دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی: شرعی حکم و اختلاف

تحریر: عمران ایوب لاہوری

نہ ہی شہری کے خلاف دیہاتی کی گواہی قبول کی جائے گی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجوز شهادة بدوى على صاحب قرية
”کسی دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی جائز نہیں ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 289/8 ، 2674 ، ابو داود: 3602 ، كتاب القضاء: باب شهادة البدوى على أهل الأمصار ، ابن ماجة: 2366 ، بيهقي: 250/10]
(خطابیؒ ) دیہاتی کی شہادت سے کراہت اس لیے ہے کیونکہ (ممکن ہے ) وہ علم میں کمی کے باعث شہادت کا حق ادا نہیں کریں گے اور (بات کو ) اصل واقعہ سے تبدیل کر دیں گے ۔
[معالم السنن: 170/4]
امام احمدؒ اور ان کے اصحاب کی ایک جماعت اس حدیث پر عمل کی قائل ہے مگر انہوں نے اسے اُس دیہاتی پر محمول کیا ہے جس کی عدالت و ثقاہت معلوم نہ ہو اور اغلباََ ان کی یہ صفت نامعلوم ہی ہوتی ہے ۔
[المغني: 32/12]
(شوکانیؒ ) یہی بات راجح ہے ۔
[نيل الأوطار: 388/5]
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے کے متعلق ایک دیہاتی کی گواہی قبول فرمائی تھی ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2052 ، كتاب الصيام: باب فى شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان ، ابو داود: 2342]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے