مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دو منزلہ مسجد میں امام کے مقام سے متعلق شرعی رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد1۔كتاب الصلاة۔صفحہ280

سوال

دومنزلہ مسجد میں باجماعت نماز کے دوران امام کو پہلی (نچلی) منزل میں کھڑا ہونا چاہیے یا دوسری (اوپر) منزل میں؟ جب کہ مقتدی دونوں منزلوں میں موجود ہوں؟
(محمد صدیق، ایبٹ آباد)

الجواب :

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اگر امام نچلی منزل پر امامت کرے، تو مقتدی اوپر والی منزلوں پر نماز ادا کر سکتے ہیں۔

حرم مکہ میں ایام حج وغیرہ کے دوران اسی ترتیب سے نماز ادا کی جاتی ہے۔

صحابہ کرام کا عمل

صالح مولی التوامہ کا بیان ہے:

"صليت مع أبي هريرة فوق ظهر المسجد بصلاة الإمام وهو أسفل”

"میں نے ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ مسجد کی چھت پر امام کے پیچھے نماز پڑھی جبکہ امام نیچے تھا۔”

(مصنف ابن ابی شیبہ 2/223 ح 6158، وسندہ حسن، والبیہقی 3/111، وعبد الرزاق فی المصنف 3/83 ح 4888)

یہ روایت صالح نے اختلاط سے پہلے بیان کی ہے، اس لیے سند کے اعتبار سے یہ روایت حسن ہے۔

عورتوں کی شمولیت کا حکم

عورتیں بھی بالا یا زیریں منزل پر نماز پڑھ سکتی ہیں،

بشرطیکہ مردوں سے اختلاط نہ ہو۔

(شہادت، مئی 2004ء)

نتیجہ

یہی درست اور راجح موقف ہے، اور اسی پر عمل کیا جانا چاہیے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔