مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دیوبندی اور بریلوی امام کے پیچھے نماز اور رشتہ داری کا حکم

فونٹ سائز:
فتاویٰ علمائے حدیث کتاب الصلاۃ، جلد 1، ص 243

سوال

دیوبندی یا بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ کیا یہ لوگ مسلمان ہیں، اور ان سے رشتہ داری قائم کرنا مناسب ہے یا نہیں؟

جواب

دیوبندی اور بریلوی نسبتیں ان مدرسوں اور مکاتب فکر کی بنیاد پر ہیں جہاں سے یہ لوگ تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم، امامت کا تعلق امام کے اعمال صالحہ اور عقائد کی درستگی سے ہے۔ مستقل امام کے انتخاب کے وقت ان خصوصیات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور ایسے شخص کو امام بنایا جانا چاہیے جو ان صفات کا حامل ہو۔

لیکن جب بات مجبوری یا عارضی امامت کی ہو، تو اس قدر تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نماز باجماعت ادا کر لینی چاہیے، کیونکہ یہ لوگ بھی اہل اسلام سے ہی ہیں اور ان کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، دیوبندی یا بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے رشتہ قائم کرنے میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں۔

اگر کوئی شخص حق سے دور ہو یا انحراف کرے، تو اسے حکمت اور بہترین نصیحت کے ذریعے حق کی تبلیغ کرنی چاہیے اور اسے دین کی طرف راغب کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

(اہل حدیث سوہدرہ، جلد نمبر ۱۵، شمارہ نمبر ۲۰)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔