مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دیواروں پر تصویریں لٹکانا کیسا ہے؟ شرعی حکم مکمل وضاحت کے ساتھ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

دیواروں پر تصویریں لٹکانے کا شرعی حکم

سوال:

دیواروں پر تصویریں لٹکانے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دیواروں پر تصویریں لٹکانا، خاص طور پر بڑی سائز کی تصویریں، حرام ہے۔ خواہ ان تصویروں میں صرف جسم کا کچھ حصہ یا صرف سر ہی دکھایا گیا ہو، یہ عمل ناجائز ہے کیونکہ اس سے تصویروں کی تعظیم کا مقصد واضح طور پر نظر آتا ہے۔

شرک کی جڑ: غلو اور تعظیم

اس طرح کی تصویریں لٹکانے سے شرک کی بنیاد بننے والی غلو (حد سے بڑھ کر تعظیم) کا دروازہ کھلتا ہے۔ اسی کی وضاحت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمائی:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ان بتوں کے بارے میں فرمایا جن کی قومِ نوح علیہ السلام عبادت کرتی تھی کہ:

"دراصل یہ نیک لوگوں کے نام تھے جن کی انہوں نے تصویریں اس نیت سے بنائی تھیں کہ انہیں دیکھ کر ان کی عبادت و ریاضت کی یاد تازہ ہو جائے۔ لیکن جب ایک طویل وقت گزر گیا تو انہوں نے انہی تصویروں اور مجسموں کی پوجا شروع کر دی۔”

(صحیح البخاري، التفسیر، باب: ﴿ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعوق﴾ حدیث: ۴۹۲۰)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔