سوال
حضرت حافظ محمد اسحاق صاحب نے فرمایا کہ ذکر (یعنی شرم گاہ) کو بغیر کپڑے کے ہاتھ لگنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، کیونکہ انہوں نے اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں ذکر کو جسم کا ایک ٹکڑا کہا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ:
◈ اکثر علماء تو یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ ذکر کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔
◈ اور وہ علماء دوسری حدیث پر عمل کرتے ہیں جو نواقض وضوء (وضوء کو توڑنے والی چیزوں) میں ذکر کے مس (چھونے) کو شامل کرتی ہے۔
تو کیا یہ تضاد نہیں ہے؟ اور اس مسئلہ میں اصل بات کیا ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ذکر کو ہاتھ سے چھونے سے وضوء کرنا واجب ہوتا ہے۔
◈ جہاں تک حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے، تو علماء نے اسے اس حالت پر محمول کیا ہے جب عضو کو کپڑے کے ذریعے چھوا جائے (یعنی بغیر حائل نہ ہو)۔
◈ بعض اہلِ علم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث، حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث سے پہلے کی ہے، یعنی اُس وقت کی ہے جب یہ حکم ابھی مکمل وضاحت سے نازل نہیں ہوا تھا۔
تفصیل کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا:
◈ تحفۃ الأحوذی
◈ نیل الأوطار
◈ مرعاۃ المفاتیح
ان شاء اللہ المنان، ان کتب کے مطالعہ سے دل کو اطمینان حاصل ہوگا۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب