جنتری قرار دیا ہے، اس لیے جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کا اندازہ کرو تیس دن پورے کرو۔
یہ حدیث بڑے واضح لفظوں میں ابو العباس ابن سریج اور علامہ احمد شاکر رحمہما الله بیان کی رائے کی تردید کر رہی ہے کہ فاقدروا کا اصل معنی أتموا ثلاثين يوما ہے نہ کہ منازل قمر کا حساب ہے۔ واللہ اعلم
③ احادیث کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہینوں کی ابتدا وانتہا کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم کا اسوۂ مبارک یہ تھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم اس مسئلے میں صرف اور صرف رؤیت ہلال پر اعتماد فرماتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ کو بذریعہ وحی بھی مطلع کر سکتا تھا، اب ظاہر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اسوۂ سے بڑھ کر کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحفظ لشعبان ما لا يتحفظ لغيره ثم يصوم لرؤيته رمضان فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام.
سنن ابو داود وسنن الترمذی وغیرہما، تخریج گزر چکی ہے۔
نبی صلى الله عليه وسلم شعبان کے دنوں کا جیسا اہتمام فرماتے، اتنا کسی اور مہینے کے دنوں کا اہتمام نہیں فرماتے تھے، پھر چاند دیکھ کر روزہ رکھتے اور اگر بادل چھا جاتا تو تیس دن پورا کرتے پھر روزہ رکھتے۔
حافظ ابن القیم رحمہ الله زاد المعاد میں لکھتے ہیں:
وكان من هديه ان لا يدخل فى صوم رمضان الا برؤية محققة او بشهادة شاهد واحد.
زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ج 2 ص 38۔
”آپ صلى الله عليه وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ رمضان کا روزہ رؤیت ہلال کے ثبوت کے بغیر نہ رکھتے یا پھر یہ کہ ایک گواہی دینے والا گواہی دے دے۔“
اس کے بر خلاف آپ صلى الله عليه وسلم کے اسوۂ مبارکہ سے یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ آپ نے منازل قمر کا حساب رکھا ہو یا اس کی تعلیم کی ترغیب دی ہو اور نہ ہی آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین کرام نے ایسا کیا ہے۔
④ جو شریعت عام و خاص، جاہل وعالم ہر ایک کے لیے آئی ہو، اس میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک عمل جو ہر قادر، عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہو جیسے رمضان المبارک کا روزہ، پھر اس میں مطلع کے ابر آلود ہونے کی صورت میں عالم و جاہل میں فرق رکھا جائے، یہ ایسا نکتہ ہے جس کا قائل کوئی محدث ہے اور نہ حدیث و قرآن سے اس کی کوئی دلیل ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ نقل و عقل اور لغت وادب کسی بھی اعتبار سے اس حدیث کا مفہوم وہ نہیں بنتا جو یہ حضرات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری دلیل : دوسری حدیث جس سے ان حضرات کا استدلال ہے، وہ یہ ہے:
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا يعني مرة تسعة وعشرين، ومرة ثلاثين.
صحیح البخاری: 1913 الصوم۔ صحیح مسلم: ج 2 ص 147 بروایت عمر۔
ہم لوگ امی امت ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرنا، مہینہ اتنا اتنا یعنی کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا ہوتا ہے۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں اپنے آپ اور اپنی امت کو أُمِّيَّةٌ اور حساب و کتاب کی عدم معرفت سے موصوف کیا، پھر جب اس امت کے لوگ أُمِّيَّةٌ نہ رہے بلکہ ان میں حساب، نجوم اور علم فلک کے ماہرین پیدا ہو گئے تو رؤیت ہلال کی ضرورت باقی نہیں رہی الخ۔
اوائل الشھور لاحمد شاکر ص 13، 14۔ نیز دیکھئے: مجلۃ مجمع الفقہ عدد سوم جلد دوم ص 842 شیخ مصطفیٰ کمال تازری کا مقالہ۔
اس استدلال پر چند ملاحظات ہیں:
① یہ استدلال علمائے سلف بلکہ اجماع امت کے خلاف ہے، قرون اولیٰ اور اس کے بعد بھی کسی معتبر عالم اور امام نے اس کا وہ مفہوم نہیں لیا ہے جو یہاں لیا جا رہا ہے، تعجب در تعجب ہے علامہ احمد شاکر رحمہ الله وغفر لہ، جیسے اہل حدیث اور سلفی عالم پر کہ ان کے نوک قلم سے ایسی تاویل و تفسیر کیسے سرزد ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اندھی تقلید کے حامی نہیں ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس چیز کو بھی مسلک اہل حدیث کے سراسر خلاف سمجھتے ہیں کہ کسی آیت وحدیث کا کوئی ایسا مفہوم لیا جائے جو فہم سلف کے خلاف ہو، بلکہ بڑے واضح لفظوں میں یہ کہتا چلوں کہ خوارج اور دوسرے باطل فرقوں کے صحیح راہ سے بھٹکنے کی سب سے بڑی وجہ میری سمجھ کے مطابق یہ تھی کہ ان لوگوں نے بعض آیات واحادیث کا وہ مفہوم متعین کیا تھا جو صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ کے فہم سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے خطرہ ہے کہ ایسے عجیب و غریب معنی لینے والے لوگ اس وعید کے مستحق نہ ٹھہریں جو اس ارشاد الہی میں ہے:
﴿ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾
(النساء: 115)
”جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔“
لیکن بدقسمتی سے آج یہ رجحان ہماری نوجوان نسل اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، پھر جب انہیں اس پر متنبہ کیا جاتا ہے تو بڑی دلیری سے اور کبر کے انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ: ہم کسی کے مقلد تھوڑی ہیں عیاذ باللہ۔
② علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام )کے لیے بطور مدح وارد ہے اور وجہ استدلال میں اس کا جو مفہوم بیان کیا جا رہا ہے، اس سے نقص کا پہلو نکلتا ہے حالانکہ جو آیت اور حدیث امت کے لیے بطور مدح وارد ہو اس کے التزام میں ہی امت کے لیے خیر ہے، یہ ایسا نکتہ ہے جسے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے اپنے رسالہ ”الھلال“ میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے اور متعدد مثالوں سے اس مفہوم کی وضاحت کی ہے، ہر طالب علم کو اس کی طرف رجوع کر لینا چاہیے۔ شیخ الاسلام رحمہ الله ایک جگہ لکھتے ہیں:
وظهر بذلك ان الأمية المذكورة هنا صفة مدح وكمال من وجوه من جهة الاستغناء عن الكتاب والحساب بما هو أبين منه وأظهر وهو الهلال، ومن جهة أن الكتاب والحساب هنا يدخلها غلط ومن جهة أن فيهما تعبا كثيرا بلا فائدة فان ذلك شغل عن المصالح اذ هو مقصود لغيره لا بنفسه واذا كان نفي الكتاب والحساب عنهم للاستغناء عنه بخير منه، وللمفسدة التى فيه كان الكتاب والحساب فى ذلك نقصا وعيبا بل سيئة وذنبا فمن دخل فيه فقد خرج عن الأمة الأمية فيما هو من الكمال والفضل السالم عن المفسدة ودخل فى أمر ناقص يؤديه إلى الفساد والاضطراب.
مجموع الفتاوی ج 25 ص 174۔
اس بحث سے ظاہر ہوا کہ اس حدیث میں مذکور (صفت امیت) کو مدح و کمال کے مفہوم میں لیا گیا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں:
① رؤیت ہلال جو بالکل ہی واضح چیز ہے اس کے ذریعے حساب و کتاب سے بے نیازی ہو جاتی ہے۔
② جبکہ اس بارے میں حساب و کتاب پر اعتماد میں غلطی کا امکان ہے۔
③ حساب وکتاب میں بلا فائدے کی بہت بڑی پریشانی ہے کیونکہ اس میں مشغولیت سے دوسرے اہم کاموں سے توجہ ہٹتی ہے اور یہ بات بھی واضح رہے کہ حساب و کتاب یعنی منازل قمر سے متعلق حساب و کتاب خود مطلوب نہیں بلکہ دوسرے مطلوبہ کام کا ذریعہ ہے۔
اور جب صورت حال یہ ہے کہ حساب و کتاب کی نفی اس لیے کی گئی ہے، اس سے بہتر چیز اس سے بے نیاز کرتی ہے، اور اس وجہ سے کہ اس میں مشغولیت سے خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس بارے میں حساب وکتاب میں الجھنا نقص و عیب ہے، بلکہ معاملہ برائی اور گناہ تک پہنچ جاتا ہے۔ لہذا جو شخص حساب وکتاب کے گورکھ دھندوں میں پھنس گیا تو وہ اس امت کی جو شان کمال تھی اس سے محروم ہو گیا اور وہ ایسے بے فائدہ کام میں الجھ گیا جو نتیجتاً اسے نقصانات اور الجھنوں تک پہنچا دے گا۔
علامہ تقی الدین سبکی رحمہ الله اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عرب یا اس امت کا اس بارے میں نہ لکھنا پڑھنا، ان کے لیے شرف کا باعث ہے کیونکہ علم الہی میں یہ مقرر ہو چکا تھا کہ یہ لوگ نبی امی کی امت میں شامل ہوں گے۔
امام سبکی رحمہ الله کا رسالہ العلم المنشور ص 18، 19۔
ان دونوں اماموں یعنی امام ابن تیمیہ اور امام سبکی رحمہما الله کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث میں وارد صفت امیت اور علم حساب و کتاب سے دوری امت کے لیے صفت مدح و کمال ہے نہ کہ صفت ذم و نقص کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی شہر میں برائی وفساد کے اڈے ہوں، اس کا تذکرہ کسی مجلس میں ہو تو کوئی یہ کہے کہ میں تو اس جگہ کو جانتا ہی نہیں اور نہ ہی اس طرف کا راستہ دیکھا ہے، اب ظاہر ہے کہ یہ لاعلمی اور جہالت اس شخص کے بارے میں صفۃ ذم نہیں بلکہ صفۃ مدح و کمال ہے۔ فلينتبه۔
③ اس حدیث میں وارد لفظ إنا أمة أمية کو لفظ لا نكتب ولا نحسب اور الشهر هكذا وهكذا سے مقرون کیا گیا ہے، جس سے امت محمدیہ کو یہ خبر دینا مقصود ہے کہ امت چاند اور قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں علم فلک اور منازل قمر سے متعلق معرفت حاصل کرنے کی محتاج نہیں ہے بلکہ مہینہ یا تو 29 دن کا ہوگا یا پھر تیس دن کا جس کی معرفت کا ذریعہ چاند کا دکھائی دینا ہے یا پھر تیس دنوں کا پورا ہونا، جیسا کہ متعدد حدیثوں میں یہ حکم موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جب اس امت سے صفت امیت ختم ہو جائے گی تو اس کا اعتماد حساب و کتاب اور علم فلک پر ہوگا اور امت رؤیت ہلال سے مستغنی ہو جائے گی۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ الله اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس حدیث میں حساب سے مراد تاروں کی آمد ورفت اور ان کی منازل کا حساب ہے، کیونکہ اس وقت وہاں پر اس علم کو جاننے والے بہت کم لوگ تھے، اس لیے روزہ رکھنے وغیرہ کے حکم کو رؤیت ہلال سے متعلق کیا ہے، جس کی وجہ تاروں کی منازل کو معلوم کرنے میں جو پریشانیاں تھیں ان سے چھٹکارا دلانا ہے، اس کے بعد بھی روزہ وغیرہ کے بارے میں یہی حکم چلتا رہا اگر چہ اس علم کو جاننے والے لوگ پیدا ہوئے، بلکہ حدیث کا سیاق وسباق یہ ظاہر کرتا ہے کہ حساب نجوم اور منازل قمر پر مطلقاً اعتماد نہ کیا جائے گا جس کی توضیح وہ حدیث کرتی ہے جس میں ارشاد ہے کہ فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمہارے اوپر بادل چھا جائے تو اہل حساب سے پوچھو، بلکہ یہ فرمایا کہ (گنتی کے تیس دن پورے کرو۔)
فتح الباری ج 4 ص 132۔ نیز دیکھئے: سیر اعلام النبلاء ج 14 ص 191، 192 ترجمہ محمد بن یحییٰ بن مندہ۔ عارضۃ الاحوذی ج 3 ص 307 اور اس کے بعد، العلم المنشور للسبکی ص 18، 34۔ المرعاۃ ج 4 ص 434 اور اس کے بعد فقه النوازل ج 2 ص 211، 214 وغیرہ۔
قمری مہینوں کو بذریعہ علم فلک ثابت ماننے والوں کے یہ نقلی دلائل تھے جن کا تجزیہ پیش کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اولاً تو ان کے دلائل اپنے معنی میں صریح نہیں ہیں۔
ثانیاً: یہ ایک ایسا قول ہے جو اجماع سلف کے خلاف ہے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے از روئے عقل بھی اس قول کو باطل قرار دیا ہے، نیز عصر حاضر میں شیخ بکر ابو زید رحمہ الله نے بھی اپنے بعض مقالات میں اس موضوع کو تفصیل سے لیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ فلک اور حساب کے ذریعے قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کو قبول کرنے میں دو بڑی اہم خرابیاں لازم آتی ہیں:
① حساب اور علم فلک کا معاملہ ابھی تک ظن و تخمین کی حدود پار نہیں کر سکا۔
② بذریعہ حساب قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کو قبول کرنے میں کئی اعتبار سے شریعت کی مخالفت ہوتی ہے۔
فقه النوازل ج 2 ص 217 معرفۃ اوقات العبادات ج 3 ص 85۔

حساب منازل قمر اور علم فلک کی ظنیت:

① اہل فلک یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کا علم ظنی اور غیر یقینی ہے۔ بلکہ اس کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت منٹ و سیکنڈ کی تحدید کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت رؤیت ہلال کا مسئلہ بالکل یقینی ہے، البتہ حق یہ ہے کہ یہ بات صرف دعویٰ کی حد تک ہے، لیکن ان کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کا مسئلہ اس لیے مشکل ہے کہ عمومی طور پر علم شرع کے حاملین اور اہل دین و تقویٰ حضرات ان عصری علوم میں مہارت نہیں رکھتے اس لیے ان مدعیان علم کا علمی جواب دینے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ علم ابھی تک ظن کی حدود میں ہے جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
بہت سے حوادث ایسے پیش آتے ہیں جو اہل فلک کے دعووں کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ 1406ھ میں اہل فلک نے یہ بات یقین سے کہی کہ شوال کا چاند انتیس رمضان کی شام کو ظاہر نہیں ہوگا اور یہ بات مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی لیکن اللہ کی قدرت کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے کئی آدمیوں نے رؤیت ہلال کی شہادت دی، اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی چاند دیکھا گیا۔
دیکھئے حوالہ سابقہ۔
1424ھ میں مملکت سعودی عرب میں اہل فلک کے بیان کے مطابق یہ چرچا تھا کہ رمضان کا چاند انتیس شعبان کی شام کو ضرور نظر آئے گا، یہ خبر اس تیزی سے لوگوں میں عام ہوئی کہ لوگوں کو مکمل یقین تھا کہ آج تراویح کی نماز پڑھی جائے گی اور کل روزہ رکھنا ہے، حتی کہ بہت سی مساجد میں ایک معمولی سی افواہ پر تراویح کی نماز پڑھ لی گئی، لیکن حق یہ ہے کہ مطلع بھی صاف تھا اور مملکت سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ہزاروں لوگوں کی نگاہیں غروب آفتاب کے وقت افق مغرب میں اس نئے مہمان کے دیدار کے لیے اٹھی ہوئی تھیں، سعودی عرب ہزاروں مربع میل رقبے پر مشتمل ہے، پھر بھی کسی علاقے سے کسی کو بھی اس نئے مہمان کے دیدار کا شرف حاصل نہیں ہوا حتی کہ سدیر کے علاقے کا وہ شخص جس کی نظر کی تیزی پر الحمد للہ کافی اعتماد کیا جاتا ہے، اس نے بھی معذرت ظاہر کی کہ آج وہ بھی اس شرف سے محروم ہے، بالآخر سب کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ نہ ہوا پر نہ ہوا یا ر کا دیدار نصیب۔
رابطہ عالم اسلامی کے مجمع الفقہی میں یہ موضوع کئی بار زیر بحث آیا، جس میں اس موضوع پر بھی بحث ہوئی کہ رؤیت ہلال کا مسئلہ قطعی ہے یا کہ ظنی، دوران بحث اس سلسلے میں متعدد رائیں سامنے آئیں حالانکہ اس میں بعض ماہرین فن بھی موجود تھے چنانچہ 14 ربیع الآخر 1406ھ موافق دسمبر 1985ء کی مجلس میں رئیس مجلس نے فرمایا:
وقد سمعتم ما ذكر على ألسنة البعض منهم أنه ظني وقد سمعتم من يحكي شيئا من قطعية ومنهم من يقول أنه شبه قطعي وما جري مجرى ذلك
مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی عدد ثانی جزء ثانی ص 1030۔
”آپ لوگوں نے یہ بھی سنا جو بعض لوگوں نے ذکر کیا کہ بعض نے اسے ظن کہا اور بعض نے اس کی قطعیت نقل کی اور بعض نے اسے قطعی کے مشابہ قرار دیا۔ “
یہ حادثات اور اہل فن کا یہ اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علم حساب و نجوم ابھی تک ظن کی حدود میں ہے، بلکہ یہ حادثات جہاں ایک طرف اہل ہیئت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ وہ اپنی حد کو پار نہ کریں وہیں اہل علم حضرات سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جدید علوم کے ماہرین کے ہر دعوے کو من وعن قبول کرنے سے پرہیز کریں۔
حساب فلکی کے سارے معاملات اس وقت آلات جدیدہ پر منحصر ہیں، جن میں کسی بھی وقت فنی خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور بسا اوقات اس خرابی کا احساس اس میدان میں کام کرنے والوں کو بھی نہیں ہوتا، روزانہ دنیا کو اس قسم کے واقعات سے سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں خرابی کے کیسے نتائج سامنے آ رہے ہیں، بصرف ہوائی جہازوں کو درپیش حادثات سبق لینے کے لیے کافی ہیں۔
یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ عصر حاضر میں بعض اسلامی شہروں میں روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا معاملہ حساب فلکی کی بنیاد پر ہے اور ان کے یہاں رؤیت ہلال کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن یہ چیز ملاحظے میں ہے بسا اوقات ان ملکوں اور ان دوسرے ملکوں میں جن میں رؤیت ہلال پر اعتماد کیا جاتا ہے، دو یا تین دن کا فرق پڑتا ہے۔ حالانکہ عقلاً اور عقلاً یہ غیر معقول کی بات ہے۔
یہ بات بھی ہر شخص کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ ایک ہی ملک میں موجود کیلنڈر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں کسی میں رمضان کا مہینہ تیس دن مذکور ہوتا ہے اور کسی میں انتیس دن یہ اختلاف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کا علم ابھی ظن و تخمین ہی کی حدود میں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: فقه النوازل ج 2 ص 216 تا 218۔
ابھی چند دن پہلے ایک مجلس میں حاضر تھا، اس میں اٹھارہ ڈیری فارم الغاط میں کام کرنے والے مہندس (انجینئر) محمد عامر بھی موجود تھے۔ بظاہر قابل اعتماد شخص لگ رہے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جنوری 1987ء میں مصری اخبارات نے اعلان کیا کہ فلاں تاریخ کو سورج میں مکمل گرہن لگنے والا ہے، چونکہ میں سائنس کا طالب علم تھا اس لیے اس خبر کے بارے میں بہت سنجیدہ تھا لیکن اللہ کا کرنا کہ کلی تو کیا، جزوی سورج گرہن بھی نہیں لگا۔
اسی طرح اس سال 4 مئی موافق 15 ربیع الاول بروز منگل تمام سعودی اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ آج رات 9 بج کر 47 منٹ پر چاند گرہن کی ابتدا ہوگی اور گیارہ بجے جا کر چاند مکمل طور پر گرہن کی زد میں آ جائے گا، لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ چاند میں گرہن کی ابتدا اہل فلک کے مقررہ وقت سے تقریباً بیس منٹ پہلے ہو گئی بلکہ دوسرے دن اخبارات نے یہ صراحت کی کہ چاند میں گرہن کی ابتدا 9 بج کر 30 منٹ میں ہو گئی تھی۔

حساب نجوم اور علم فلک کا شریعت سے ٹکراؤ:

رؤیت ہلال کو چھوڑ کر ستاروں کی نقل و حرکت اور علم ہیئت پر اعتماد شریعت سے قطعاً میل نہیں کھاتا، جس کی متعدد وجوہات ہیں، ذیل میں چند ایک کا ذکر ہوتا ہے:
① شرعی مہینہ ابتدا و انتہا، عدد ایام اور دیگر امور میں اہل فلک کے متعین کردہ مہینوں سے مختلف ہے، جیسا کہ اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔
② شریعت نے ابتدائے ماہ قمری کو رؤیت ہلال سے مرتبط کیا ہے اور یہ صراحت کر دی ہے کہ شرعی مہینہ یا 29 دن کا ہوگا یا 30 دن کا، جبکہ اہل فلک کے نزدیک رؤیت ہلال کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک ہر قمری مہینہ 29 دن بارہ گھنٹے 44 منٹ اور کچھ سیکنڈ کا ہوتا ہے، خواہ چاند نظر آئے یا نہ آئے۔
③ شریعت نے ابتدائے ماہ قمری کو ایک فطری اور ظاہری چیز سے مرتبط کیا ہے جس میں نہ کوئی مشقت ہے اور نہ ہی اس میں ایسی مشغولیت کہ بندے کو اس کے ضروری کاموں سے روکتی ہو بلکہ اس میں مشغولیت محکم شرع ہے، اس لیے شریعت نے اس کے لیے ایک دعا و ذکر بھی سکھلایا ہے جبکہ اہل فلک اس معاملے میں اس سے مختلف ہیں۔
④ اہل فلک کے مذہب پر عمل کرنے کے نتیجے میں بعض صحیح احادیث پر عمل ترک کرنا پڑتا ہے، وہ احادیث جن میں یہ حکم ہے کہ اگر رؤیت ہلال اور تمہارے درمیان بادل وغیرہ حائل ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو، اب اگر اہل فلک کی بات تسلیم کر لی جائے تو ان حدیثوں کا کیا فائدہ؟ بلکہ اس طرح تو وہ تمام حدیثیں بے کار اور ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جائیں گی۔
فقه النوازل ج 3 ص 318 اور اس کے بعد ، معرفة اوقات العبادات ج 3 ص 87 تا 90 ۔ دیکھئے اس بحث کے آخر میں ضمیمہ ۔
خلاصہ کلام یہ کہ قمری مہینوں کے بارے میں علم فلک پر اعتماد شریعت محمدیہ سے قطعاً میل نہیں کھاتا۔ اس لیے اس مسئلہ کو اپنی حالت پر رہنے دیا جائے اور امت کو اس میں الجھا کر ان کے درمیان متفق علیہ مسئلے کی اجتماعیت کو پاش پاش نہ کیا جائے، یہی سلامتی کا راستہ ہے کیونکہ قمری مہینوں کی ابتدا و انتہا کا مسئلہ امت مسلمہ میں متفق علیہ چلا آ رہا ہے، اور وہ علماء جن کے اجماع کا اعتبار ہے اس پر متفق رہے ہیں کہ اس بارے میں اہل فلک اور حساب نجوم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، عصر حاضر میں بھی یہ مسئلہ علماء کے درمیان بحث و مناقشہ کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا ہے، چنانچہ مملکت سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی نے متفقہ طور پر اپنی ایک قرار داد میں تحریر کیا کہ:
فبعد دراسة ما أعدته اللجنة الدائمة فى ذلك وبعد الرجوع إلى ما ذكره أهل العلم فقد أجمع أعضاء الهيئة على عدم اعتباره لقوله عليه الصلاة والسلام: صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته الحديث ولقوله عليه الصلاة والسلام: (لا تصوموا حتى تروه ولا تفطروا حتى تروه) الحديث.
ابحاث هيئة كبار العلماء ج 3 ص 34 .
اسی طرح رابطہ عالم اسلامی کی فقہی کمیٹی کے اعضاء کے پاس سنگاپور سے سوال آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سنگاپور کی جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ اور مجلس الاسلامی کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے، جمعیت کا یہ خیال ہے کہ اس سال یعنی 1399ھ میں ماہ رمضان کی ابتدا کو رؤیت ہلال کے ذریعے ہی مانا جائے، جبکہ مجلس اسلامی کا خیال تھا کہ کیونکہ ایشیا کے اس علاقے خصوصاً سنگاپور میں عمومی طور پر مطلع ابر آلود رہتا ہے، اس لیے ابتدائے ماہ مبارک کو حساب فلکی کے ذریعے تسلیم کر لیا جائے، اس سلسلے میں اعضائے مجلس کی کیا رائے ہے؟ مجمع الفقه الاسلامی کی کمیٹی نے متفقہ طور پر اس کا جو جواب دیا تھا، اسے ذیل میں بلفظہ نقل کر دیا جاتا ہے:
وبعد أن قام أعضاء مجلس المجمع الفقهي الإسلامي بدراسة وافية لهذا الموضوع على ضوء نصوص الشريعة، قرر مجلس المجمع الفقهي الإسلامي تأييده لجمعية الدعوة الإسلامية فيما ذهبت إليه لوضوح الأدلة الشرعية في ذلك. كما قرر أنه بالنسبة لهذا الوضع الذي يوجد في أماكن من سنغافورة وبعض مناطق آسيا، وغيرها، حيث تكون سماؤها محجوبة بما يمنع الرؤية فإن للمسلمين في تلك المناطق وما شابهها أن يأخذوا بمن يثقون به من البلاد الإسلامية التي تعتمد على الرؤية البصرية للهلال دون الحساب بأي شكل من الأشكال عملاً بقوله: (صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَافْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ) وقوله صلى الله عليه وسلم: (لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ) وما جاء في معناهما من الأحاديث۔
مجلة مجمع الفقه الاسلامى عدد 2 جلد 2 ص 969، 970
المجمع الفقهی الإسلامي کے ممبران نے اس موضوع سے متعلق شرعی نصوص پر مکمل غور و خوض کرنے کے بعد، نیز اس بارے میں واضح دلائل کی بنیاد پر جمعیت الدعوۃ الاسلامیہ کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔
نیز سنگاپور کے بعض وہ علاقے جہاں آسمان چھپا رہتا ہے اسی طرح اس جیسے ایشیا کے دوسرے علاقوں کی صورت حال سے متعلق کہ جہاں رؤیت ہلال ممکن نہیں ہے وہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان میں کسی ایسے اسلامی ملک پر اعتماد کریں جہاں کے لوگ رؤیت ہلال کے بارے میں صرف نظر (دیکھنے) پر اعتماد کرتے ہیں اور کسی بھی طرح حساب پر اعتماد نہیں کرتے ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ آپ نے فرمایا: صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين يوما. اور آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کہ لا تصوموا حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة ولا تفطروا حتى تروا الهلال أو تكملوا العدة. اسی طرح دیگر احادیث کی بنیاد پر جو اس بارے میں مروی ہیں۔