دو آدمیوں کی جماعت :
صف کم از کم دو آدمیوں کی ہوتی ہے :
سیدنا مالک بن حویرث رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی کی اجازت طلب کرنے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إذا حضرت الصلاة؛ فأذنا وأقيما ، ثم ليؤمكما أكبركما » .
’’نماز کا وقت ہو جائے ، تو اذان واقامت کہیں۔ پھر آپ میں بڑی عمر والا امام بنے ۔‘‘
🌿(صحیح البخاري : 658؛ صحیح مسلم : 293)
دو آدمی جماعت کرائیں ، تو ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہوں :
🌸سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم من آخر الليل، فصليت خلفه ، فأخذ بيدي ، فجرني، فجعلني حذاءه .
’’میں رات کے آخری حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنے برابر کھڑا کر لیا۔‘‘
🌿(مسند الإمام أحمد : 330/3 ، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمتہ اللہ (۳/ ۵۳۴) نے صحیح بخاری ومسلم رحمتہ اللہ کی شرط پر ’’صحیح‘‘ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمتہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
🌸سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
بت في بيت خالتي ميمونة، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء، فصلى أربع ركعات، ثم نام، ثم قام، فجئت، فقمت عن يساره، فجعلني عن يمينه، فصلى خمس ركعات، ثم صلى ركعتين، ثم نام حتى سمعت غطيطه ، أو قال : خطيطه، ثم خرج إلى الصلاة.
’’میں نے ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی الله عنه کے گھر بسر کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کے سو گئے۔ پھر نماز کا قیام کیا ، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب کر دیا۔ پھر پانچ رکعت پڑھیں، اس کے بعد دو رکعت پڑھیں۔ پھر سو گئے، میں نے خراٹوں کی آواز سنی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لئے تشریف لے گئے ۔‘‘
🌿(صحيح البخاري : 697 ، صحیح مسلم : 763)
🌸امام بخاری رحمتہ اللہ نے اس حدیث سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے:
يقوم عن يمين الإمام بحذاء ، سواء إذا كانا اثنين .
’’جب دو مرد جماعت کرائیں، مقتدی امام کی دائیں جانب امام کے بالکل برابر کھڑا ہو گا ۔‘‘
🌸حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ (852 ھ) لکھتے ہیں :
قوله : سواء ، أي لا يتقدم ولا يتأخر، وفي انتزاع هذا من الحديث الذي أورده بعد، وقد قال أصحابنا : يستحب أن يقف المأموم دونه قليلا، وكأن المصيف أشار بذلك إلى ما وقع في بعض طرقه، فقد تقدم في الطهارة من رواية محرمة عن كريب عن ابن عباس، بلفظ : فقمت إلى جنبه، وظاهره المساواة .
امام بخاری رحمتہ اللہ نے فرمایا ہے کہ مقتدی برابر ہو، یعنی امام سے آگے ہو، نہ پیچھے۔ جو حدیث امام صاحب نے پیش کی ہے، اس سے یہ استنباط دقیق ہے۔ ہمارے علما کہتے ہیں کہ مقتدی امام سے تھوڑا پیچھے کھڑا ہو۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے ان الفاظ کی طرف اشارہ کیا ہے، جو اس حدیث کی بعض سندوں میں موجود ہیں۔ کتاب الطہارۃ میں مخرمہ عن کریب عن ابن عباس کی سند سے یہ الفاظ مذکور ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب کھڑا ہوا۔ اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه برابر کھڑے ہوئے تھے۔‘‘
🌿(فتح الباري : 190/2)
🌸نافع مولی ابن عمر رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قمت وراء عبد الله بن عمر في صلاة من الصلوات، وليس معه أحد غيري، فخالف عبد الله بيده، فجعلني حذاءه .
’’میں ایک نماز میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میرے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه نے مجھے اپنے برابر کھڑا کر دیا۔‘‘
🌿(الموطأ للإمام مالك : 134/1 ، وسنده صحيح)
🌸سیدہ عائشہ رضی الله عنه بیان کرتی ہیں:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه جماعت کرارہے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ، تو سیدنا ابو بکر رضی الله عنه نے پیچھے ہٹنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہیں، اس کے بعد :
جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم حذاء أبي بكر إلى جنبه، فكان أبو بكر يصلي بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، والناس يصلون بصلاة أبي بكر .
’’رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو بکر رضی الله عنه کے ایک جانب ان کے برابر بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی الله عنه اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابو بکر رضی الله عنه کی ۔‘‘
🌿(صحيح البخاري : 683 ، صحیح مسلم : 418)
ثابت ہوا کہ دو آدمی جماعت کرا رہے ہوں، تو مقتدی امام کی دائیں جانب بالکل برابر کھڑا ہو گا ۔ امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کا یہی مذہب ہے۔
لیکن المبسوط للسرخسي (۴۳/۱)، بدائع الصنائع للكاساني الحنفي (۱۵۹/۱) اور الهداية (۱۲۶/۱، باب الإمامة) میں محمد بن حسن شیبانی کی رائے ہے کہ مقتدی اپنی انگلیاں امام کی ایڑھی کے برابر رکھے۔
اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کی رائے درست ہے، کیوں کہ وہ اسلاف کے موافق ہے اور احادیث اس کی مؤید ہیں۔
🌸علامہ عینی حنفی ( ۸۵۵ھ ) لکھتے ہیں:
لا يتأخر عن الإمام، لأن التأخر خلاف السنة .
’’مقتدی امام سے پیچھے نہ ہٹے، پیچھے ہٹ کر کھڑے ہونا خلاف سنت ہے۔‘‘
🌿(البناية في شرح الهداية : 340/2)
🌸علامہ طحطاوی حنفی (م ۱۲۳۱ھ) کہتے ہیں:
الذي في شروح الهداية والقدوري والكير والبرهان والقهستاني أنه يقف مساوبا له بدون تقدم وبدون تأخر من غير فرجة في ظاهر الرواية .
’’ہدایہ وقد روی کی شروحات، کنز، برہان ، قہستانی میں لکھا ہے کہ ظاہر الروایہ میں مقتدی امام کے برابر کھڑا ہو گا، ذرا بھی آگے پیچھے نہیں ہوگا، نیز امام اور مقتدی کے درمیان کوئی خالی جگہ نہیں ہوگی ۔‘‘
🌿(حاشیة الطحطاوي : 305)
🌸ناصر الستة، علامہ ناصر الدین البانی رحمتہ اللہ (م : ۱۴۲۰ھ ) فرماتے ہیں:
’’سنت طریقہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھنے والا امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو، اس سے آگے ہو، نہ پیچھے۔ بعض مذاہب میں مذکور ہے کہ مقتدی امام سے اتنا پیچھے ہو کر کھڑا ہو کہ اپنے پاؤں کی انگلیاں تقریباً امام کی ایڑھیوں کے برابر رکھے۔ یہ بات جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ بعض سلف سے ثابت ہے کہ وہ امام کے برابر کھڑے ہوتے تھے۔‘‘
🌿(سلسلة الأحاديث الضعيفة : 175/6 ، ح : 2590)
نیز فرماتے ہیں:
’’بعض مذاہب میں مذکور ہے کہ امام سے تھوڑا پیچھے کھڑا ہونا مستحب ہے، بعض اس میں تفصیل بھی کرتے ہیں، لیکن سنت سے اس پر کوئی دلیل نہیں اور یہ احادیث کے مفہوم کے خلاف بھی ہے۔‘‘
🌿(سلسلة الأحاديث الضعيفة :270/1)
🌸مفتی تقی عثمانی صاحب کہتے ہیں :
’’امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کا مسلک یہ ہے کہ مقتدی اور امام دونوں برابر کھڑے ہوں گے، کوئی آگے پیچھے نہیں ہو گا اور امام محمد کے نزدیک مقتدی اپنا پنجہ امام کی ایڑھیوں کی محاذات میں رکھے گا۔ فقہاے حنفیہ نے فرمایا کہ اگر چہ دلیل کے اعتبار سے شیخین کا قول راج ہے لیکن تعامل امام محمد کے قول پر ہے اور وہ احوط بھی ہے، اس لیے کہ برابر کھڑے ہونے میں غیر شعوری طور پر آگے بڑھ جانے کا اندیشہ پایا جاتا ہے، جب کہ امام محمد کا قول اختیار کرنے کی صورت میں یہ خطرہ نہیں ہے، لہذا فتویٰ بھی امام محمد ہی کے قول پر ہے۔‘‘
🌿(درس ترمذی : 489/1-490)
بڑا حوصلہ ہے کہ دلیل بھی اپنے امام کے قول کے موافق دیکھ کر پھر اسے رد کر دیا جائے اور بغیر کسی دلیل کے خلاف سنت قول کو مفتی بہ اور احوط قرار دے کر اپنا لیا جائے!
اگر کوئی متبع سنت یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آجانے کے بعد کسی کی بات نہیں مانی جا سکتی ، تو وہ مطعون قرار دیا جاتا ہے، آخر کیوں ؟