ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے
➊ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ :
دية عقل الكافر نصف دية عقل المؤمن
”کافر کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے ۔“
[حسن صحيح: صحيح ترمذي ، ترمذي: 1413 ، كتاب الديات: باب ما جاء فى دية الكفار ، احمد: 180/2 ، نسائي: 45/8 ، ابن ماجة: 2644 ، أبو داود: 4542 ، طيالسي: 1499 ، بيهقي: 101/8 ، دار قطني: 129/3 ، ابن ابي شيبه: 287/9 ، عبد الرزاق: 92/10 ، شرح السنة: 203/10 ، 2542]
➋ ایک روایت میں ہے کہ :
أن رسول الله قضى أن عقل أهل الكتابين نصف عقل المسلمين وهم اليهود والنصارى
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف ہے اور وہ یہود و نصاری ہیں ۔ “
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2139 ، كتاب الديات: باب دية الكافر ، ابن ماجة: 2644 ، احمد: 215/2 ، نسائي: 55/8]
➌ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہیں:
ودية أهل الكتاب يومئذ النصف من دية المسلمين
”اس دن (عہد رسالت میں ) اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف تھی ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3806 ، كتاب الديات: باب الدية كم هي ، ابو داود: 4542]
(مالکؒ ) کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے ۔
(احناف ، ثوريؒ ، زهريؒ ) ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کی طرح ہی ہے ۔
(احمدؒ ) اگر ذمی نے قتل عمد کیا ہو تو اس کی دیت بھی مسلمان کی دیت کی مانند ہے بصورت دیگر نہیں ۔
(شافعیؒ ) کافر کی دیت چار ہزار درہم ہے ۔
[نيل الأوطار: 507/4 ، المبسوط: 84/26 ، المغنى: 15/12 ، بداية المجتهد: 414/2 ، الأم: 92/6]
(راجح ) بلا تردد امام مالکؒ کا قول ہی برحق ہے کیونکہ یہی حدیث کے زیادہ قریب ہے اور اس کے بر خلاف ہر قول مردود و باطل ہے ۔
واضح رہے کہ جس روایت میں ہے کہ مجوسی کی دیت آٹھ سو (800) درہم ہے ، وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ابن لھیعہ راوی ضعیف ہے ۔
[تلخيص الحبير: 66/4 ، نيل الأوطار: 507/4 ، الكامل لابن عدى: 1524/4]