دوست کی تنخواہ لینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ مکمل رہنمائی

ماخوذ: احکام و مسائل – خرید و فروخت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 392

سوال

میں ایک جگہ تدریسی خدمات انجام دیتا تھا لیکن بعد میں مصروفیات کی وجہ سے وہ کام چھوڑ دیا۔ میں نے اپنی جگہ ایک دوست کو تدریس کے لیے مقرر کیا اور اس سے کہا کہ اگر وہ مجھے اپنی پہلی تنخواہ دے دے تو یہ اس کی طرف سے ایک مہربانی ہوگی۔ میرے دوست نے اس بات کو خوشی سے قبول کر لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ تنخواہ میرے لیے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورتحال میں بہتر اور مناسب یہی ہے کہ آپ وہ رقم نہ لیں، اور اگر آپ نے وہ رقم وصول کر لی ہے تو اسے واپس کر دینا چاہیے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾