سوال :
کیا کوئی ایسی حدیث ہے کہ اگر کسی کے دو یا تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ ان کے والدین کو جنت میں جگہ دے گا؟ برائے مہربانی صحیح رہنمائی کریں۔
جواب :
والدین کو اگر اپنی نابالغ اولاد کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑے تو ایسے والدین کو اس صدمے کا اجر ملتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”جب کسی مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ ان بچوں پر رحم کی وجہ سے ایسے مسلمان کو جنت میں داخل کر دے گا۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب فضل من مات له ولد فاحتسب 1248)
ایک خاتون اپنا بچہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی:
”یا رسول اللہ! اس بچے کے لیے دعا فرمائیں، کیونکہ میں اس سے قبل تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم تین بچوں کو دفن کر چکی ہو؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تو تم نے جہنم سے ایک بہت محفوظ باڑ بنا لی ہے۔ “
(مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه 2636)
اگر کسی مسلمان کے دو بچے بھی فوت ہو جائیں تو وہ بھی اپنے والدین کے لیے ذریعہ نجات بن سکتے ہیں، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”تم میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ (قیامت کے دن) جہنم سے رکاوٹ کا ذریعہ بن جائیں گے۔ ایک عورت نے پوچھا: اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! دو بچے بھی جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب فضل من مات له ولد فاحتسب 1249، مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه 2632)
مذکورہ بالا احادیث صحیحہ و صریحہ سے معلوم ہوا کہ مسلمان آدمی کو اگر اپنے تین یا دو نابالغ بچوں کا صدمہ برداشت کرنا پڑے تو اس اندوہناک اور غمناک حادثہ کی وجہ سے اللہ تعالی ان کو اجر سے نوازے گا اور یہ بچے ان کے لیے جہنم سے بچنے کا ذریعہ بن جائیں گے اور اس واقعہ پر اللہ تعالی انھیں جنت نصیب کرے گا۔ مومن آدمی کا معاملہ اللہ کے ساتھ بہت پیارا ہے، یہ مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے اور خوشی آنے پر شکر کرتا ہے اور صبر و شکر دونوں اس کے حق میں اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ لہذا مسلم آدمی کو ہر مصیبت پر صابر اور ہر خوشی و مسرت پر شاکر رہنا چاہیے اور ان دونوں صورتوں میں اس کے لیے اجر ہی اجر ہے۔ (إن شاء اللہ)