دوہری اذان کا حکم اور پانچوں نمازوں میں اس کا جواز

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، ج1، ص318
مضمون کے اہم نکات

سوال

دوہری اذان کا کیا حکم ہے؟ کیا پانچوں اذانیں دوہری کہی جا سکتی ہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دوہری اذان سنت ہونا

دوہری اذان سنت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس پر واضح دلالت کرتی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

((عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: ” قُل: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثم تعود فتقول أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، الحدیث))
(رواہ مسلم، تنقیح الرواة: ج۱، ص۱۱۳)

اس صحیح حدیث میں صاف الفاظ میں شہادت کے کلمات آٹھ مرتبہ خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائے ہیں۔ اس دوہری اذان کو ترجیع کہا جاتا ہے۔

ترجیع کو سنت قرار دینا

ابو داؤد کی روایت میں اس ترجیع کو صراحت کے ساتھ سنت کہا گیا ہے۔ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"قَال قُلتُ یا رسول اللہﷺ عَلمنی سنة الاذان قال فمسح مقدم راسه پھر فرمایا چار دفعہ اللہ اکبر کہو اور پھر پست آواز کے ساتھ دو دفعہ اشھد ان لا اله الا اللہ اور دو دفعہ اشھد ان محمد رسول اللہ کہو، پھر بلند آواز کے ساتھ شہادتوں کے کلمات کو دو دفعہ دہراؤ اور پھر باقی اذان مکمل کرو۔”

اس حدیث سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دوہری اذان مسنون اذان ہے۔

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی تیسری روایت

ایک اور روایت میں حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے یوں مروی ہے:

((عن أبی محذورة أن النبیﷺ ألا ذان تسع عشرة کلمة والإقامة سبع عشرة کلمة۔))
(رواہ احمد، والترمذی، وأبوداؤد، والنسائی، والدارمی، وابن ماجه وقال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح)

اگرچہ امام بیہقی نے بعض وجوہات کی بنیاد پر اس حدیث کو ضعیف قرار دیا، لیکن امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے ان کی اس تضعیف کو رد کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

اذان کے کلمات کی تعداد کا ثبوت

اذان کا انیس کلمات پر مشتمل ہونا اسی وقت درست بنتا ہے جب شہادت کے کلمات آٹھ مرتبہ پڑھے جائیں۔ ورنہ اذان پندرہ کلمات تک محدود رہتی ہے، جس سے اس صحیح حدیث کا انکار لازم آتا ہے۔ مزید برآں، اس کے خلاف جانا زیادہ ثقہ مقبول روایت کی مخالفت شمار ہوگا، جو کسی صورت درست نہیں۔

نتیجہ

ان صحیح اور حسن احادیث کے اطلاق اور عموم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:

✿ دوہری اذان سنت ہے۔
✿ پانچوں نمازوں کے لیے دوہری اذان کہی جا سکتی ہے۔
✿ جستجو کے باوجود ایسی کوئی حدیث نہیں ملی جو اس عمل کی ممانعت کرتی ہو۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب