ذبح اور شکار کے اسلامی احکام و مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، کھانے کے احکام:جلد 02: صفحہ469
مضمون کے اہم نکات

ذبح کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خشکی میں رہنے والے جانور کے حلال ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، ورنہ وہ مردار شمار ہوگا جو حرام ہے۔ اس بنا پر ہر مسلمان کے لیے ذبح کے شرعی احکام کا جاننا ضروری ہے۔

فقہائے کرام نے بیان کیا ہے کہ جانور کا ذبح کرنا یا اسے نحر کرنا یہ ہے کہ اس کی شہ رگ اور کھانے کی نالی کاٹ کر خون بہایا جائے۔ اور اگر جانور بے قابو ہو تو اسے زخمی کر دیا جائے۔

ذکاۃ کے لغوی معنی ہیں: "کسی شے کو مکمل کرنا۔” چونکہ حیوان کو ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا خون اچھی طرح بہا دیا جائے، یہاں تک کہ اس کی روح نکل جائے، اس لیے اس عمل پر ذکاۃ یعنی ذبح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ وَالمُنخَنِقَةُ وَالمَوقوذَةُ وَالمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطيحَةُ وَما أَكَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَكَّيتُم وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَستَقسِموا بِالأَزلـٰمِ ذ‌ٰلِكُم فِسقٌ اليَومَ يَئِسَ الَّذينَ كَفَروا مِن دينِكُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونِ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا فَمَنِ اضطُرَّ فى مَخمَصَةٍ غَيرَ مُتَجانِفٍ لِإِثمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٣﴾… سورة المائدة

"تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والااور بہت بڑا مہربان ہے” [المائدۃ 5/3]

یعنی جسے تم زندہ پالو، پھر اسے ذبح کرکے اس کا پورا خون بہا دو۔ بعد میں یہ لفظ عام ذبح کے لیے استعمال ہونے لگا، خواہ اس کو پہلے سے کوئی چوٹ لگی ہو یا نہ لگی ہو۔

① جانور کو ذبح کرنا واجب ہے

جانور کو ذبح کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کے بغیر اس جانور کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوگا، کیونکہ غیر مذبوح جانور مردار کے حکم میں ہوتا ہے۔ اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ مردار کھانا حرام ہے، الا یہ کہ کوئی اضطراری صورت ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ…﴿٣﴾… سورة المائدة [المائدۃ 5/3]

البتہ مچھلی، ٹڈی دل، اور ہر وہ جانور جو پانی ہی میں زندگی گزارتا ہے، ان کو ذبح کیے بغیر کھانا جائز ہے، کیونکہ پانی یعنی سمندر کا مردار بھی حلال قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أُحِلَّتْ لَكُمْ مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ "

"ہمارے لیے دو قسم کے مردار اور دو قسم کے خون حلال ہیں، دو مردار: مچھلی اور ٹڈی دل ہیں، اور دو خون: جگر اور تلی ہیں۔” [سنن ابن ماجہ الاطعمۃ باب الکبد والطحال حدیث 3314، ومسند احمد 2/97]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا:

"هُوَ اَلطُّهُورُ مَاؤُهُ، اَلْحِلُّ مَيْتَتُهُ”

"اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔” [سنن ابی داود الطھارۃ باب الوضوء بماء البحر حدیث 83، ومسند احمد 2/361]

② ذبح کی چار شرطیں

ذبح کی چار شرطیں ہیں، جو درج ذیل ہیں:

1۔ ذبح کرنے والا

ذبح کرنے والا عاقل ہو اور مسلمان ہو یا اہل کتاب میں سے ہو۔ اس لیے مجنون، نشے میں مدہوش، اور غیر ممیز بچے کا ذبح کیا ہوا جانور حلال نہیں ہوگا، کیونکہ ان افراد میں عقل نہ ہونے کی وجہ سے ذبح کی نیت اور قصد نہیں ہوتا۔

اسی طرح کافر، بت پرست، مجوسی، یا مرتد کا ذبح کیا ہوا جانور بھی حلال نہیں۔ مزید برآں، قبر پرست لوگ جو مردوں سے مدد مانگتے ہیں اور قبروں پر نذر و نیاز اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں، ان کا ذبح کیا ہوا جانور بھی حلال نہیں، کیونکہ یہ لوگ شرک کے مرتکب ہیں۔

جو قبر پرست مشرک امت محمدیہ میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی اہل کتاب کے حکم میں نہیں ہیں، لہٰذا ان کا ذبیحہ حلال نہیں۔ لیکن کتابی کافر، یعنی یہودی یا نصرانی کا ذبیحہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَطَعامُ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حِلٌّ لَكُم…﴿٥﴾… سورة المائدة

"اور اہل کتاب کا کھانا(ذبیحہ) تمہارے لیے حلال ہے۔” [المائدۃ 5/5]

اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ: (طَعَامُ) سے مراد ان کے "ذبیحے” ہیں۔ [صحیح البخاری الذبائح والصید باب ذبائح اھل الکتاب۔۔۔قبل حدیث 5508]

اس آیت کریمہ سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ غیر کتابی کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، اور اس مسئلے پر اجماع ہے۔

کتابی کافر کا ذبیحہ حلال اور دیگر کفار کا ذبیحہ حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کا عقیدہ ہے کہ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ہے، نیز وہ مردار کو بھی حرام سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے انبیائے کرام کی یہی تعلیم تھی۔ جبکہ دوسرے کفار بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں اور مردار کو بھی حلال قرار دیتے ہیں۔

2۔ کارآمد آلہ

ذبح ہر اس آلے سے درست ہے جس کی دھار سے خون بہہ جائے، خواہ وہ لوہے کا ہو، پتھر کا ہو، یا کسی اور دھات سے بنا ہو، سوائے دانت اور ناخن کے، کیونکہ ان دونوں سے ذبح کرنا جائز نہیں۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

"مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ”

"جو چیز جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو تو وہ (ذبح شدہ جانور) کھالو، البتہ وہ چیز دانت اور ناخن نہ ہو۔” [صحیح البخاری الجھاد باب ما یکرہ من ذبح الابل والغنم فی المغانم حدیث 3075]

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہڈی سے ذبح کرنا اس لیے ممنوع ہے کہ یا تو وہ نجس ہے یا ذبح کرنے سے مومن جنوں کے لیے نجس ہو جاتی ہے۔” [اعلام الموقعین 4/142۔143]

مکمل حدیث یوں ہے:

"أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ. وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ”

"(میں تمہیں ان دونوں سے متعلق بیان کرتا ہوں) دانت تو ہڈی ہے اور ناخن (کافر) حبشیوں کی چھری ہے۔” [صحیح البخاری الجھاد باب ما یکرہ من ذبح الابل والغنم فی المغانم حدیث 3075]

لہٰذا دونوں سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ [اعلام الموقعین 4/142،143]

3۔ حلق اور شہ رگ کا کاٹنا

یعنی جانور کے حلق کی رگوں کو کاٹ دینے سے ذبح کا حکم مکمل ہو جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کھانے کی نالی، حلق اور دونوں رگ جان کاٹی جائیں، چار اشیاء میں سے تین کاٹنے سے بھی جانور حلال ہوگا، ان تین اشیاء میں حلق شامل ہو یا نہ ہو، حلق کے سوا رگ جان کا کاٹنا زیادہ بہتر ہے اور اس سے خون زیادہ اچھی طرح بہہ جاتا ہے۔”

اونٹ میں مسنون طریقہ "نحر” ہے، یعنی اس کی گردن اور سینے کے درمیان تیز دھار نیزہ یا برچھی ماری جائے، جبکہ دوسرے جانوروں کو ذبح کرنا ہی درست ہے۔ جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے مذکورہ مقام کا تعین اس وجہ سے ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں جسم کی تمام رگیں جمع ہوتی ہیں۔ ان کے کٹ جانے سے تمام جسم کا خون جلدی اور آسانی سے نکل آتا ہے۔ جانور کو جان نکلتے وقت زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوتی، لہٰذا اس کا سارا گوشت بہتر اور عمدہ ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح”

"جب جانور کو ذبح کرو تو اچھا طریقہ اختیار کرو۔” [صحیح مسلم الصید باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحدید الشفرۃ حدیث 1955]

اگر مذکورہ مقام سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو، مثلاً شکار ہو، یا اونٹ ہاتھوں سے نکل گیا ہو، یا کوئی جانور کنویں میں گر گیا ہو، تو اس کے بدن کے کسی بھی حصے پر زخم لگا کر خون بہا دیا جائے تو وہ ذبیحہ شمار ہوگا اور اس کا کھانا حلال ہے۔

سیدنا رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اونٹ بھاگ گیا۔ ایک آدمی نے اسے تیر مار کر زخمی کر دیا، جس سے وہ رک گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا”

"جو جانور بھی تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔” [صحیح البخاری الجھاد باب ما یکرہ من ذبح الابل والغنم فی المغانم حدیث 3075، وصحیح مسلم الاضاحی باب جواز الذبح بکل ماانھر الدم۔۔۔حدیث 1968]

اسی طرح کی روایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی منقول ہے۔

اگر کسی جانور کا گلا گھونٹ دیا جائے، یا اسے لاٹھی ماری جائے، یا وہ بلندی سے گر جائے، یا کسی دوسرے جانور نے اسے ٹکر مار دی ہو، یا اس کے بدن کا ایک حصہ درندہ کاٹ کر کھا گیا ہو، پھر وہ زندہ حالت میں مل جائے اور اسے ذبح کر لیا جائے، تو وہ حلال ہے، ورنہ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿حُرِّمَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ وَالمُنخَنِقَةُ وَالمَوقوذَةُ وَالمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطيحَةُ وَما أَكَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَكَّيتُم وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَستَقسِموا بِالأَزلـٰمِ ذ‌ٰلِكُم فِسقٌ اليَومَ يَئِسَ الَّذينَ كَفَروا مِن دينِكُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونِ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا فَمَنِ اضطُرَّ فى مَخمَصَةٍ غَيرَ مُتَجانِفٍ لِإِثمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٣﴾… سورة المائدة

"تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والااور بہت بڑا مہربان ہے” [المائدۃ 5/3]

4۔ ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا

ذبح کرنے والا ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلا تَأكُلوا مِمّا لَم يُذكَرِ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَإِنَّهُ لَفِسقٌ …﴿١٢١﴾… سورة الانعام

"اور تم ایسے جانوروں کا گوشت مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو کیونکہ یہ (کھانا) یقیناً نافرمانی ہے۔” [الانعام 6/121]

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام ذبیحے کو طیب بنا دیتا ہے، ذبح کرنے والے اور ذبیحہ دونوں کے درمیان سے شیطان کو دور کر دیتا ہے، ورنہ ذبح کرنے والے اور ذبیحہ کے درمیان شیطان کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ حیوان میں خبث کے اثرات ڈالتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جانور کو ذبح کرتے تو ساتھ بسم اللہ بھی پڑھتے۔ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھی گئی تو وہ حلال نہیں، اگرچہ ذبح کرنے والا مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔” [اعلام الموقعین 2/152]

اگر بھول چوک سے بسم اللہ نہ پڑھی جا سکی تو جانور حلال ہوگا، کیونکہ حدیث میں ہے:

"إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ”

"بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کی خطا، بھول چوک، اور جو کام کسی سے زبردستی اور مجبور کرکے کرایا جائے، اسے معاف کر دیا ہے۔” [سنن ابن ماجہ حدیث 2043]

③ تسمیہ کے ساتھ تکبیر

تسمیہ کے ساتھ تکبیر "اللہ اکبر” کہنا بھی مسنون ہے۔

④ ذبح کے آداب

ذبح کے درج ذیل آداب ہیں:

1۔ چھری تیز ہو: کند آلے سے ذبح کرنا مکروہ ہے، بلکہ آلہ بہت تیز ہونا چاہیے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ”

"تم میں ہر ایک کو چاہیے کہ (جانور کو ذبح کرتے وقت) چھری تیز رکھے اور ذبیحے کو تکلیف نہ دے۔” [صحیح مسلم الصید باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحدیدالشفرۃ حدیث 1955]

2۔ جانور کے سامنے آلہ تیز نہ کیا جائے: ذبح کرنے کا آلہ، یعنی چھری وغیرہ، جانور کی آنکھوں کے سامنے تیز کرنا مکروہ ہے، کیونکہ حدیث میں ہے:

"أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ”

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ چھری کو تیز کیا جائے اور اسے جانوروں سے چھپا کر رکھا جائے۔” [سنن ابن ماجہ الذبائح باب اذا ذبحتم فاحسنوا الذبح حدیث 3172، ومسند احمد 2/108]

3۔ جانور کا رخ قبلہ سے پھیرنا مکروہ ہے: یہ بھی مکروہ ہے کہ جانور کا رخ قبلہ کی طرف نہ ہو۔

4۔ جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے گردن توڑنا یا کھال اتارنا: جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی اس کی گردن (منکا) توڑنا یا کھال اتارنا مکروہ ہے۔

⑤ مسنون طریقۂ نحر و ذبح

مسنون یہ ہے کہ اونٹ کو نحر کے وقت کھڑا کیا جائے اور اس کا اگلا بایاں پاؤں باندھ دیا جائے۔ جبکہ گائے یا بکری کو بائیں جانب لٹا کر ذبح کیا جائے۔

شکار کے احکام

"صيد” (شکار کرنا) سے مراد حلال جانور کا شکار کرنا ہے، جو طبعی طور پر انسان سے مانوس نہیں ہوتا اور آسانی سے پکڑا نہیں جاتا۔ ایسے جانور کو بھی شکار کہا جاتا ہے۔

اگر شکار انسانی ضرورت کے پیش نظر ہو تو بلا کراہت جائز ہے، اور اگر ضرورت کے بجائے محض کھیل اور شغل کی خاطر ہو تو مکروہ ہے، اور اگر شکار کے سبب لوگوں کے کھیتوں، فصلوں اور اموال کا نقصان ہوتا ہو تو وہ حرام ہے۔

① ضرورت کے تحت شکار کے جواز کی دلیل

مذکورہ پہلی صورت میں شکار کے جائز ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿ وَإِذا حَلَلتُم فَاصطادوا…﴿٢﴾… سورة المائدة

"ہاں! جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیل سکتے ہو۔” [المائدۃ:5/2]

اور ارشاد ہے:

﴿يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ وَما عَلَّمتُم مِنَ الجَوارِحِ مُكَلِّبينَ تُعَلِّمونَهُنَّ مِمّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلوا مِمّا أَمسَكنَ عَلَيكُم وَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ ﴿٤﴾… سورة المائدة

"آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں، اور جن شکار کھیلنے والے جانوروں کو تم نے سدھا رکھا ہے یعنی جنہیں تم تھوڑا بہت وه سکھاتے ہو جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے پس جس شکار کو وه تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھا لو اور اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کر لیا کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے” [المائدۃ:5/4]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إذَا أَرْسَلْت كَلْبَك الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْت اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ فَكُلْ”

"اگر تم "بسم اللہ” پڑھ کر اپنا تربیت یافتہ کتا شکار پر چھوڑو تو اس کا کیا ہوا شکار کھالو۔” [صحیح البخاری الذبائح والصید باب اذا اکل الکلب۔۔۔حدیث 5483، وصحیح مسلم الصیدوالذبائح باب بالکلاب المعلمۃ والرمی حدیث 1929، واللفظ لہ]

② شکاری کے پاس شکار پہنچنے کی دو حالتیں

جب شکاری کے پاس کتے وغیرہ کے ذریعے سے شکار پہنچتا ہے تو اس کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:

1۔ شکار زندہ ہو: جب شکار ہاتھ میں آئے اور وہ صحیح سلامت اور زندہ ہو، تو اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے گا۔ محض شکار کر لینا کافی نہ ہوگا۔

2۔ شکار مر چکا ہو یا زندگی کی معمولی علامات باقی ہوں: اگر شکار کرنے سے جانور مر گیا ہو، یا اس میں زندگی کی معمولی سی علامات باقی ہوں، تو ایسی صورت میں وہ حلال ہوگا، بشرطیکہ اس میں درج ذیل شرطیں پائی جائیں۔

③ شکار کی شرطیں

1۔ شکار کرنے والے کی اہلیت

شکار کرنے والا شخص ذبح کرنے کے اہل ہو، کیونکہ شکار کرنے والا ذبح کرنے والے شخص کے حکم میں ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں اہلیت کا ہونا ضروری ہے، یعنی وہ عاقل، مسلمان، یا اہل کتاب میں سے ہو۔ لہٰذا مجنون اور نشہ میں غرق آدمی کا شکار جائز نہ ہوگا، کیونکہ ان میں عقل نہیں، جیسا کہ ان کا ذبح بھی حلال نہیں۔

2۔ آلہ کا ہونا

آلہ دو قسم کا ہو سکتا ہے:

◈ ایک تیز دھار ہو جو خون بہا دے، جیسا کہ ذبح کے لیے یہ شرط ہے، البتہ ہڈی اور ناخن نہ ہو۔

◈ شکار کرنے کا آلہ شکار کو چوڑائی کی طرف سے لگنے کے بجائے دھار یا نوک والی طرف سے لگے اور شکار کو زخمی کر دے۔

اگر شکار کے لیے آلہ نوک یا دھار والا نہ ہو، مثلاً پتھر، لاٹھی، جال، لوہے کا ٹکڑا وغیرہ ہو، تو شکار کے مر جانے کی صورت میں وہ حلال نہ ہوگا۔

البتہ بندوق سے چھوڑی ہوئی گولی کے ذریعے سے شکار جائز ہے، کیونکہ اس کے لگنے میں اتنی قوت اور تیزی ہوتی ہے کہ وہ جانور کو تیز دھار آلے سے بھی بڑھ کر پھاڑ دیتی ہے اور خون بہا دیتی ہے۔

وہ شکاری جانور یا پرندے جن کے ذریعے سے شکار کیا جاتا ہے، اور انہیں شکار کرنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہو، ان کا پکڑا ہوا شکار حلال ہے، اگرچہ وہ مر بھی جائے۔ خواہ وہ جانور کچلی سے شکار کرنے والا ہو، جیسے کتا، یا پنجے سے شکار کرنے والا ہو، جیسے باز۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ وَما عَلَّمتُم مِنَ الجَوارِحِ مُكَلِّبينَ تُعَلِّمونَهُنَّ مِمّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلوا مِمّا أَمسَكنَ عَلَيكُم وَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ ﴿٤﴾… سورة المائدة

"آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں، اور جن شکار کھیلنے والے جانوروں کو تم نے سدھا رکھا ہے یعنی جنہیں تم تھوڑا بہت وه سکھاتے ہو جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے پس جس شکار کو وه تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھا لو اور اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کر لیا کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے” [المائدۃ 5/4]

شکاری جانور کی تعلیم سے مراد یہ ہے کہ اسے شکار پکڑنے کے آداب سکھائے جائیں۔ جب اسے شکار کے پیچھے چھوڑا جائے تو وہ اس کے پیچھے بھاگ پڑے، اور جب اسے شکار پر ابھارا جائے تو وہ اس کا پیچھا کرے، اور جب وہ شکار پکڑ لے تو اپنے مالک کے پاس لے آئے، خود نہ کھائے۔

3۔ شکار کی نیت

جانور پر آلہ (تیر، گولی وغیرہ) شکار کی نیت سے چھوڑا جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"إذَا أَرْسَلْت كَلْبَك الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْت اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ فَكُلْ”

"اگر تم "بسم اللہ” پڑھ کر اپنا تربیت یافتہ کتا شکار پر چھوڑو تو اس کا کیا ہوا شکار کھالو۔” [صحیح البخاری الذبائح والصید باب اذا اکل الکلب۔۔۔حدیث 5483، وصحیح مسلم الصید والذبائح باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی حدیث 1929 واللفظ لہ]

اس سے معلوم ہوا کہ جانور کو چھوڑنا ذبح کے قائم مقام ہے، لہٰذا اس میں نیت ضروری ہے۔ اگر کسی کے ہاتھ سے آلہ گر گیا، یا بلا قصد بندوق سے گولی نکل گئی، جس سے جانور مر گیا، تو وہ حلال نہ ہوگا، کیونکہ اس میں نیت شامل نہ تھی۔

اسی طرح اگر کتے نے خود ہی بھاگ کر شکار پکڑا جو مر گیا، تو وہ حلال نہ ہوگا، کیونکہ مالک نے شکار کی نیت سے نہ خود کتے کو چھوڑا اور نہ "بسم اللہ” پڑھی۔

اگر کسی نے بہت سے جانور دیکھے اور ایک جانور کو نشانہ بنا کر گولی چلا دی، جس سے مقررہ جانور کے علاوہ اور دوسرے بہت سے جانور بھی مارے گئے، تو سبھی حلال ہوں گے، کیونکہ اس میں شکار کی نیت تھی۔

4۔ تیر، گولی یا شکاری جانور چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا

تیر، گولی یا شکاری جانور چھوڑتے وقت "بسم اللہ” پڑھی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلا تَأكُلوا مِمّا لَم يُذكَرِ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ … ﴿١٢١﴾… سورةالانعام

"اور تم ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔” [الانعام 6/121]

اور ارشاد ہے:

﴿فَكُلوا مِمّا أَمسَكنَ عَلَيكُم وَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيهِ … ﴿٤﴾… سورةالمائدة

"جس شکار کو وہ تمہارے لیے پکڑ کر روک رکھیں، اس پر اللہ کا نام پڑھو اور اس میں سے کھالو۔” [المائدۃ:5/4]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إذَا أَرْسَلْت كَلْبَك الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْت اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ فَكُلْ”

"اگر تم "بسم اللہ” پڑھ کر اپنا تربیت یافتہ کتا شکار پر چھوڑ دو تو اس کا کیا ہوا شکار کھالو۔” [صحیح البخاری الذبائح والصید باب اذااکل الکلب۔۔۔حدیث 5483، وصحیح مسلم الصید والذبائح باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی حدیث 1929 واللفظ لہ]

آیات و احادیث سے یہ مفہوم بھی واضح ہوتا ہے کہ "بسم اللہ” نہ پڑھنے سے شکار حلال نہ ہوگا۔

مسنون یہ ہے کہ "بسم اللہ” کے ساتھ "اللہ اکبر” بھی کہا جائے، جیسا کہ جانور ذبح کرتے وقت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے:

"جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانور ذبح کرتے تو "بسم الله والله اكبر” کہتے تھے۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی 9/285، مزید دیکھئے صحیح البخاری الذبائح والصید باب التسمیۃ علی الذبیحۃ ومن ترک متعمداً حدیث 5498، وصحیح مسلم الاضاحی باب استحباب استحسان الضحیۃ حدیث 1966]

④ وہ صورتیں جن میں شکار حرام ہو جاتا ہے

کچھ صورتیں ایسی ہیں جن میں شکار کرنا حرام ہو جاتا ہے، اور وہ درج ذیل ہیں:

1۔ حالت احرام میں شکار: احرام باندھنے والے شخص پر حرام ہے کہ وہ خشکی کے کسی جانور کو قتل کرے، یا اسے پکڑے، یا شکار کی طرف اشارہ کرے، یا رہنمائی کے ذریعے سے تعاون کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقتُلُوا الصَّيدَ وَأَنتُم حُرُمٌ … ﴿٩٥﴾… سورة المائدة

"اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب تک کہ تم حالت احرام میں ہو۔” [المائدۃ 5/95]

2۔ محرم کے لیے شکار کھانا: اگر محرم نے خود شکار کیا ہو، یا شکار کرنے میں کسی سے تعاون کیا ہو، تو اس کے لیے اس کا کھانا حرام ہے۔ اسی طرح وہ محرم بھی نہ کھائے جس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَحُرِّمَ عَلَيكُم صَيدُ البَرِّ ما دُمتُم حُرُمًا …﴿٩٦﴾… سورة المائدة

"اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو۔” [المائدۃ 5/96]

3۔ حرم میں شکار: اسی طرح حرم میں شکار کرنا بالاجماع حرام ہے، خواہ آدمی محرم ہو یا عام آدمی۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا:

"إنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِي , وَلَمْ يَحِلَّ لِي إلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ؛ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . لا يُعْضَدُ شَوْكُهُ , وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ , وَلا يَلْتَقِطُ لُقْطَتَهُ إلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلا يُخْتَلَى خَلاهُ "

"بے شک اس شہر کو اللہ نے اس دن سے حرمت والا بنایا ہے جس دن سے آسمان وزمین بنائے ہیں اور اس کی یہ حرمت اللہ کے حرمت عطا کرنے کی وجہ سے ہے جو قیامت تک رہے گی۔۔۔ نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں، نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے۔۔۔ اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے۔” [صحیح البخاری الجزیۃ باب اثم الغادر للبر والفاجر حدیث 3189، وصحیح مسلم الحج باب تحریم مکۃ و تحریم صیدھا۔۔۔حدیث 1353]

⑤ بلا وجہ کتا رکھنے کا حکم

بلا وجہ کتا رکھنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ ان صورتوں میں ہو جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے، اور وہ تین امور ہیں:

❀ 1۔ شکار کے لیے ہو۔
❀ 2۔ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو۔
❀ 3۔ یا کھیتوں کی حفاظت کے لیے ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

"مَنِ اتَّخَذَ كَلْباً إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أوْ صَيْدٍ أوْ زَرْعٍ انْتُقِصَ مِنْ أجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ”

"جس شخص نے ریوڑ، شکار اور کھیت کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کتا رکھا اس کا اجر روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔” [صحیح البخاری الحرث والمزارعۃ باب اقتناء الکلب للحرث حدیث 2322۔2323، وصحیح مسلم المساقاۃ باب الامر بقتل الکلاب وبیان نسخہ حدیث (58)۔1575، واللفظ لہ]

بعض لوگ اس وعید کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور مذکورہ تین اغراض کے بغیر ہی محض فخر اور کفار کی تقلید کی خاطر کتے رکھتے اور پالتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بالکل خیال نہیں ہوتا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان کا اجر دن بدن کم ہو رہا ہے، حالانکہ اگر اسے دنیا کے مال میں سے کوئی معمولی سا نقصان ہو تو وہ اسے برداشت نہیں کرتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے:

” لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة "

"فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔” [صحیح البخاری بدءالخلق باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ حدیث 3322]

ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب سے ڈرے، گناہ کا ارتکاب کرکے خود پر ظلم نہ کرے، اور اپنے آپ کو ایسے کام سے بچائے جو اجر میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ واللہ المستعان۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب