نماز میں نظر کا مسئلہ
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الله عز وجل مقبلا على العبد وهو فى الصلاة ما لم يلتفت فإذا التفت انصرف عنه
”اللہ تعالیٰ بندے کی نماز میں برابر متوجہ رہتا ہے، جب تک بندہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جب بندہ توجہ ہٹا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب الالتفات في الصلاة: 909 – صحیح الترغيب والترهيب للألباني: 554 – حسن)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آنکھیں کھول کر رکھتے تھے۔
(بخاری، کتاب الصلاة، باب إذا صلي في ثوب له أعلام ونظر إلى علمها: 373، 374 – مسلم: 556)
بعض لوگ نماز میں خشوع پیدا کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، یہ خلاف سنت ہے۔
❀ نماز میں سر کو جھکا لینا چاہیے، ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى رفع بصره إلى السماء فنزلت ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [المؤمنون: 2] فطأطأ رأسه
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’وہی لوگ کامیاب ہیں جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔‘ تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر جھکا لیا کرتے تھے۔“
(مستدرک حاکم: 393/2، ح: 3483 – إسناده حسن لذاته)
❀ تشہد میں دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی پر نظر رکھنی چاہیے۔
(نسائی، کتاب التطبيق، باب موضع البصر في التشهد: 1161 – صحیح)
❀ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائز نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات فى الصلاة فقال هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ’یہ تو شیطان کی جھپٹ ہے جو وہ آدمی کی نماز پر مارتا ہے۔‘“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الالتفات في الصلاة: 751)
❀ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا جائز نہیں، اس سے نظر ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء فى الصلاة أو لا ترجع إليهم
(مسلم، كتاب الصلاة، باب النهي عن رفع البصر الخ: 428)
”لوگوں کو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ضرور رک جانا چاہیے، ورنہ ان کی بینائی جاتی رہے گی۔“