1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان انسان ایسا نہیں جو کسی ایسے مسلمان کی عیادت کرتا ہو جس کی موت ابھی نہ آئی ہو، اور پھر اس کے لیے ان الفاظ میں دعا کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے مرض سے شفا عطا کرتے ہیں:
أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ
میں اللہ تعالیٰ سے، جو عظیم عرش کا مالک ہے، سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے۔
[صحيح أبي داؤد: 3106، صحيح البخاري: 5656]
2۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جسے بخار سے تکلیف ہو رہی تھی، تو آپ نے فرمایا:
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
کوئی حرج نہیں، یہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے اگر اللہ نے چاہا۔
[صحيح أبي داؤد: 3092]
3۔ حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں بیمار تھی۔ آپ نے فرمایا: اے ام العلاء! تمہیں خوشخبری ہو! بیشک مسلمان کی بیماری اس کے گناہوں کو ایسے ختم کر دیتی ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کی میل کو ختم کر دیتی ہے۔
[صحيح أبي داؤد: 3092]
یہ اقتباس شخبوط بن صالح بن عبدالھادی المری کی کتاب اپنے آپ پر دم کیسے کریں (نظربد، جادو، اور آسیب سے بچاو اور علاج) سے ماخوذ ہے۔ کتاب پی ڈی ایف میں ڈاونلوڈ کریں۔