مضمون کے اہم نکات
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے، اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارے اور عبادت و اطاعت کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ خاص اوقات ایسے بھی مقرر فرمائے ہیں جن میں نیکیوں کے مواقع بڑھ جاتے ہیں اور بندے کو چاہیے کہ وہ عبادات اور مختلف اعمالِ صالحہ میں سبقت لے جانے کی بھرپور کوشش کرے۔ انہی بابرکت اوقات میں عشرۂ ذوالحجہ بھی شامل ہے جس کی فضیلت پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح شہادت موجود ہے، اور قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان ایام کی قسم کھا کر ان کی عظمت کو نمایاں فرمایا ہے۔ اس مضمون میں عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل، اس کے مستحب اعمال، اور قربانی سے متعلق اہم رہنمائی تفصیل کے ساتھ بیان کی جا رہی ہے۔
عشرۂ ذوالحجہ کی عظمت قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَٱلْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾ (الفجر89: 2-1)
ترجمہ: “قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔”
جمہور مفسرین کے نزدیک “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں، اور علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر میں اسی رائے کو صحیح قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان ایام کی قسم کھانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دن بہت عظیم اور فضیلت والے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ عظمت والی ہی چیز کی قسم کھاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو چاہیے کہ ان ایام کو باعثِ شرف اور نیکی سمجھ کر اعمالِ صالحہ کے لیے بھرپور محنت کریں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿٦٩﴾ (العنکبوت29 : 69)
ترجمہ: “اور جو لوگ ہمارے (دین) کی خاطر کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں، اور یقیناً اللہ نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی توفیق دے اور ان بابرکت دنوں سے خوب فائدہ اٹھانے والا بنائے۔
عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل
❀ دنیا کے تمام ایام میں یہ دن سب سے افضل ہیں
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(أَفْضَلُ أَیَّامِ الدُّنْیَا أَیّامُ الْعَشْرِ یَعْنِیْ عَشْرَ ذِیْ الْحِجَّةِ، قِیْلَ: وَلَا مِثْلُھُنَّ فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ؟ قَالَ وَلَا مِثْلُھُنَّ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا رَجُلٌ عَفَّرَ وَجْھَهُ فِی التُّرَابِ) (رواہ البزار وابن حبان وصححہ الألباني في صحیح الترغیب والترہیب:1150)
ترجمہ: “دنیا کے تمام دنوں میں سب سے افضل دن عشرۂ ذوالحجہ کے دن ہیں۔ پوچھا گیا: کیا اللہ کی راہ میں جہاد کے دن بھی ان جیسے نہیں؟ فرمایا: جہاد کے دن بھی ان جیسے نہیں، مگر وہ آدمی جس نے اپنا چہرہ مٹی میں ملا دیا (یعنی شہید ہو گیا)۔”
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(مَا مِنْ أَیَّامٍ اَلْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْھَا أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْ ھَذِہِ الأیَّامِ یَعْنِیْ أَیَّامَ الْعَشْرِ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَیْئٍ) (رواہ أحمد۔ واللفظ لہ۔ والبخاري بمعناہ :969)
ترجمہ: “ایسے دن کوئی نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں (یعنی عشرۂ ذوالحجہ) کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی (اتنا محبوب) نہیں؟ فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹا۔”
یعنی مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور خود بھی شہید ہو جائے تو یہ عمل زیادہ محبوب ہوگا، ورنہ عمومی طور پر ان دنوں میں باقی اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوتے ہیں۔
ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْکیٰ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ خَیْرٍ یَعْمَلُهُ فِی عَشْرِ الْأضْحیٰ)
ترجمہ: “قربانی کے عشرہ میں کیا جانے والا نیکی کا کوئی عمل اللہ کے ہاں اس سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اجر والا نہیں۔”
پوچھا گیا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ تو فرمایا: “جہاد بھی نہیں، مگر وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے، پھر مال بھی قربان کر دے اور جان بھی قربان کر دے۔”
راوی کہتے ہیں کہ اسی حدیث کی بنیاد پر سعید بن جبیر رحمہ اللہ جب عشرۂ ذوالحجہ شروع ہوتا تو عبادت میں اتنی محنت کرتے کہ دوسروں کے لیے ویسی عبادت کرنا مشکل ہو جاتا۔ (صحیح الترغیب والترہیب للألباني:1148)
لہٰذا ہمیں بھی سلف صالحین رحمہ اللہ کے اس طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اس عشرہ میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔
(2) انہی ایام میں یومِ عرفہ بھی ہے
عشرۂ ذوالحجہ کے بابرکت دنوں میں یومِ عرفہ بھی آتا ہے، جو حج کا اصل دن ہے اور اسی دن حج کا سب سے بڑا رکن وقوفِ عرفہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ اہلِ عرفات کے لیے عام مغفرت کا اعلان فرماتا ہے اور اسی دن سب سے زیادہ بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔
لہٰذا اگر عشرۂ ذوالحجہ کے دنوں میں کسی اور وجہ سے کوئی فضیلت نہ بھی ہو تو صرف یومِ عرفہ ہی ان ایام کی عظمت و فضیلت کے لیے کافی ہے۔
(3) انہی ایام میں یومِ نحر بھی ہے
انہی مبارک دنوں میں یومِ نحر (قربانی کا دن) بھی شامل ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یومِ نحر سال کے تمام دنوں سے افضل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(أَعْظَمُ الأَیَّامِ عِنْدَا یَوْمُ النَّحْرِ وَ یَوْمُ القَرِّ) (سنن أبي داؤد والنسائي۔وصححہ الألباني)
ترجمہ: “اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باوقار اور عظمت والا دن یومِ نحر (یعنی 10 ذو الحجہ) ہے، پھر اس کے بعد (منیٰ میں) ٹھہرنے کا دن (یعنی 11 ذو الحجہ) ہے۔”
(4) ان ایام میں متعدد اہم ترین عبادتیں جمع ہوتی ہیں
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں یہ نکتہ بیان کیا ہے:
(وَالَّذِی یَظْهَرُ أَنَّ السَّبَبَ فِی امْتِیَازِ عَشْرِ ذِی الْحِجَّةِ لِمَکَانِ اجْتِمَاعِ أُمَّهَاتِ الْعِبَادَۃِ فِیْهِ وَهِیَ الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَةُ وَالْحَجُّ، وَلَا یَتَأَتّٰی ذَلِكَ فِی غَیْرِہ) (فتح الباري:460/2)
ترجمہ: “عشرۂ ذوالحجہ کی امتیازی فضیلت کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں بنیادی عبادات جمع ہو جاتی ہیں، یعنی: نماز، روزہ، صدقہ اور حج۔ اور یہ اجتماع دوسرے مواقع میں اس طرح ممکن نہیں ہوتا۔”
عشرۂ ذوالحجہ کے مستحب اعمال
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ عام دنوں کے مقابلے میں عشرۂ ذوالحجہ میں نیک اعمال کی فضیلت بہت زیادہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس سنہری موقع کو غنیمت جاننا چاہیے۔ یہ بابرکت فرصتیں بار بار نہیں آتیں، اس لیے ان دنوں میں عبادت و اطاعت کی خوب کوشش کیجئے، جیسا کہ سلف صالحین رحمہ اللہ ان مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور اعمالِ صالحہ میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔
ابو عثمان النہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اسلافِ کرام تین عشروں کی بڑی قدر کرتے تھے: رمضان کا آخری عشرہ، ذوالحجہ کا عشرہ اور محرم کا پہلا عشرہ۔”
اب ان دنوں میں جو اعمال مستحب ہیں اور جن کا تمام مسلمانوں کو خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، وہ درج ذیل ہیں:
(1) مناسکِ حج اور عمرہ کی ادائیگی
عشرۂ ذوالحجہ میں کیے جانے والے اعمال میں سب سے افضل عمل حج اور عمرہ کی ادائیگی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق حجِ بیت اللہ اور عمرہ کی توفیق دے، اس کا بدلہ اللہ کے ہاں جنت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَهُ جَزَاءٌ إلَّا الْجَنّةُ) (متفق علیہ)
ترجمہ: “ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے (گناہوں) کا کفارہ ہے، اور حجِ مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔”
حجِ مبرور وہ حج ہے جو طریقۂ نبوی کے مطابق ہو، اور ہر قسم کے گناہوں مثلاً ریا، جماع اور فسق و فجور والی باتوں سے پاک ہو، بلکہ سراپا نیک اعمال و کردار سے معمور ہو۔
(2) روزہ رکھنا
روزہ بھی عملِ صالح کی جنس سے ہے، بلکہ اللہ کے نزدیک نہایت افضل اور محبوب اعمال میں سے ہے۔
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَا ِمنْ عَبْدٍ یَصُوْمُ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذٰلِكَ الْیَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا) (صحیح البخاري:2840،صحیح مسلم:1153)
ترجمہ: “جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔”
یہ روزے کی عمومی فضیلت ہے، اور عشرۂ ذوالحجہ کے روزوں کے بارے میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے ایک روایت میں آتا ہے کہ:
(کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَصُوْمُ تِسْعَ ذِی الْحِجَّةِ، وَیَوْمَ عَاشُوْرَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ) (سنن أبي داؤد:2437 وصححہ الألباني)
ترجمہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذو الحجہ کے پہلے نو دن روزہ رکھتے تھے، یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھتے تھے۔”
اس بنا پر ذو الحجہ کے پہلے نو دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اور اس کی تطبیق
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
(مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ) (صحیح مسلم:1176)
ترجمہ: “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرۂ ذوالحجہ میں کبھی روزے کی حالت میں نہیں دیکھا۔”
امام نووی رحمہ اللہ اس پر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ وہم نہیں ہونا چاہیے کہ عشرۂ ذوالحجہ میں روزہ رکھنا مکروہ ہے، کیونکہ علماء نے اس کی تاویل کی ہے کہ:
❀ ان دنوں کے روزے میں کوئی کراہت نہیں بلکہ یہ نہایت مستحب ہیں، خصوصاً نو ذو الحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ۔
❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نہ دیکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہی نہیں؛ ممکن ہے وہ کسی سفر یا عارضہ کی وجہ سے چھوڑ دیا ہو۔ (شرح النووي لصحیح مسلم:58/4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ پہلو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی پسندیدہ عمل کو امت پر فرض ہو جانے کے اندیشے سے ترک بھی فرما دیتے تھے، تو ممکن ہے اسی حکمت کی بنا پر کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔ (فتح الباري:460/2)
یومِ عرفہ کے روزے کی خصوصی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
(صَوْمُ یَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَةَ الّتِیْ قَبْلَهُ وَالّتِیْ بَعْدَہُ) (صحیح مسلم:1162)
ترجمہ: “یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
پس نو ذو الحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ رکھنا سنت ہے۔
(3) نماز کی پابندی اور نوافل کا اہتمام
نماز سب سے عظیم اور افضل عبادت ہے۔ اس لیے پورا سال فرائض کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے، لیکن عشرۂ ذوالحجہ میں اس کا خصوصی اہتمام کرنا اور اس کے ساتھ کثرت سے نوافل ادا کرنا نہایت اہم ہے، کیونکہ نوافل اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَالَ: مَنْ عَادیٰ لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُهُ عَلَیْهِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِهِ، وَیَدَهُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّهُ) (صحیح البخاري:6502)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ سب سے زیادہ میرا تقرب ان چیزوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ میری پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔”
لہٰذا عشرۂ ذوالحجہ میں فرائض کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل، تہجد، اشراق اور دیگر نفلی نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(4) کثرت سے ذکرِ الٰہی کرنا
ان مبارک ایام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بکثرت کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دن ذکر و عبادت کے لیے خاص طور پر منتخب کیے گئے ہیں۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَحَبُّ إِلَیْهِ الْعَمَلُ فِیْهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ، فَأَکْثِرُوا فِیْهِنَّ مِنَ التَّهْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ) (مسند أحمد:323/9،296/10 وقال الأرناؤوط: صحیح)
ترجمہ: “اللہ کے نزدیک کوئی دن ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے اور محبوب نہیں جن میں عمل کیا جائے، لہٰذا ان دنوں میں لا إله إلا الله، الله أكبر اور الحمد لله کی کثرت کیا کرو۔”
ذکرِ الٰہی کی فضیلت
❀ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَکَرَنِیْ، فَإِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِهِ ذَکَرْتُهُ فِیْ نَفْسِیْ، وَإِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَإٍ ذَکَرْتُهُ فِیْ مَلَإٍ خَیْرٍ مِّنْهُمْ…) (صحیح البخاري:7405، صحیح مسلم:2675)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں…”
تسبیحات کی عظیم فضیلت
① رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أَحَبُّ الْکَلاَمِ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی أَرْبَعٌ… سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ) (صحیح مسلم:2137)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہیں: سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إله إلا الله، الله أكبر۔”
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لَأَنْ أَقُوْلَ سُبْحَانَ اللّٰہِ… أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ) (صحیح مسلم:2695)
ترجمہ: “میرا سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إله إلا الله اور الله أكبر کہنا مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے)۔”
③ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(غِرَاسُهَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ) (سنن الترمذي:3462 وصححہ الألباني)
ترجمہ: “جنت کی زمین ہموار اور زرخیز ہے، اور اس کی شجرکاری سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إله إلا الله، الله أكبر سے ہوتی ہے۔”
④ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ… إِلَّا کَفَّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبَهُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ) (سنن الترمذي:3460 وحسنہ الألباني)
ترجمہ: “جو شخص یہ کلمات کہے تو اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔”
⑤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ… لَتُسَاقِطُ مِنْ ذُنُوبِ الْعَبْدِ کَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ هذِهِ الشَّجَرَةِ) (سنن الترمذي:3533 وحسنہ الألباني)
ترجمہ: “یہ کلمات بندے کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑ گئے۔”
تکبیرات کا اہتمام
صحیح بخاری میں ہے:
(وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُوهُرَیْرَةَ یَخْرُجَانِ إِلَی السُّوْقِ فِی أَیَّامِ الْعَشْرِ یُکَبِّرَانِ وَیُکَبِّرُ النَّاسُ بِتَکْبِیْرِهِمَا) (صحیح البخاري)
ترجمہ: “حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرۂ ذوالحجہ کے دنوں میں بازار جاتے اور تکبیر کہتے، اور لوگ بھی ان کی تکبیر سن کر تکبیر کہتے۔”
تکبیرات کے الفاظ:
(اَللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ)
یہ تکبیرات انفرادی طور پر کہنی چاہئیں، اجتماعی طور پر پڑھنا سنت سے ثابت نہیں۔
(5) صدقہ کرنا
عشرۂ ذوالحجہ میں صدقہ کرنا بھی نہایت عظیم عمل ہے، کیونکہ یہ ایام اعمالِ صالحہ کی کثرت کے ہیں اور صدقہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت محبوب عبادت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَٰعَةٌ ۗ وَٱلْكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ﴿٢٥٤﴾ (البقرۃ 2:254)
ترجمہ: “اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش، اور کافر ہی ظالم ہیں۔”
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ) (صحیح مسلم)
ترجمہ: “صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔”
لہٰذا خصوصاً ان مبارک دنوں میں زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا چاہیے، تاکہ اجر و ثواب میں اضافہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔
قربانی کی مشروعیت اور فضیلت
عشرۂ ذوالحجہ کے اختتام پر ایک عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، اور وہ ہے قربانی۔ قربانی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مؤکد سنت ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سال عمل فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے “باب سنۃ الأضحیۃ” قائم کیا اور حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ذکر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِی یَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّی، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَیْسَ مِنَ النُّسُكِ فِی شَیْءٍ) (صحیح البخاري:5545)
ترجمہ: “آج کے دن سب سے پہلے ہم نماز پڑھیں گے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے پیش کیا ہے، وہ قربانی نہیں ہے۔”
قربانی واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
(ضَحَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیه وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ) (سنن الترمذي:1506 وقال: حدیث حسن صحیح)
ترجمہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے قربانی کی تھی۔”
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(وَالْعَمَلُ عَلٰی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْأُضْحِیَةَ لَیْسَتْ وَاجِبَةً، وَلٰکِنَّهَا سُنَّةٌ…)
ترجمہ: “اہلِ علم کے نزدیک قربانی واجب نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، جس پر عمل کرنا مستحب ہے۔”
قربانی چھوڑنے پر وعید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ وَجَدَ سَعَةً لِأَنْ یُضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَحْضُرْ مُصَلَّانَا) (رواہ الحاکم، حسنہ الألباني فی صحیح الترغیب:1087)
ترجمہ: “جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”
لہٰذا استطاعت رکھنے والے کو قربانی ضرور کرنی چاہیے۔
قربانی سے متعلق اہم مسائل
◈ مسئلہ نمبر ①
جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن تراشے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
(مَنْ رَأی هِلَالَ ذِی الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ یُّضَحِّیَ فَلَا یَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ) (صحیح مسلم:1977)
ترجمہ: “جو شخص ذو الحجہ کا چاند دیکھ لے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔”
◈ مسئلہ نمبر ②
قربانی صرف اونٹ، گائے، بھیڑ یا بکری سے ہی جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ﴾ (الحج 22:34)
ترجمہ: “اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔”
◈ مسئلہ نمبر ③
عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أَرْبَعٌ لَا تَجُوْزُ فِی الْأَضَاحِی: الْعَوْرَاءُ الْبَیِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِیضَةُ الْبَیِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَیِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْکَسِیْرُ الَّتِی لَا تُنْقِی) (سنن أبي داؤد:2802، سنن الترمذي:1497 وصححہ الألباني)
ترجمہ: “چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: واضح طور پر کانا، واضح بیمار، واضح لنگڑا، اور انتہائی کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔”
◈ مسئلہ نمبر ④
قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے۔
(مَنْ ضَحَّی قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِیْنَ) (صحیح البخاري:5556، صحیح مسلم:1961)
ترجمہ: “جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے لیے ذبح کیا، اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔”
◈ مسئلہ نمبر ⑤
ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے۔
(کَانَ الرَّجُلُ یُضَحِّی بِالشَّاۃِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَیْتِهِ) (سنن الترمذي:1505 وصححہ الألباني)
ترجمہ: “ایک شخص اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا۔”
◈ مسئلہ نمبر ⑥
گائے میں سات افراد اور اونٹ میں سات یا دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
(کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم… فَاشْتَرَکْنَا فِی الْبَقَرَةِ سَبْعَةً وَفِی الْبَعِیْرِ عَشَرَةً) (سنن الترمذي:1501 وصححہ الألباني)
ترجمہ: “ہم نے گائے میں سات افراد اور اونٹ میں دس افراد شریک ہو کر قربانی کی۔”
نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے عشرۂ ذوالحجہ کو اپنے بندوں کے لیے مغفرت، اجرِ عظیم اور قربِ الٰہی کا خاص موقع بنایا ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ان دنوں میں عبادت کرے گا وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مستحق ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سلف صالحین کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان دنوں کی قدر کریں اور قربانی سمیت تمام مسنون اعمال خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عشرۂ ذوالحجہ کی صحیح قدر کرنے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔