نہ ہی شہری کے خلاف دیہاتی کی گواہی قبول کی جائے گی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجوز شهادة بدوى على صاحب قرية
”کسی دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی جائز نہیں ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 289/8 ، 2674 ، ابو داود: 3602 ، كتاب القضاء: باب شهادة البدوى على أهل الأمصار ، ابن ماجة: 2366 ، بيهقي: 250/10]
(خطابیؒ ) دیہاتی کی شہادت سے کراہت اس لیے ہے کیونکہ (ممکن ہے ) وہ علم میں کمی کے باعث شہادت کا حق ادا نہیں کریں گے اور (بات کو ) اصل واقعہ سے تبدیل کر دیں گے ۔
[معالم السنن: 170/4]
امام احمدؒ اور ان کے اصحاب کی ایک جماعت اس حدیث پر عمل کی قائل ہے مگر انہوں نے اسے اُس دیہاتی پر محمول کیا ہے جس کی عدالت و ثقاہت معلوم نہ ہو اور اغلباََ ان کی یہ صفت نامعلوم ہی ہوتی ہے ۔
[المغني: 32/12]
(شوکانیؒ ) یہی بات راجح ہے ۔
[نيل الأوطار: 388/5]
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے کے متعلق ایک دیہاتی کی گواہی قبول فرمائی تھی ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2052 ، كتاب الصيام: باب فى شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان ، ابو داود: 2342]