مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دیندار کو ناپسند کرتے ہوئے رشتہ رد کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

میں سولہ برس کی جوان لڑکی ہوں، ایک دیندار نوجوان نے، جو ایک مسجد میں مؤذن ہے، مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے لیکن میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں اس کو پسند نہیں کرتی، بلکہ میں پیغام نکا ح دینے سے پہلے ہی سے اس کو ناپسند کرتی ہوں، تو کیا میرا اس کے پیغام کو رد کرنا اور اس سے کنارہ کشی کرنا مجھے گناہ گار کرے گا حالانکہ وہ ان لوگوں کے زمرے میں آتا ہے جن کو دینداری کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے؟ ہمیں اس مسئلہ میں فتوی دیجیے۔ جزا کم اللہ خیر ا

جواب:

جب تم کسی شخص سے اس کے دیندار ہونے کے باوجود شادی نہیں کرنا چاہتی ہو تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، اس لیے کہ شادی کی بنیاد خاوند کے نیک ہونے کے ساتھ ساتھ دل کا اس کی طرف مائل ہونا بھی ہے، لیکن جب تم اس کو دیندار ہونے کے باوجود ناپسند کرو تو تم ایک مومن کو
ناپسند کرنے کے حوالے سے گناہ گار ہوگی، اور مومن سے اللہ کے لیے محبت کرنا اور اس کی دینداری کی وجہ سے اس کو ناپسند نہ کرنا واجب ہے، لیکن تمہارے لیے اس کی دینداری کو پسند کرنے کے باوجود اس سے شادی کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے، جب تک کہ تمھارا دل اس کی طرف مائل نہ ہو۔ واللہ اعلم

(صالح بن فوزان بن عبداللھ رحمہ اللہ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔