مضمون کے اہم نکات
دیتوں کے احکام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
دِیات، دیت کی جمع ہے۔ دیت اس مال کو کہا جاتا ہے جو جنایت کرنے والا، اپنی جنایت کے سبب، مظلوم یا اس کے وارثوں کو ادا کرتا ہے۔ دیت کے واجب ہونے کی دلیل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ … ﴿٩٢﴾… سورة النساء
"جوشخص کسی مسلمان کو بلا قصد مارڈالے،اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچاناہے۔۔۔” [النساء:4/92۔]
حدیث شریف میں وارد ہے:
"وَمَن قُتِلَ لَهُ قتيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُقْتَلَ، وَإِمَّا أنَّ يُفْدَى”
"جس کا کوئی آدمی قتل کردیا گیا اسے دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرنے کاحق ہے کہ وہ دیت قبول کرلے یا قاتل سے انتقام لے۔” [صحیح البخاری اللقطۃ باب کیف تعرف لقطۃ اھل مکۃ؟حدیث 2434،وصحیح مسلم،الحج،باب تحریم مکۃ وتحریم صیدھا۔۔۔حدیث 1355،واللفظ لہ۔]
دیت کن صورتوں میں واجب ہوتی ہے
① ہر اس شخص پر دیت لازم ہے جس نے براہِ راست کسی انسان کو ہلاک کردیا، مثلاً کسی کو اتنا مارا پیٹا کہ وہ مرگیا، یا اسے گاڑی کے نیچے روند دیا، یا وہ اس کے قتل کا سبب بنا، جیسے اس نے راستے میں گڑھا کھود دیا یا وہاں کوئی بڑا بھاری پتھر رکھ دیا جس کی وجہ سے کوئی شخص ہلاک ہوگیا۔ ان تمام صورتوں میں دیت ادا کرنا ضروری ہے، چاہے مرنے والا مسلمان ہو، یا ذمی، یا مستامن، یا ایسی قوم کا فرد ہو جس کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ بندی کا معاہدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ …﴿٩٢﴾… سورة النساء
"اوراگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد وپیماں ہے تو خون بہا لازم ہے جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے۔” [النساء:4/92۔]
② اگر کسی شخص نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کیا تو دیت قاتل کے اپنے مال سے فوراً ادا کی جائے گی، کیونکہ اصل قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کو تلف کرے، اسی پر اس چیز کا بدل اور اس کی قیمت لازم ہوتی ہے۔
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کا اس مسئلے پر اجماع ہے، اصول وضابطہ اس کا متقاضی ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر:9/482۔] اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے:
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾
"کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ لادےگا۔” [الانعام 6/164۔]
چونکہ خطائیں عام طور پر انسان سے بلا ارادہ سرزد ہوجاتی ہیں، اس لیے قتلِ خطا میں قاتل پر دیت کا پورا بوجھ ڈالنا سختی ہے۔ لہٰذا حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اس کی ادائیگی عاقلہ، یعنی عصبہ ورثاء، پر رکھی جائے تاکہ قاتل کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہوسکے۔ یہ تخفیف اس وجہ سے ہے کہ وہ معذور ہے، جبکہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا معذور نہیں ہوتا، اس لیے اس کے لیے کوئی تخفیف نہیں۔ پھر ایسے شخص پر اصل میں قصاص تھا، جب اسے معافی مل گئی تو اب اسے اپنی جان کے بدلے میں دیت بھی خود ہی برداشت کرنا ہوگی، اور یہ دیت فوراً ادا کی جائے گی، جیسے دوسرے مالی نقصانات کا تاوان فوراً دیا جاتا ہے۔
③ اسی طرح قتلِ شبہ عمد ہو یا قتلِ خطا، دونوں میں دیت قاتل کے عاقلہ، یعنی عصبات، کے ذمے ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں۔ ایک نے دوسری کو پتھر مارا جس سے وہ عورت بھی مرگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس موقع پر:
"وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ عورت کی دیت قتل کرنے والی عورت کے عصبہ ادا کریں۔” [صحیح البخاری الدیات باب جنین المراۃ وان العقل علی الولد حدیث 6910۔وصحیح مسلم القسامہ باب دیۃ الجنین حدیث1681۔]
اس روایت سے صاف معلوم ہوا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت قاتل کے عصبہ ورثاء پر ہے۔ خلاصہ یہ کہ چاہے قتل شبہ عمد ہو یا قتلِ خطا، دونوں صورتوں میں دیت کی ذمہ داری قاتل کے عصبہ ورثاء پر ہوگی۔ امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔” ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی سویا ہوا شخص کروٹ بدلتے ہوئے کسی انسان پر گر پڑے اور دوسرا شخص مرجائے، یا کسی نے راستے میں تعدی کرتے ہوئے گڑھا کھودا اور کوئی اس میں گر کر مرگیا، تو اس میں ضمان اور تاوان لازم ہوگا۔
④ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ایسی سزا دی جس کی اسے شرعاً اجازت تھی، لیکن اسی سزا کی وجہ سے وہ شخص مرگیا، تو سزا دینے والا شرعاً ضامن نہ ہوگا۔ مثلاً باپ نے بیٹے کو، یا شوہر نے بیوی کو، ادب سکھانے کے لیے سزا دی، یا حاکم نے اپنی رعایا میں سے کسی کو ایسی سزا دی جو معمول کے مطابق تھی اور اس میں زیادتی نہیں کی گئی تھی، تو ایسی صورت میں سزا دینے والے پر ضمان نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے وہی کچھ کیا جس کی شریعت نے اسے اجازت دی تھی۔ البتہ اگر ادب سکھانے کے نام پر مناسب حد سے زیادہ سزا دی گئی تو پھر وہ ضامن ہوگا۔
⑤ اگر کسی عورت کو ایسی سزا دی گئی جس کے نتیجے میں اس کا حمل ساقط ہوگیا، تو مؤدب شخص پر حمل کا ضمان واجب ہوگا، اور یہ ایک غلام یا لونڈی کی ادائیگی کی صورت میں ہوگا۔ روایت میں ہے کہ: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے ہی واقعے میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔” [صحیح البخاری الدیات باب جنین المراۃ حدیث 6905۔] اہل علم کی اکثریت کا یہی موقف ہے۔
⑥ اگر کسی نے حاملہ عورت کو اتنا ڈرایا اور خوف زدہ کردیا کہ اس کے نتیجے میں اس کا حمل ضائع ہوگیا تو ایسا شخص ضامن ہوگا۔ مثال کے طور پر کسی حاکم نے ایک حاملہ عورت کو اپنے پاس طلب کیا۔ اس طلبی کے باعث عورت پر ایسا خوف طاری ہوا کہ اس کا حمل ساقط ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ: ” ایک عورت کا خاوند پردیس میں تھا۔اس کے پاس کچھ لوگ آتے جاتے دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے طلب فرمالیا،اس عورت نے کہا:ہائے افسوس!عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجھ سے کیا کام ہے؟وہ عورت اس قدر گھبراگئی کہ خوف میں آکر راستے ہی میں اس نے قبل از وقت بچے کو جنم دیا جس نے دو سانسیں لیں اورفوراً مرگیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کے بارے میں مشورہ کیا،بعض نے کہا کہ اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !آپ کے ذمے کچھ ضمان نہیں آتا۔سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اگر شوریٰ کے بعض اراکین نے آپ کی محبت کے پیش نظر یہ بات کہی ہے تو انھوں نے آپ کی خیر خواہی نہیں کی۔اس بچے کی دیت آپ کے ذمے ہے کیونکہ آپ کے خوف ہی کی وجہ سے بچہ ضائع ہوا ہے۔” [المصنف لعبدالرزاق باب من افزعہ السلطان 9/458 حدیث 18010۔]
⑦ اگر کسی شخص نے دوسرے عاقل و بالغ آدمی کو حکم دیا کہ وہ کنویں میں اترے یا درخت پر چڑھے، پھر اس نے ایسا کیا اور اترنے یا چڑھنے کے دوران ہلاک ہوگیا، تو حکم دینے والا ضامن نہیں ہوگا، کیونکہ نہ اس نے براہِ راست جنایت کی اور نہ وہ زیادتی کا مرتکب ہوا۔ البتہ اگر یہی حکم کسی نابالغ بچے کو دیا گیا ہو، تو حکم دینے والا اس کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوگا، کیونکہ وہی اس کی موت کا سبب بنا ہے۔
اسی طرح اگر کسی نے کسی شخص کو اجرت پر رکھا، پھر اسے کنویں میں اتارا یا درخت پر چڑھایا، اور وہ اسی سبب سے مرگیا، تو اجرت پر رکھنے والا شخص ضامن نہ ہوگا، کیونکہ اس کا کوئی قصور نہیں۔
⑧ جس شخص نے کسی سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ اس کے گھر میں کنواں تیار کرے، پھر کام کے دوران اس پر مٹی گر پڑی یا کنواں بیٹھ گیا اور کنواں بنانے والا مرگیا، تو اس کی دیت کسی پر لازم نہیں ہوگی۔
ان مسائل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام نے بے گناہ جانوں کی حفاظت کا کس قدر عظیم اہتمام کیا ہے۔ آج کل بہت سے لوگ اس ذمہ داری کا کوئی احساس نہیں کرتے۔ وہ اس قدر لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہیں کہ نہ صرف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ دوسروں کی جانیں بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کی بے احتیاطی سے پورا خاندان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ان مہم جو لڑکوں کے والدین پر بھی عائد ہوتی ہے جو جان بوجھ کر گاڑیاں ان کے سپرد کردیتے ہیں تاکہ وہ بے گناہ لوگوں کی جانیں لیتے پھریں، یعنی انھیں ہلاک کریں۔ یہ گاڑیاں ان کے ہاتھوں میں ایسے ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں غیر ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرکے وہ لوگوں کو قتل کرتے اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد اور تمام مسلمانوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ اور حکمرانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسے افراد کو لگام دیں تاکہ سب لوگوں کی سلامتی یقینی ہو اور امن قائم ہوسکے، کیونکہ حکمرانوں کے ذریعے ایسے امور کا سدباب ہوجاتا ہے جن کا سدباب محض وعظ و نصیحت سے نہیں ہوسکتا۔
دیت کی مقدار کا بیان
اسلامی قانون میں انسان کے مختلف احوال کے لحاظ سے الگ الگ دیت مقرر ہے، مثلاً مقتول مسلمان ہو یا غیر مسلم، آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، خود زندہ انسان ہو یا ماں کے پیٹ میں جنین ہو۔ ان سب کے اعتبار سے دیت کی تفصیل مختلف ہے، جو درج ذیل ہے:
① آزاد مسلمان شخص کی دیت سب سے زیادہ ہے۔ یہ تقریباً ایک ہزار مثقال سونے کی قیمت کے برابر ہے، یا بارہ ہزار اسلامی درہم کے برابر۔ واضح رہے کہ دس درہم کا وزن سات مثقال ہوتا ہے۔ یا پھر بطورِ دیت سو اونٹ، یا دو سو گائیں، یا دو ہزار بکریاں ادا کی جائیں گی۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"فرض رسول الله – صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم الدية على أهل الإبل مائة من الإبل، وعلى أهل البقر مائتي بقرة، وعلى أهل الشاء ألفي شاة "
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں والوں پر سو اونٹ اور گائیوں کے مالک پر دو سوگائیں بکریوں والوں کے ذمے دو ہزار بکریاں بطوردیت ادا کرنا فرض قراردیں۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الدیات باب الدیۃ کم ھی؟حدیث:4543،4544۔]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا”
"بنو عدی کا ایک آدمی قتل ہوگیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار(درہم) مقرر فرمائی۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الدیات باب الدیۃ کم ھی؟حدیث 4546۔]
عمرو بن حزم کی کتاب (خط) میں ہے:
"وعلى أهل الذّهب ألف دينارٍ”
"سونا ادا کرنے والوں پر ایک ہزار دینار ہے۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الدیات باب الدیۃ کم ھی؟حدیث 4542،وسنن نسائی القسامۃ والدیات باب ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857 واللفظ لہ۔]
② اہل علم کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ تمام مذکورہ اشیاء، یعنی سونا، چاندی، اونٹ، گائیں، بکریاں وغیرہ، سب اصل دیت ہیں، اور ان میں سے جو چیز بھی مقرر مقدار کے ساتھ ادا کردی جائے تو وارثوں پر اسے قبول کرنا لازم ہوگا؟ اہل علم کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ ان اشیاء میں سے کوئی ایک چیز اگر مقرر مقدار کے مطابق دے دی جائے تو یہ جائز ہے، کیونکہ جو واجب تھا وہ ادا کردیا گیا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اصل دیت صرف اونٹ ہیں، باقی چیزیں اصل نہیں۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
"وأن في النفس المؤمنة مائة من الإبل "
"مومن جان کی دیت سو اونٹ ہیں۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی 8/100۔]
اسی طرح ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ”
"خبردار!قتل شبہ عمد جو کوڑے یا لاٹھی کے ساتھ ہو،اس میں مقتول کی دیت سواونٹ ہے۔” [سنن النسائی القسامۃ باب کم دیۃ شبہ العمد۔۔۔؟وذکر الاختلاف علی خالد الحذاء حدیث :4803۔]
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "لوگو! اونٹ بہت مہنگے ہوچکے ہیں،لہذا سو اونٹ کی قیمت کے پیش نظر سونے کے مالک ایک ہزار دینار دیت دے گا،چاندی کا مالک بارہ ہزار درہم،گائیوں کا مالک دو سوگائیں،بکریوں کا مالک دو ہزار بکریاں اور کپڑے کا مالک دو سو جوڑے دیت میں ادا کرے گا۔” [سنن ابی داود الدیات باب الدیۃ کم ھی؟حدیث:4542۔]
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبہ عمد میں دیت کے اونٹوں کے بارے میں ایک مزید سخت شرط بھی رکھی ہے، جو قتلِ خطا کی دیت میں نہیں۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل دیت اونٹ ہی ہیں۔ تقریباً تمام اہل علم کا اسی پر اتفاق ہے، اور یہی قول راجح ہے، کیونکہ اونٹ کے علاوہ دیت میں دی جانے والی تمام چیزیں دراصل قیمت کے اعتبار سے دیکھی گئی ہیں۔
③ قتلِ خطا کے مقابلے میں قتلِ عمد اور قتلِ شبہ عمد کی دیت زیادہ سخت ہے۔ سو اونٹوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا: پچیس بنت مخاض، یعنی ایک سال پورا کرچکی اونٹنیاں؛ پچیس بنت لبون، یعنی دو سال مکمل کرچکی اونٹنیاں؛ پچیس حقہ، یعنی تین سال کی ہوچکی اونٹنیاں؛ اور پچیس جذعہ، یعنی چار سال کی ہوچکی اونٹنیاں۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مقدار کی تائید منقول ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
"فى الخطأ ارباعا خمس وعشرون حقـة ، وخمس وعشرون جذعة ، وخمس وعشرون ابنة لبون وخمس وعشرون ابنة مخاض”
"قتل خطا” کی دیت میں پچیس حقے(جو چوتھے سال میں داخل ہوں) اور پچیس جذعے(جو پانچویں سال میں داخل ہوں ) اور پچیس تیسرے سال میں داخل اور پچیس دوسرے سال میں داخل اونٹنیاں شامل ہوں گی۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الدیات باب فی دیۃ الخطا شبہ العمد حدیث 4552۔]
اگر قاتل یہ دیت مذکورہ تفصیل کے مطابق ادا کردے تو مقتول کے ورثاء پر لازم ہے کہ وہ اسے قبول کریں۔ تاہم اگر قاتل چاہے تو اونٹوں کی موجودہ قیمت بھی بطورِ دیت ادا کرسکتا ہے۔
④ قتلِ خطا کی دیت میں تخفیف ہوتی ہے، چنانچہ سو اونٹوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون، بیس حقے، بیس جذعے اور بیس ابن مخاض۔ دیت میں یہی اقسام ادا کی جائیں گی یا ان کی وہ قیمت دی جائے گی جو رائج الوقت ہو۔
⑤ آزاد اہل کتاب شخص، خواہ وہ ذمی ہو، یا امن یافتہ، یا حلیف، اس کی دیت آزاد مسلمان آدمی کی دیت سے نصف ہوگی، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ” قضى أن عقلَ أَهْلِ الكِتَابينِ نِصْفُ عَقْلِ المسلمين”
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ اہل کتاب(یہودونصاریٰ) کی دیت مسلمانوں کی دیت کا نصف ہے۔” [سنن ابی داودالدیات باب الدیۃ کم ھی؟حدیث 4542،وسنن النسائی حدیث 4810،4811۔وسنن ابن ماجہ،حدیث 2644 واللفظ لہ ومسند احمد 2/183،224۔]
⑥ مجوسی اگر ذمی ہو، یا حلیف ہو، یا پناہ لینے والا ہو، اسی طرح کوئی بت پرست حلیف ہو یا پناہ لینے والا ہو، تو ان کی دیت آٹھ سو اسلامی درہم ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"دية المجوسي ثمان مائة درهم”
"مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہیں۔” [(ضعیف) الکامل لابن عدی 5/347۔فی ترجمۃ عبداللہ بن صالح والسنن الکبریٰ للبیہقی 8/101۔]
یہی اہل علم کی اکثریت کا قول ہے۔
⑦ اہل کتاب، مجوس اور بت پرستوں کی عورتوں کی دیت ان کے مردوں کی دیت سے نصف ہوگی، جیسے مسلمان عورتوں کی دیت مسلمان مردوں سے نصف ہے۔
ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 9/532۔]
عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب (خط) میں بھی مذکور ہے کہ: "عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 9/533۔]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ بات واضح ہے کہ عورت مرد سے ناقص ہے اور مرد عورت سے زیادہ نفع مند ہے کیونکہ دینی اور سیاسی مناصب ،سرحدوں کی حفاظت ،جہاد زمین کی آبادی اور وہ جملہ احکام جن کے ساتھ عالم انسانی کی مصلحتیں وابستہ ہیں،اسی طرح دین ودنیا کے دفاع کے جملہ امور جس قدر مرد سرانجام دے سکتا ہے اس قدر عورت نہیں کرسکتی،لہذا عورت کی دیت مرد کے مساوی نہیں ہوسکتی۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آزاد انسان کی دیت غلام یا کسی دوسری چیز کی قیمت کے قائم مقام ہے،لہذا شارع علیہ السلام کی طرف سے حکمت کا تقاضا ہوا کہ عورت کی قیمت مرد کی قیمت سے نصف مقرر کی جائے تاکہ دونوں میں فطری فرق برقرار رہے۔” [اعلام الموقعین 2/148۔]
⑧ اگر واجب ہونے والی دیت ایک تہائی سے کم ہو تو مرد اور عورت کی دیت برابر ہوگی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا”
"عورت اور مرد کی دیت برابر ہے جب وہ تہائی حصہ تک ہو۔” [(ضعیف)سنن النسائی القسامۃ عقل المراۃ حدیث 4809۔]
سیدنا سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہی سنت ہے۔”
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس مذکورہ مسئلے میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ،شافعی رحمۃ اللہ علیہ ،اور علماء رحمۃ اللہ علیہ کی ایک جماعت کا اختلاف ہے،انھوں نے کہا ہے :مرد اور عورت کی قلیل اور کثیر دیت میں برابری نصف تک ہے۔تاہم سنت پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ایک تہائی سے کم اور اس سے زیادہ کا حکم اس لیے الگ الگ ہے کہ ایک تہائی سے کم قلیل مقدار ہے ،لہذا اس میں عورت کی مصیبت کو مرد کے برابر قرار دیا گیا،اسی بناء پر مذکر اور مؤنث جنین میں دیت برابر ہوتی ہے کیونکہ اس کی دیت تھوڑی سی ہے،یعنی ایک غلام یالونڈی ،چنانچہ ایک تہائی سے کم پر جنین والے قانون کا اطلاق کردیاگیا۔” [اعلام الموقعین 2/148،149۔]
⑨ غلام یا لونڈی کی دیت وہی ہوگی جو اس کی مناسب قیمت ہو، خواہ وہ قیمت کتنی ہی ہو۔ اگر یہ قیمت آزاد آدمی کی دیت سے کم ہو تو علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ لیکن اگر غلام کی قیمت آزاد کی دیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہوجائے تو امام احمد، امام مالک، امام شافعی اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اس کی پوری قیمت ادا کی جائے گی، چاہے وہ جتنی بھی زیادہ ہو۔
⑩ جنین، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، جب کسی شخص کی جنایت کی وجہ سے مرجائے تو اس میں ایک غلام یا ایک لونڈی دیت ہوگی، یا اس کی قیمت کے طور پر پانچ اونٹ ادا کیے جائیں گے، چاہے یہ جنایت عمداً ہوئی ہو یا خطاً۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
"قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے بارے میں فیصلہ دیا جس کے پیٹ میں بچہ قتل کردیا گیا کہ اسے ایک غلام یا لونڈی دی جائے۔” [صحیح البخاری الدیات باب جنین المراۃ وان العقل علی الوالد۔۔۔حدیث 6909و صحیح مسلم القسامۃ باب دیۃ الجنین۔۔۔حدیث (35)۔1681 واللفظ لہ۔]
وہ غلام یا لونڈی جنین کی طرف سے ترکہ قرار پائے گی، گویا وہ بچہ ساقط ہونے کے وقت زندہ تھا، پھر بعد میں مرگیا، کیونکہ یہ جنین کی دیت ہے۔ یہی جمہور کا مذہب ہے۔ غلام یا لونڈی کی قیمت کا اندازہ پانچ اونٹ ہے، یعنی اس کی ماں کی دیت کا دسواں حصہ۔
اعضاء اور ان کے فوائد کی دیت کا حکم
بعض علماء کے نزدیک انسانی جسم کے اعضاء پینتالیس ہیں۔ ان میں کچھ اعضاء ایک ایک ہیں، کچھ دو دو ہیں، اور کچھ دو سے زیادہ ہیں۔ بدن کا جو عضو ایک ہی ہے، مثلاً ناک، زبان اور آلہ تناسل، اگر کوئی شخص جنایت کرکے اسے کاٹ دے تو اس کی دیت اتنی ہی ہوگی جتنی پورے انسان کی دیت ہوتی ہے، اور یہ مقدار انسان کی مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے مختلف ہوگی، مثلاً وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، لونڈی ہو یا ذمی وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عضو بدن میں اکیلا پیدا فرمایا ہے، اس کے ضائع ہوجانے سے اس کا فائدہ مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے، گویا وہ جان چلے جانے کے قائم مقام ہے، اس لیے اس کی دیت بھی جان کی دیت ہی ہوگی۔ اس مسئلے میں علماء کا اتفاق ہے۔ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَفِي الأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ ….. وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ”
"اور ناک میں مکمل دیت ہے جب اسے جڑ سے کاٹ دیا جائے اور زبان میں پوری دیت ہے۔۔اور آلہ تناسل کے کاٹنے سے مکمل دیت ہے۔” [(ضعیف) سنن النسائی القسامہ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔]
جسم کے جو اعضاء جوڑا جوڑا ہیں، مثلاً آنکھیں، کان، ہونٹ، جبڑے، عورت کے پستان، مرد کی چھاتی، ہاتھ، ٹانگیں اور خصیتین، اگر ان دونوں کو کاٹ دیا جائے تو پورے انسان کی دیت لازم ہوگی، اور اگر ان میں سے ایک کاٹا جائے تو اس میں نصف دیت ہوگی، کیونکہ ان دونوں اعضاء کے مجموعے سے منفعت، حسن اور جمال حاصل ہوتا ہے، اور ان کے قائم مقام بدن میں کوئی دوسرا عضو نہیں۔
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہمارے علم کے مطابق اس مسئلے میں کسی نے مخالفت نہیں کی۔”
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکتوب میں تحریر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے احکام لکھ کر بھیجے تھے:
"وَفِي الأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ”
"جب ناک جڑ سے کاٹ دی جائے تو اس میں مکمل دیت ہے۔زبان میں پوری دیت ہے،دونوں ہونٹوں میں مکمل دیت ہے،خصیتین میں پوری دیت ہے،پشت میں مکمل دیت ہے،دونوں آنکھوں میں پوری دیت ہے اور ایک ٹانگ کے کاٹ دینے میں نصف دیت ہے۔” [(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔حدیث 4857۔]
علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب (خط) اہل علم میں معروف ہے اور اس میں مذکور احکام میں سے چند کے سوا باقی پر علماء کا اتفاق ہے۔
اعضاء کی تعداد کے اعتبار سے دیت کی تفصیل
① ایک ہی قسم کے اگر تین اعضاء ہوں تو ان تینوں کو کاٹ دینے سے پوری دیت واجب ہوگی، اور اگر ان میں سے ایک حصہ کاٹا جائے تو اس کی دیت ایک تہائی ہوگی۔ مثال کے طور پر ناک، جو دو نتھنوں اور ان کے درمیان والی ہڈی پر مشتمل ہوتی ہے۔
② انسان کے وجود میں جو اعضاء چار ہیں، ان چاروں کو ختم کردینے سے پوری دیت ہوگی، اور اگر ان میں کمی ہوگی تو دیت بھی اسی نسبت سے کم ہوگی۔ مثال کے طور پر چاروں پلکیں، جن کا مقصد ظاہری خوبصورتی بھی ہے اور آنکھوں کو سردی اور گرمی سے بچانا بھی۔ ان میں ایک پلک کی دیت چوتھائی ہوگی، اور چاروں میں مکمل دیت ہوگی۔
③ دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیوں میں مکمل دیت ہے، اسی طرح دونوں پاؤں کی انگلیوں میں بھی مکمل دیت ہے۔ یعنی اگر دس کی دس انگلیاں کاٹ دی جائیں تو اس میں پوری دیت، یعنی سو اونٹ، واجب ہوں گے۔ ایک انگلی میں دس اونٹ دیت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دِيَةِ الْأَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ لِكُلِّ أُصْبُعٍ”
"ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے،ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔” [جامع الترمذی الدیات باب ماجاء فی دیۃ الاصابع،حدیث 1391۔]
صحیح بخاری میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
"هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ "
"یہ انگلی اور یہ انگلی برابر ہیں،یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔” [صحیح البخاری الدیات باب دیۃ الاصابع حدیث 6895۔]
ان دونوں حدیثوں سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہاتھ اور پاؤں کی تمام انگلیوں میں دیت ہے، اور ہر انگلی کی دیت دس اونٹ بنتی ہے۔
④ ہر انگلی میں تین جوڑ ہوتے ہیں، لہٰذا اگر ایک جوڑ تک انگلی کاٹ دی جائے تو اس میں ایک انگلی کی دیت کا تیسرا حصہ ہوگا۔ جبکہ انگوٹھے میں دو جوڑ ہوتے ہیں، اس لیے اس کے ایک جوڑ کی دیت ایک انگلی کا نصف، یعنی پانچ اونٹ ہوگی۔
⑤ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے، کیونکہ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ”
"ہر دانت میں پانچ اونٹ دیت ہے۔” [(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔]
امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہر ہر دانت کی دیت پانچ پانچ اونٹ ہے اور ہمیں اس میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔” [المغنی والشرح الکبیر 9/612۔]
اعضاء کے منافع اور ان کی دیت
⑥ منافع سے مراد وہ فائدے ہیں جو جسم کے اعضاء سے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً سننا، دیکھنا، سونگھنا، بولنا اور چلنا وغیرہ۔ ہر عضو کا ایک خاص مقصد اور فائدہ ہوتا ہے۔
⑦ انہی منافع میں حواسِ اربعہ بھی شامل ہیں، یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا اور چکھنا۔ ان چاروں میں سے اگر کوئی ایک حس کسی جنایت کے سبب ختم کردی جائے تو اس میں مکمل دیت ہوگی۔
ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "عام اہل علم کا ا جماع ہے کہ سماعت(کان) کے ضائع ہوجانے سے دیت ادا کی جائے گی۔” [المغنی والشرح الکبیر 2/596۔]
امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے۔ [المغنی والشرح الکبیر 2/596۔]
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکتوب میں ہے:
"وَفِي الْمَشَامِّ الدِّيَةُ "
"سونگھنے کی قوت ضائع کردینے کی صورت میں دیت ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 9/600۔]
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک شخص نے دوسرے کو اتنا سخت مارا کہ اس کی سننے، دیکھنے اور جماع کرنے کی قوتیں، نیز عقل بھی جاتی رہی، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر چار دیتیں لازم قرار دیں، حالانکہ مضروب شخص زندہ تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی نے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔
⑧ اگر کسی کے بولنے، سمجھنے، چلنے، کھانے، نکاح (جماع) کرنے یا پیشاب و پاخانہ کو روکنے کی قوت ختم کردی جائے تو ان میں سے ہر ایک کے بدلے مکمل دیت ہوگی، کیونکہ ان میں سے ہر ایک بہت بڑا اور اہم فائدہ ہے، اور بدن میں ان میں سے ہر قوت ایک ہی ہے، دو نہیں۔
⑨ جسم میں بال اُگنے کے چار مقامات ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک مقام کو اس قدر متاثر کردیا جائے کہ وہاں دوبارہ بال اگنے کی صلاحیت باقی نہ رہے تو اس میں بھی مکمل دیت ہوگی۔ یہ چار مقامات ہیں: سر کے بال، داڑھی کے بال، ابرو کے بال اور پلکوں کے بال۔ اگر ایک ابرو ضائع ہو تو اس میں نصف دیت ہوگی، اور ایک پلک میں چوتھائی دیت ہوگی، کیونکہ پلکیں چار ہیں۔
ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں داڑھی کا کس قدر احترام اور قیمت ہے کہ اس کے ضائع کرنے میں مکمل دیت مقرر کی گئی ہے، کیونکہ اس کا بڑا فائدہ ہے اور مرد کے لیے اس میں حسن اور وقار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑھانے اور اس کی نگہداشت کا حکم دیا ہے، اور اسے مونڈنے، کاٹنے اور اس پر زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تباہی ہو ان لوگوں کے لیے جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہوئے، اور کافروں اور منافقوں کی نقالی کرتے ہوئے، داڑھی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ وہ مردانہ شان کو چھوڑ کر زنانہ نزاکت اختیار کرتے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے:
يُقْضَى عَلَى المَرْءِ فِي أَيَّامِ مِحْنَتِهِ
حَتَّى يَرَى حَسَناً مَا لَيْسَ بِالحَسَنِ
"آدمی پر مصیبت کے ایام میں ایسی کیفیت بھی آجاتی ہے کہ وہ بُری چیز کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔”
علامہ اقبال کا شعر ہے:
جو ناخوب تھا بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر
لہٰذا ایسے لوگوں کو چاہیے کہ عقل سے کام لیں، دانائی کی راہ اختیار کریں، اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے پوری داڑھی رکھیں، جسے اللہ تعالیٰ نے مردانگی کی علامت اور حسن و جمال کا مظہر بنایا ہے۔