ذوالحجہ میں تکبیرات کب سے کہنا شروع کریں؟ مکمل رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، حج و عمرہ کے مسائل، جلد 1، صفحہ 290

سوال

**ذوالحج کے مہینہ میں آدمی کب سے تکبیرات کہنا شروع کرے؟**

جواب

**الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!**

ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی، یعنی یکم ذوالحجہ سے، بندے کو مزید ذکر و اذکار اور نیکی کے دیگر اعمال کی طرف رغبت کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے ایک واضح حدیث صحیح بخاری میں مذکور ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَا الْعَمَلُ فِیْ اَيَّامٍ أَفْضَلُ مِنْهَا فِیْ هٰذِهِ قَالُوْا : وَلاَ الْجِهَادُ ؟ قَالَ: وَلاَ الْجِهَادُ اِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِه فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْئٍ»
(بخاری، كتاب العيدين، باب فضل العمل فى ايام التشريق)

یعنی:

’’ذوالحجہ کے (۱۰) دس دنوں میں نیکی کرنا، دوسرے دنوں کی نسبت اللہ کو زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ان دنوں میں اعمال صالحہ اور ذکر و اذکار، جن میں تکبیرات شامل ہیں، یکم ذوالحجہ سے شروع کیے جانے چاہئیں تاکہ ان بابرکت ایام کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب