مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دینی یا دنیاوی نقصان سے بچنے کے لیے قطع تعلقی کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کسی دینی یا دنیاوی نقصان سے بچنے کے لیے کسی مسلمان سے قطع تعلقی کرنا کیسا ہے؟

جواب :

مسلمان سے تین دن سے زائد قطع تعلقی حرام ہے،البتہ اگر کسی مسلمان سے دینی یا دنیاوی نقصان کا اندیشہ ہو اور سمجھانے کے باوجود وہ نہ سمجھے ، تو اس سے تب تک قطع تعلقی جائز ہے، جب تک وہ بھلائی پر نہ آجائے۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أنه لا يجوز للمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث إلا أن يكون يخاف من مكالمته وصلته ما يفسد عليه دينه أو يولد به على نفسه مضرة فى دينه أو دنياه فإن كان ذلك فقد رخص له فى مجانبته وبعده .
”اہل علم کا اجماع ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلقی جائز نہیں، البتہ اگر اسے اپنے بھائی سے بول چال رکھنے یا تعلق داری سے خدشہ ہو کہ وہ اس کے دین میں فساد کا باعث بنے گا یا اس کے دین یا دنیا میں نقصان کا باعث بنے گا، تو اس صورت میں اس سے بائیکاٹ اور دوری اختیار کرنا جائز ہے۔“
(التمهيد : 127/6)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔