مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ذاتی استعمال کی گاڑیوں پر زکوٰۃ کا حکم اور شرعی دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

کیا ذاتی استعمال کی گاڑیوں پر زکوٰۃ ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذاتی استعمال کی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ درحقیقت، جس چیز کو انسان اپنے ذاتی استعمال کے لیے رکھتا ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں واجب ہوتی، چاہے وہ گاڑی ہو، اونٹ ہو یا ٹریکٹر ہو۔

تاہم، سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، چاہے وہ زیورات ذاتی استعمال کے لیے ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

«لَيْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِی عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ»
(صحيح البخاري، الزکاة، باب ليس علی المسلم فی عبده صدقة، ح: ۱۴۶۴ وصحيح مسلم، الزکاة، باب لا زکاة علی المسلم فی عبده وفرسه، ح: ۹۸۲)

’’مسلمان کے لیے اس کے غلام اور گھوڑے پر زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔