سوال:
دکان وغیرہ کے افتتاح کے لیے فیتا کاٹنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
کسی دکان، فیکٹری یا دفتر وغیرہ کا افتتاح کرنے کے لیے پہلے فیتا باندھ دینا، پھر کسی بڑے آدمی کو بلا کر بسم اللہ کرانا اور فیتا کاٹنا کسی صحیح حدیث یا آثار صحابہ سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہی ہے۔ یہ صرف غیر مسلموں کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے کسی بھی اچھے انجام رساں کام کے افتتاح سے پہلے جو طریقہ کار بتایا ہے وہ استخارہ ہے، یعنی باوضو ہو کر پہلے دو رکعت نماز ادا کریں، پھر دعائے استخارہ پڑھیں، پھر محنت، توجہ اور اخلاص کے ساتھ کام کریں، ملاوٹ، قلم، دھوکا دہی، کرخت رویہ جیسے اخلاق رذیله سے اجتناب کریں تو اللہ تعالیٰ خیر و برکت نازل کرے گا۔ البتہ صحیح حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہلا پھل دیکھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے:
”اے اللہ! ہمارے پھل میں برکت فرما اور ہمارے شہر میں برکت فرما اور ہمارے صاع میں برکت فرما اور ہمارے مد (یعنی پیمانے) میں برکت فرما۔ اے اللہ! بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی اور میں تجھ سے اسی طرح کی دعا مدینہ کے لیے کرتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ترمیم سب سے چھوٹے بچے کو بلا کر دو پھل اسے دے دیتے۔
(مسلم، کتاب فضائل المدينة، باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم طخ 1373)
اور دوسری حدیث مسلم (1373/474) میں ہے کہ آپ کے پاس بچوں میں سے جو بھی چھوٹا بچہ حاضر ہوتا آپ اسے وہ پھل دے دیتے۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کام نیا نیا ہو تو کسی صالح اور اللہ کے ولی کے پاس جا کر دعا کروائیں اور اگر پھل نیا نیا تیار ہو تو دعا کروا کے کسی سب سے چھوٹے بچے کو دے دیں۔