مضمون کے اہم نکات
ذکرُ اللہ افضل ترین اعمال اور بہترین عبادات میں سے ہے۔ بلکہ اعمالِ صالحہ کی روح ذکرِ الٰہی ہے، کیونکہ جو عمل ذکرِ اللہ سے خالی ہو وہ اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔ قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ نبویہ میں ذکر کی اہمیت، قدر و منزلت، فضیلت اور اس کے فوائد و ثمرات کو مختلف انداز سے واضح کیا گیا ہے: کہیں ذکر اور ذکر کرنے والوں کے اجر و ثواب کا تذکرہ کر کے رغبت دلائی گئی، کہیں کثرتِ ذکر کا حکم دیا گیا، اور کہیں ذکر سے غفلت اختیار کرنے سے منع کیا گیا۔
ذکر اللہ سب سے بڑی نیکی
اللہ رب العزت نے اپنے ذکر کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
﴿وَلَذِکْرُ اللّٰہِ أَکْبَرُ﴾
(العنکبوت29 :45)
ترجمہ: “اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔”
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ذکر اللہ عبادات میں سب سے افضل عبادت ہے، کیونکہ تمام عبادات کا مقصد بھی ذکر اللہ ہی ہے۔ یوں ذکر اللہ تمام عبادات کی جان اور روح ہے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ،وَأَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیْکِکُمْ،وَأَرْفَعِہَا فِیْ دَرَجَاتِکُمْ،وَخَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ،وَخَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَہُمْ وَیَضْرِبُوْا أَعْنَاقَکُمْ ؟ ))
(سنن الترمذی:3377۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
“کیا میں تمہیں اس عمل کے بارے میں خبر نہ دوں جو اعمال میں سب سے افضل ہے؟ اور جو تمہارے بادشاہ (یعنی اللہ تعالیٰ) کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ اور جو تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے؟ اور جو تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر ہے؟ اور جو اس سے بھی افضل ہے کہ تم دشمن سے مڈبھیڑ کرو، پھر تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں؟”
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( ذِکْرُ اللّٰہِ ))
ترجمہ: “وہ اللہ کا ذکر ہے۔”
ذکر اللہ کا مفہوم اور اقسام
ذکر کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذکر کی دو قسمیں ہیں: عام ذکر اور خاص ذکر۔
➊ ذکرِ عام
ذکرِ عام سے مراد وہ ذکر ہے جس میں ساری عبادات شامل ہو جاتی ہیں، مثلاً: نماز، روزہ، حج، تلاوتِ قرآن، دعا، تسبیحات وغیرہ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مطابق: اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والا اور اس کے قریب کرنے والا ہر لفظ اللہ کا ذکر ہے، چاہے وہ علم کا حصول ہو، تعلیم ہو، امر بالمعروف ہو یا نہی عن المنکر ہو۔
اور شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “ذکر اللہ” کہا جائے تو اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ کے قریب کر دے—چاہے وہ عقیدے سے متعلق ہو یا سوچ و فکر سے، دل کا عمل ہو یا بدن کا۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ہو یا علمِ نافع کا حصول—یہ سب ذکرِ الٰہی ہی کی صورتیں ہیں۔
لہٰذا یہ سمجھنا درست نہیں کہ ذکر صرف تسبیحات تک محدود ہے۔ درحقیقت ہر وہ عمل جو قرآن و حدیث کے مطابق ہو اور اللہ کی رضا کیلئے کیا جائے، وہ ذکر میں شامل ہے۔
➋ ذکرِ خاص
ذکرِ خاص سے مراد وہ مخصوص دعائیں اور اذکار ہیں جن کے الفاظ اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں، اور جن کے اوقات اور تعداد بھی متعین ہوں، مثلاً: فرض نمازوں کے بعد کے مسنون اذکار، صبح و شام کے اذکار، اور مختلف مواقع کی خاص دعائیں۔
اس قسم کے ذکر میں ثابت شدہ اوقات، تعداد اور کیفیات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح اور ثابت شدہ طریقے کو چھوڑ کر اپنی مرضی، یا اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر کرے، تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ذکر اللہ کی حقیقی برکات اور عظیم فوائد سے دور چلا جاتا ہے۔
ذکر: زبان، دل اور دونوں کے ساتھ
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ذکر تین طرح ہوتا ہے:
➊ صرف زبان کے ساتھ
➋ صرف دل کے ساتھ
➌ زبان اور دل دونوں کے ساتھ (یہ سب سے افضل ہے)
سب سے افضل اور سب سے زیادہ نفع بخش ذکر وہ ہے جو زبان اور دل دونوں کے ساتھ ہو—یعنی زبان ذکر ادا کرے اور دل اس کے معانی میں غور و فکر کرے۔ مثلاً:
❀ “سبحان اﷲ” کہتے ہوئے زبان حرکت کرے اور دل میں یہ یقین تازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔
❀ “الحمد للہ” کہتے ہوئے زبان بھی ہو اور دل میں شکر و تشکر کے جذبات پیدا ہوں۔
❀ “اللہ اکبر” کہتے ہوئے دل میں اللہ کی عظمت اور بڑائی کا تصور قائم ہو۔
❀ “لا إلہ إلا اللہ” پڑھتے ہوئے دل میں توحید کا اقرار زندہ ہو۔
اس کے بعد بقول ابن القیم رحمہ اللہ وہ ذکر ہے جو صرف دل کے ساتھ ہو، جیسے اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنا، اوامر و نواہی میں تدبر، قدرت کی نشانیوں پر غور، اور عظمتِ الٰہی کا استحضار۔ اور تیسرے درجے پر وہ ذکر ہے جو صرف زبان پر ہو مگر دل و دماغ اس کا ساتھ نہ دیں۔
کثرتِ ذکر اللہ کا حکم، ہر حال میں ذکر، اور ذکر کرنے والوں کی عظیم فضیلت
ذکرِ الٰہی کی فضیلت و اہمیت جان لینے کے بعد اگلی بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کثرت سے ذکر کرنے کا صریح حکم دیا ہے۔ یہ ذکر صرف چند لمحات یا مخصوص اوقات تک محدود نہیں، بلکہ مومن کی زندگی کے ہر لمحے میں جاری رہنے والا عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے اہلِ عقل کی علامت قرار دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنتِ مبارکہ سے اس کی عملی شکل واضح فرمائی۔
➊ کثرتِ ذکر اللہ کا حکم
① ایمان والوں کو کثرت سے ذکر کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا. وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً﴾
(الأحزاب33 :42-41)
ترجمہ: “اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو۔”
② ہر حالت میں ذکر: کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِّأُوْلِیْ الْأَلْبَابِ. الَّذِیْنَ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ قِیَاماً وَّقُعُودًا وَّعَلٰی جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
(آل عمران3 :191-190)
ترجمہ: “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے اختلاف میں عقل والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ لوگ جو کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے کار پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔”
➋ کثرتِ ذکر کی آسان راہ: زبان تر رہے
حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
(( إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَیَّ ، فَأَخْبِرْنِیْ بِشَیْئٍ أَتَشَبَّثُ بِہٖ ))
ترجمہ: “شریعت کے احکامات (میری کمزوری کی وجہ سے) مجھ پر غالب آ چکے ہیں، لہٰذا آپ مجھے کوئی (آسان سا) کام بتا دیں جس پر میں ہمیشہ عمل کرتا رہوں۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا بِذِکْرِ اللّٰہِ ))
(سنن الترمذی:3375۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “تمہاری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ تر رہے۔”
➌ نبی کریم ﷺ کا مستقل عمل: ہر وقت ذکر
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
( کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ أَحْیَانِہٖ )
(رواہ البخاری معلقا: الأذان باب ہل یتتبع المؤذن فاہ ہہنا وہہنا، مسلم:373)
ترجمہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے تھے۔”
➍ تلاشِ معاش اور میدانِ جنگ میں بھی ذکر کی تاکید
③ کاروبار اور معاش کے دوران ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ فَانْتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ﴾
(الجمعۃ62:10)
ترجمہ: “پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔”
④ میدانِ قتال میں بھی کثرتِ ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾
(الأنفال8 :45)
ترجمہ: “اے ایمان والو! جب تمہاری دشمن کے کسی لشکر سے مڈبھیڑ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو خوب یاد رکھا کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔”
➎ ذکر کرنے والے مرد و عورت کیلئے مغفرت اور اجر عظیم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ … وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا﴾
(الأحزاب33 :35)
ترجمہ: “بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں… اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں—ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔”
➏ کثرتِ ذکر والا مستجاب الدعوات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( ثَلَاثَۃٌ لَا یَرُدُّ اللّٰہُ دُعَائَ ہُمْ:اَلذَّاکِرُ اللّٰہَ کَثِیْرًا،وَالْمَظْلُومُ،وَالْإِمَامُ الْمُقْسِطُ ))
(رواہ البیہقی فی شعب الإیمان۔ وحسنہ الألبانی فی صحیح الجامع:3064)
ترجمہ: “تین آدمیوں کی دعا اللہ تعالیٰ رد نہیں کرتا: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا، مظلوم، اور انصاف کرنے والا حکمران۔”
یہاں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بندہ “کثرت سے ذکر کرنے والا” اسی وقت بنتا ہے جب وہ صبح و شام کے مسنون اذکار، مختلف مواقع کے مسنون اذکار و دعائیں اور عمومی تسبیحات، استغفار اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرے۔
کم ذکر کرنا منافقوں کی صفت، نمازِ منافق، اور ذکر اللہ کے عظیم فوائد
ذکرِ الٰہی کی فضیلت اور کثرتِ ذکر کے حکم کے بعد یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کم ذکر کرنا مومن کی نہیں بلکہ منافقوں کی صفت ہے۔ قرآن و حدیث نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے تاکہ اہلِ ایمان اپنی راہ پہچان لیں اور غفلت سے بچ جائیں۔
کم ذکر کرنا منافقوں کی علامت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ وَإِذَا قَامُوْا إِلیَ الصَّلاَۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ یُرَائُوْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ إِلَّا قَلِیْلاً﴾
(النساء4 :142)
ترجمہ: “بے شک منافق اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ ہی انھیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ اور جب وہ نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی سستی سے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھانے کیلئے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی دو نمایاں صفات بیان فرمائیں:
➊ نماز میں سستی اور بے دلی
➋ اللہ تعالیٰ کا بہت کم ذکر کرنا
لہٰذا اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ منافقوں کے برعکس نماز میں چستی، اخلاص اور محبتِ الٰہی کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس میں اللہ کا ذکر کثرت سے کریں۔
نمازِ منافق کی وضاحت
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ،یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی إِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ،قَامَ فَنَقَرَہَا أَرْبَعًا،لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا إِلَّا قَلِیْلاً ))
(صحیح مسلم :622)
ترجمہ: “یہ منافق کی نماز ہے: وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جاتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے، اور اس میں اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتا ہے۔”
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جس نماز میں ذکرِ الٰہی نہ ہو، خشوع نہ ہو اور محض رسمی حرکات ہوں، وہ مومن کی نماز نہیں۔
ذکر اللہ کے عظیم فوائد
ذکرِ الٰہی کے فوائد بے شمار ہیں۔ یہاں ان میں سے چند اہم فوائد قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے جاتے ہیں:
➊ اللہ بندے کو یاد رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاذْکُرُوْنِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلاَ تَکْفُرُوْنَ﴾
(البقرۃ2 :152)
ترجمہ: “پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرتے رہو، ناشکری نہ کرو۔”
یہ کیسی عظیم سعادت ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اللہ خود اسے یاد فرمائے۔
➋ دلوں کو حقیقی سکون ملتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾
(الرعد13 :28)
ترجمہ: “وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سن لو! دلوں کو سکون صرف اللہ کے ذکر ہی سے ملتا ہے۔”
مالک بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“ذکر اللہ سے جو لذت حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور چیز سے نہیں ملتی، کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جس میں محنت کم اور اجر بہت زیادہ ہے۔”
اور حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“حقیقی لذت تین چیزوں میں تلاش کرو: نماز، ذکر اور تلاوتِ قرآن۔ اگر ان میں لذت نہ ملے تو جان لو کہ دلوں کے دروازے بند ہیں۔”
➌ ذکر سے اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَأَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِیْ … ))
(صحیح البخاری:7405، صحیح مسلم:2675)
ترجمہ (خلاصہ): “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں…”
یہ حدیث ذکر کرنے والے کیلئے اللہ کی خاص معیت اور قرب کی بشارت ہے۔
➍ ذکر اللہ شیطان سے حفاظت ہے
شیطان کو “الوسواس الخناس” کہا گیا ہے، یعنی وسوسے ڈالنے والا اور ذکر کے وقت پیچھے ہٹ جانے والا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“شیطان انسان کے دل پر بیٹھا رہتا ہے، جب وہ غافل ہو جائے تو وسوسے ڈالتا ہے، اور جب اللہ کا ذکر کرے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ﴾
(الأعراف7:200)
اور آگے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّہُمْ طٰئِفٌ مِّنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوْا فَإِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ﴾
(الأعراف7:201)
ترجمہ: “جب متقی لوگوں کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پہنچتا ہے تو وہ فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اچانک بصیرت والے بن جاتے ہیں۔”
➎ ذکر اللہ دلِ مومن کو زندگی دیتا ہے
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَثَلُ الَّذِیْ یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِیْ لَا یَذْکُرُہُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ))
(صحیح البخاری:6407)
ترجمہ: “جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔”
ذکر اللہ کے مزید فوائد، عرش کا سایہ، میزان میں وزن اور تسبیحات کے عظیم فضائل
ذکرِ الٰہی کے فوائد صرف دنیاوی سکون تک محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی اس کے عظیم ثمرات ظاہر ہوں گے۔ قرآن و حدیث میں بار بار اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ذکر اللہ بندے کیلئے نجات، بلندیٔ درجات اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔
➏ ذکر کرنے والا عرشِ الٰہی کے سائے میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( سَبْعَۃٌ یُظِلُّہُمُ اللّٰہُ فِی ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ … وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ ))
(صحیح البخاری:660، صحیح مسلم:1031)
ترجمہ: “سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا… اور ان میں وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔”
➐ ذکر اللہ میزان کو بھر دیتا ہے
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلطَّہُورُ شَطْرُ الْإِیْمَانِ،وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ،وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَآنِ مَا بَیْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأرْضِ ))
(صحیح مسلم:223)
ترجمہ: “پاکیزگی آدھا ایمان ہے، ‘الحمد للہ’ میزان کو بھر دیتی ہے، اور ‘سبحان اللہ’ اور ‘الحمد للہ’ زمین و آسمان کے درمیان خلا کو (اجر و ثواب سے) بھر دیتے ہیں۔”
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمٰنِ،خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ،ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم ))
(صحیح البخاری:7563)
➑ ذکر اللہ دل کو زندہ رکھتا ہے
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( مَثَلُ الْبَیْتِ الَّذِیْ یُذْکَرُ اللّٰہُ فِیْہِ، وَالْبَیْتِ الَّذِیْ لَا یُذْکَرُ اللّٰہُ فِیْہِ، مَثَلَ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ))
(صحیح مسلم:779)
ترجمہ: “جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اس کی مثال زندہ کی سی ہے، اور جس گھر میں ذکر نہیں ہوتا اس کی مثال مردہ کی سی ہے۔”
فضائلِ تسبیحات
ذکر اللہ کی ایک نہایت بابرکت صورت تسبیحات ہیں، جن کے فضائل احادیثِ نبویہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
➊ سب سے محبوب کلمات
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( أَحَبُّ الْکَلَامِ إِلَی اللّٰہِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ))
(صحیح مسلم:2137)
ترجمہ: “چار کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں: سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إلہ إلا اللہ، اور اللہ اکبر۔”
➋ نبی کریم ﷺ کو سب سے محبوب ذکر
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( لَأَنْ أَقُوْلَ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ ))
(صحیح مسلم:2695)
➌ جنت میں شجر کاری
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( غِرَاسُ الْجَنَّۃِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ))
(سنن الترمذی:3462۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “جنت میں شجر کاری کے کلمات یہ ہیں: سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إلہ إلا اللہ، اور اللہ اکبر۔”
➍ گناہوں کی معافی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا عَلَی الْأرْضِ رَجُلٌ یَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، إِلَّا کُفِّرَتْ عَنْہُ ذُنُوبُہُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ))
(سنن الترمذی:3460۔ وحسنہ الألبانی)
➎ گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے پتے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، لَتُسَاقِطُ الذُّنُوبَ کَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ الشَّجَرِ ))
(سنن الترمذی:3533۔ وحسنہ الألبانی)
تسبیحات کے مزید فوائد، صبح و شام کے اذکار اور ان کی عظیم برکات
ذکرِ الٰہی بالخصوص تسبیحات کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان جتنا ان پر غور کرتا ہے اتنا ہی دل میں شوق اور رغبت بڑھتی ہے۔ یہی وہ اعمال ہیں جو نہ زبان پر بوجھ بنتے ہیں اور نہ وقت زیادہ لیتے ہیں، مگر اجر و ثواب میں پہاڑوں سے زیادہ وزنی ہیں۔
تسبیحات کے مزید عظیم فوائد
➏ اللہ تعالیٰ نے ان تسبیحات کو اپنے بندوں کیلئے چن لیا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ أَرْبَعًا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ کُتِبَ لَہُ عِشْرُونَ حَسَنَۃً وَحُطَّتْ عَنْہُ عِشْرُونَ سَیِّئَۃً … ))
(مسند احمد، مستدرک حاکم۔ وصححہ الألبانی فی صحیح الجامع:1718)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے چار کلمات کو چن لیا ہے: سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إلہ إلا اللہ، اور اللہ اکبر۔ جو شخص سبحان اللہ کہتا ہے اس کیلئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں …”
➐ تسبیحات جہنم سے بچاؤ کی ڈھال ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( خُذُوْا جُنَّتَکُمْ ))
ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دشمن سے بچاؤ کیلئے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( بَلْ جُنَّۃً مِنَ النَّارِ ))
پھر فرمایا:
(( قُوْلُوْا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ))
(الحاکم۔ وصححہ الألبانی فی صحیح الجامع:3214)
ترجمہ: “یہ کلمات قیامت کے دن نجات دہندہ اور آگے بڑھانے والے ہوں گے، اور یہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔”
➑ تسبیحات عرش کے اردگرد گونجتی ہیں
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلتَّسْبِیْحُ وَالتَّحْمِیْدُ وَالتَّہْلِیْلُ وَالتَّکْبِیْرُ یَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَہُنَّ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ، تَذْکُرُ بِصَاحِبِہَا ))
(سنن ابن ماجہ:3809۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “یہ تسبیحات عرش کے اردگرد گھومتی ہیں، شہد کی مکھیوں کی آواز کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے، اور وہ اپنے پڑھنے والے کا ذکر کرتی ہیں۔”
➒ ہر تسبیح صدقہ ہے
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
“مالدار لوگ اجر لے گئے، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور صدقہ بھی کرتے ہیں۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ بِکُلِّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃً ))
(صحیح مسلم:1006)
➓ تسبیحات میزان میں انتہائی وزنی
حضرت ابو سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا أَثْقَلَہُنَّ فِی الْمِیْزَانِ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ))
(سنن النسائی الکبری، المستدرک للحاکم)
صبح و شام کے اذکار اور ان کے فضائل
ذکر اللہ کی ایک نہایت اہم صورت صبح و شام کے اذکار ہیں۔ جو شخص ان اذکار کی پابندی کر لیتا ہے، وہ دن اور رات اللہ کی حفاظت میں گزارنے لگتا ہے۔
➊ آیت الکرسی (صبح و شام)
فضیلت:
“جو شخص صبح آیت الکرسی پڑھ لے وہ شام تک محفوظ رہتا ہے، اور جو شام کو پڑھ لے وہ صبح تک محفوظ رہتا ہے۔”
➋ معوذات (صبح و شام تین تین مرتبہ)
(( قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ ))
فضیلت: “یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی۔”
(سنن ابی داود:5082، سنن الترمذی:3575)
➌ سید الاستغفار (صبح و شام)
یہ استغفار گناہوں کی معافی اور جنت کی ضمانت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔
➍ سبحان اللہ وبحمدہ (صبح و شام سو مرتبہ)
فضیلت: “قیامت کے دن اس سے افضل عمل کوئی نہیں ہوگا، سوائے اس کے جو اس جیسا یا اس سے زیادہ کرے۔”
(صحیح مسلم:2692)
مجالسِ ذکر کے فضائل، فرشتوں کی حاضری اور ذکر سے خالی مجلسوں کا انجام
ذکرِ الٰہی صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک بابرکت صورت مجالسِ ذکر بھی ہیں۔ مجالسِ ذکر سے مراد وہ نشستیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے، قرآنِ مجید کی تلاوت ہو، اس کی آیات و احادیث پر غور و فکر کیا جائے، دین کی تعلیم دی جائے اور خیر و بھلائی کی باتیں ہوں۔ ایسی مجالس کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی فضیلت عطا فرمائی ہے۔
مجالسِ ذکر میں فرشتوں کی حاضری
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَنَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہُ ))
(صحیح مسلم:2700)
ترجمہ: “جو لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کیلئے بیٹھتے ہیں، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر کرتا ہے۔”
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مجالسِ ذکر محض عام نشستیں نہیں بلکہ ایسی بابرکت محفلیں ہیں جہاں آسمان سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے سامنے فخر کرنا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں کچھ لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا: تم کیوں بیٹھے ہو؟
انہوں نے کہا: “ہم یہاں اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔”
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی مقصد کیلئے بیٹھے ہو؟
انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم!
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تم سے حلف اس لئے نہیں لیا کہ میں تمہیں جھوٹا سمجھتا ہوں، بلکہ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مرتبہ کچھ لوگوں سے یہی سوال کیا تھا، پھر فرمایا:
(( أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَأَخْبَرَنِیْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ ))
(صحیح مسلم:2701)
ترجمہ: “میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتا ہے۔”
یہ کتنا بڑا شرف ہے کہ بندہ ذکرِ الٰہی کی محفل میں بیٹھے اور اللہ تعالیٰ اس پر فرشتوں کے سامنے فخر فرمائے۔
مجالسِ ذکر کی تلاش میں گھومنے والے فرشتے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں اور مجالسِ ذکر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسی مجلس کو پاتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو رہا ہو تو وہ بھی وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ مجلس آسمانِ دنیا تک بھر جاتی ہے…”
پھر اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے، اور آخر میں فرماتا ہے:
“میں نے انہیں بخش دیا، ان کی دعائیں قبول کر لیں اور جس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی اس سے انہیں محفوظ کر دیا۔”
جب فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس مجلس میں ایک گناہ گار بھی تھا جو محض گزر رہا تھا اور بیٹھ گیا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“میں نے اسے بھی معاف کر دیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔”
(صحیح البخاری:6408، صحیح مسلم:2689)
ذکر سے خالی مجلسوں کا انجام
جہاں مجالسِ ذکر اس قدر فضیلت رکھتی ہیں، وہیں وہ مجالس جن میں اللہ کا ذکر نہ ہو، انتہائی خسارے اور ندامت کا باعث بنتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْہِ وَلَمْ یُصَلُّوا عَلٰی نَبِیِّہِمْ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِمْ تِرَۃً ))
(سنن الترمذی:3380۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں نہ اللہ کا ذکر کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، وہ مجلس ان کیلئے باعثِ حسرت ہوگی۔”
اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا:
(( مَا مِنْ قَوْمٍ یَقُوْمُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ فِیْہِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِیْفَۃِ حِمَارٍ وَکَانَتْ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ))
(سنن ابی داود:4855۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “جو لوگ اللہ کا ذکر کئے بغیر کسی مجلس سے اٹھتے ہیں، وہ ایسے ہیں جیسے مردہ گدھے کی لاش کے پاس سے اٹھے ہوں، اور وہ مجلس ان کیلئے باعثِ ندامت ہوگی۔”
ذکر سے غفلت کی مذمت، ذکر کے آداب، بدعاتِ ذکر پر تنبیہ، حاصلِ کلام اور نتیجہ
ذکرِ الٰہی کے فضائل، فوائد اور برکات جان لینے کے بعد یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ انسان ذکر سے غفلت کے انجام اور ذکر کے درست آداب کو سمجھے، کیونکہ ذکر وہ عظیم عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ کے قریب ہوتا ہے، اور اسی ذکر سے غفلت انسان کو خسارے میں ڈال دیتی ہے۔
ذکر اللہ سے غفلت کی سخت مذمت
اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر سے غفلت اختیار کرنے سے واضح طور پر منع فرمایا ہے اور ایسے لوگوں کو خسارہ پانے والا قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُلْہِکُمْ أَمْوَالُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَلِکَ فَأُولٰئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ﴾
(المنافقون63 :9)
ترجمہ: “اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں، اور جو لوگ ایسا کریں گے وہی حقیقی خسارہ پانے والے ہوں گے۔”
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر مال، اولاد، کاروبار یا دنیاوی مشاغل انسان کو ذکرِ الٰہی سے غافل کر دیں تو یہ سراسر نقصان ہے، چاہے بظاہر وہ دنیا میں کتنا ہی کامیاب کیوں نہ نظر آئے۔
صبح و شام ذکر نہ کرنے والا غافلوں میں شامل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغَافِلِیْنَ﴾
(الأعراف7:205)
ترجمہ: “اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو عاجزی کے ساتھ، خوف کے ساتھ اور آہستہ آواز میں، صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ بنو۔”
یہ حکم اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے، مگر اس میں پوری امت شامل ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص صبح و شام ذکر کا اہتمام نہیں کرتا وہ غافلوں کی صف میں شامل ہو جاتا ہے۔
ذکر اللہ کے آداب
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کے چند اہم آداب بھی سکھائے ہیں:
➊ عاجزی اور انکساری کے ساتھ ذکر
ذکر کرتے وقت دل میں اللہ کی عظمت، بڑائی اور اپنی عاجزی کا احساس ہو۔
➋ خوفِ الٰہی کے ساتھ ذکر
ذکر اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور دل میں خشیت پیدا کرتے ہوئے کیا جائے۔
➌ آہستہ آواز میں ذکر
ذکر اونچی آواز میں کرنے کے بجائے پست آواز میں ہو تاکہ ریاکاری اور دکھاوے کا شائبہ پیدا نہ ہو۔
بلند آواز سے ذکر کرنے پر تنبیہ
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ لوگ اونچی آواز سے “اللہ اکبر” کہنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَیُّہَا النَّاسُ! اِرْبَعُوا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ، إِنَّکُمْ لَیْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّکُمْ تَدْعُونَ سَمِیْعًا قَرِیْبًا، وَہُوَ مَعَکُمْ ))
(صحیح البخاری:4202، صحیح مسلم:2704)
ترجمہ: “اے لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم اسے پکار رہے ہو جو خوب سننے والا اور بہت قریب ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔”
بدعاتِ ذکر پر واضح تنبیہ
اس حدیث میں ان لوگوں پر واضح رد ہے جو ذکر کے نام پر:
❀ اونچی آواز میں اجتماعی طور پر “اللہ اللہ”
❀ “الا اللہ الا اللہ”
❀ یا “ہو ہو” کی ضربیں لگاتے ہیں
یہ طریقے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، نہ تابعین رحمہ اللہ سے۔
ان طریقوں میں کئی قباحتیں ہیں:
➊ یہ طریقہ سنتِ نبوی کے خلاف ہے
➋ یہ ذکر میں مطلوب عاجزی و انکساری کے منافی ہے
➌ اس میں ریاکاری کا شدید اندیشہ ہوتا ہے
➍ “اللہ اللہ” یا “ہو ہو” جیسے الفاظ وہ بامعنی ذکر نہیں جو قرآن و سنت میں ثابت ہے، جیسا کہ “لا إلہ إلا اللہ” یا “سبحان اللہ” وغیرہ
لہٰذا ذکر وہی معتبر اور بابرکت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہو۔
نتیجہ
نتیجہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی میں ذکرِ الٰہی کو مرکزی حیثیت دے۔ صبح و شام کے اذکار، فرض نمازوں کے بعد کے اذکار، تسبیحات، استغفار، تلاوتِ قرآن اور مجالسِ ذکر—یہ سب مومن کی روحانی زندگی کی بنیاد ہیں۔ جو شخص اللہ کو یاد رکھتا ہے اللہ اسے یاد رکھتا ہے، اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے اپنا ذکر کرنے والوں میں شامل فرمائے، غفلت سے محفوظ رکھے اور سنت کے مطابق ذکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔