دوران خطبہ جمعہ ان 8 باتوں کے بارے میں محتاط رہیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

دوران خطبہ مسائل و آداب

جمعہ کے لیے بیٹھنے کے آداب:

① جمعہ کے لیے پہلے آنے والے سامعین امام کے قریب بیٹھنے کی کوشش کریں۔ امام کے قریب جگہ چھوڑ کر بہت پیچھے بیٹھنا خلافِ سنت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أدنوا من الإمام
”امام کے قریب بیٹھا کرو۔“
(سنن أبي داود، حدیث: 1108)
② بعد میں آنے والے حضرات لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے پہنچنے کی کوشش نہ کریں
③ دو مل کر بیٹھنے والوں کے درمیان گھسنے کی کوشش نہ کریں۔
④ کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں، بلکہ جہاں جگہ مل جائے، وہیں پر بیٹھ جائیں۔
⑤ دوران خطبہ جمعہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کریں، اپنی زبان پر گویا تالا ہی لگا دیں۔
⑥ جسم کے بقیہ اعضاء پر بھی کنٹرول رکھیں اور بے جا حرکات نہ کرتے رہیں۔
احادیث صحیحہ سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ بعض دفعہ آپ حصول ثواب کو آداب کے ساتھ مشروط فرماتے تھے۔
مثلاً حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من اغتسل يوم الجمعة وتطهر بما استطاع من طهر ثم ادهن أو مس من طيب ثم راح فلم يفرق بين اثنين، فصلى ما كتب له، ثم إذا خرج الإمام أنصت، غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى
”جس نے جمعہ والے دن غسل کیا، صفائی کی، تیل لگایا یا خوشبو استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے ایسے روانہ ہوا کہ وہاں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسا، اور جتنی مقدر میں ہے نماز پڑھی، امام کے آنے پر خاموش رہا تو ایسے شخص کے اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ، باب لا يفرق بين اثنين يوم الجمعة، حدیث: 910)
حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں:
نھى النبى صلى الله عليه وسلم أن يقيم الرجل الرجل من مقعده ويجلس فيه، قلت: لنافع الجمعة ؟ قال الجمعة و غيرها
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھے۔ راوی ابن جریج کہتے ہیں: میں نے نافع سے پوچھا: کیا یہ حکم صرف جمعہ کے لیے ہے؟ انہوں نے فرمایا: جمعہ کے لیے بھی اور دیگر کے لیے بھی یہی حکم ہے۔“
(صحیح البخاری، کتاب الجمعہ، باب لا يقيم الرجل أخاه يوم الجمعة ويقعد مكانه، حدیث: 146)

دوران خطبہ تمام مقتدی امام کی طرف منہ کر کے متوجہ ہو کر بیٹھیں:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جیسے علماء صحابہ کرام بھی جب جمعہ کے لیے تشریف لاتے تو امام کی طرف منہ کر کے متوجہ ہو کر بیٹھتے تھے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجمعہ، باب استقبال الناس الامام اذا خطب)
جب علماء خطبہ سن رہے ہیں تو ان کے لیے یہ حکم ہے، تو عوام الناس کو کس قدر انہماک اور توجہ سے بیٹھنا چاہیے۔

دوران خطبہ مصافحہ کرنا، حال پوچھنا، یا کوئی بھی بات کرنا فضول حرکت ہے۔

گزشتہ احادیث سے واضح ہو چکا ہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران پوری توجہ خطیب کی طرف ہونی چاہیے۔ خطیب کے خطبہ جمعہ کی اتنی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی اپنی فہرست بند کر کے با ادب بغور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔ علماء صحابہ بھی غور سے خطبہ سنتے تھے۔ جب فرشتے اور علماء اس حد تک پابند ہیں تو عوام الناس کا دوران خطبہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا یا اس طرح کی فضول حرکات کرنا جمعہ کا ثواب ضائع کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ عطا فرمائے۔ خطباء کو بھی چاہیے کہ اپنے خطبات کی بھرپور تیاری کریں اور انہیں دلچسپ بنائیں۔

دوران خطبہ جمعہ دونوں گھٹنے پکڑ کر نہ بیٹھیں:

خطبہ جمعہ کے دوران انسان کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ اس پر کاہلی طاری کر دے۔ اس لیے کسی بھی ایسے طریقے سے نہ بیٹھیں جس سے کاہلی مترشح ہو رہی ہو۔ مثلاً دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھنا، دونوں گھٹنے پکڑ کر ان کے درمیان سر رکھ کر محو استراحت ہو جانا وغیرہ، اس سے نیند کا اندیشہ ہوتا ہے نیز خطیب کی دل آزاری بھی ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے:
إن النبى صلى الله عليه وسلم نهى عن الحبوة يوم الجمعة والإمام يخطب
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ دونوں ہاتھوں یا کپڑے کے ذریعے گھٹنوں کو باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔“
(جامع الترمذی، کتاب الجمعہ، باب ما جاء في كراهية الاحتباء والامام يخطب، حدیث: 514۔ یہ حدیث حسن ہے)
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔

(صحیح سنن الترمذی: 424)

دوران خطبہ جس شخص کو اونگھ آرہی ہو وہ کیا کرے؟

جس شخص کو خطبہ جمعہ کے دوران اونگھ آرہی ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کر لے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا نعس أحدكم يوم الجمعة فليتحول عن مجلسه ذلك
”جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اونگھ غالب آ رہی ہو تو اسے اپنی اس جگہ کو تبدیل کر لینا چاہیے۔“
(جامع ترمذی، کتاب الجمعہ، باب فیمن ینعس يوم الجمعة أنۃ يتحول من مجلسه، حدیث: 526)
امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

خطبہ کے درمیان آنے والے کے لیے دو رکعات کا حکم:

جو بھی خطبہ کے درمیان آئے وہ دو رکعات ضرور ادا کرے، کیونکہ شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إذا جاء أحدكم يوم الجمعة والإمام يخطب فليركع ركعتين وليتخفف فيهما
”جب کوئی جمعہ کے دن اس وقت مسجد میں آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بالکل ہلکی سی دو رکعات پڑھے اور ان میں تخفیف سے کام لے۔“
(صحیح مسلم، حدیث:59، 875 )

دیر سے آنے والا پہلے بیٹھنے والوں کو تکلیف نہ دے:

جو شخص بعد میں آئے اور اس کے آنے سے پہلے لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہوں تو ان کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی بیٹھنے والوں کے درمیان گھس کر بیٹھنے کی کوشش کرے، کیونکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایسے کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا:
اجلس فقد آذيت
”بیٹھ جا تو نے تکلیف دی ہے۔“
(ابو داؤد)
اور فرمایا:
ولا يفرق بين اثنين
”دو کے درمیان تفریق نہ ڈال۔“
(صحیح البخاری)

جمعہ کے دن دعا کرنا :

جمعہ کے دن کثرت سے دعا کرنی چاہیے کیونکہ اس دن میں ایک مبارک گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
ہادی امت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
إن فى يوم الجمعة لساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله عز وجل فيها خيرا إلا أعطاه إياه
”یقیناً جمعہ کے دن ایسی گھڑی ہے جب کوئی مسلمان اس گھڑی میں اپنے رب سے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہی اس کو عطا فرماتا ہے۔“
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:14، 852)
صحیح العقیدہ ہو اور سنت نبوی کا پابند ہو اور رزق حلال کھانے والا ہو تو اس کی دعا رد نہیں ہوتی۔
جمعہ کے دن دعاء کی قبولیت کی گھڑی کونسی ہے؟ اس بارے میں سیدنا حضرت ابو مسلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر جمعہ کے دن کی مبارک گھڑی کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ وہ بغیر کسی اختلاف کے اٹھ گئے اور ان سب کا یہ فیصلہ تھا کہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہی ہے۔
(زاد المعادص، 391، جلد 1)
گویا کہ یہ بات اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
حضرت عمران بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللهم إني أجبت دعوتك وصليت فريضتك وانتشرت كما أمرتني فارزقني من فضلك وأنت خير الرازقين
اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ کر آ گیا ہوں، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما۔ تو ہی بہتر روزی رساں ہے۔
(ابن کثیر اردو، 417، ج، 5، اشاعت 2003ء، مکتبہ قدوسیہ؛ تفسیر قرطبی 18/108 قبولیت کی گھڑی کے بارے میں چالیس اقوال فتح الباری میں ذکر ہیں، بخوف طوالت ترک کیے جاتے ہیں۔)