دوران حج خواتین چہرے کا پردہ کیسے کریں؟ صحیح احادیث و آثار سے وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس اُم عبد مُنیب کی کتاب حج میں چہرے کا پردہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حج میں چہرے کا پردہ

حج و عمرہ کے دوران احرام کی حالت میں عورت اپنا چہرہ نامحرم مردوں سے چھپائے گی یا ننگا کرے گی۔ یہ مسئلہ خاصی پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔ کیونکہ فقہا کی آراء اس سلسلے میں مختلف نظر آتی ہیں۔ دور حاضر میں خواتین کی اکثریت چہرے کا پردہ عام حالت میں بھی نہیں کرتی۔ لہذا ایسی خواتین کے لیے دوران حج چہرے کا پردہ سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک، انڈونیشیا، ملائیشیا، افریقہ کستان، بنگلہ دیش، انڈیا، ترکی وغیرہ کی خواتین ننگے چہرے کے ساتھ ہی حج کرتی ہیں۔ ایرانی خواتین کا چہرے کے درمیان کا حصہ ناک، آنکھوں کا کچھ حصہ اور ہونٹ عام حالت میں بھی ننگے ہوتے ہیں چنانچہ دوران احرام بھی ان کا پردہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات کی خواتین دینی شعور رکھتی ہیں۔ اور عام حالت میں بھی چہرہ ڈھانپ کر رکھتی ہیں ، اور دوران احرام بھی ان کے چیرے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی بھی بعض خواتین کو عام حالت میں چہرہ ڈھانپتی ہیں، وہ چہرہ ڈھانپ کر ہی حج کے ارکان ادا کرتی ہے۔
بعض علماء کا فتوی ہے کہ دوران احرام چہرے پر کپڑا مس نہیں کرنا چاہیے۔  ورنہ دم(قربانی) دینا پڑے گا۔جو خواتین عام حالات میں اللہ کے حکم حجاب پر جان و دل سے عمل پیرا ہیں، ان کے لئے بحالت احرام چہرہ ننگا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض خواتین تو شدید مجبوری میں بھی اپنے آپ کو نامحرم مرد کے سامنے چہرہ کھولنے پر آمادہ نہیں کر پاتیں۔
ادھر یہ فتوے برابر خلجان و اضطراب کا باعث بنے رہتے ہیں، کہ اگر کپڑا چہرے پر مس ہو گیا تو دم دینا پڑے گا۔ جن خواتین نے دوران احرام چہرے ڈھانپ رکھے ہوتے ہیں انہیں ہر مرد اور عورت دیکھ کر اشارہ کرتا ہے یا زبان سے کہتا ہتا ہے کہ تمہارا حج نہیں ، چہرہ ننگا کرو۔
احرام کی حالت میں عورت کے لیے ممنوع لباس:
عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ :
[لا تتنقب المحرمة ولا تلبس القفازين]
احرام کی حالت میں عورت نہ تو نقاب باند ھے نہ دستانے پہنے۔

[صحیح بخاری، کتاب الحج:1838]،[ابوداود:1825]،[سنن نسائی:2674]،[سنن ترمذی:833]

عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ آپﷺ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے، نقاب، اور ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑوں سے منع کیا۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الحج،:1827]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما عورت کے احرام کے بارے میں کہا کرتی تھیں؟
[لا تلثم ولا تتبرقع و لا تلبس ثوبا بورس ولا زعفران]

( عورت احرام کی حالت میں ) نہ اپنے ہونٹ چھپائے، نہ منہ پر برقع (نقاب) ڈالے، نہ کوئی ایسا کپڑا پہنےجس پر ورس یا زعفران لگی ہو ۔ [بخاری، باب ما يلبس المحرم من الثياب والأردية والازر، رقم الباب:983]

ان احادیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ عورت احرام کی حالت میں چہرے پر نہ نقاب باندھے، نہ ہونٹ چھپانے والا کپڑ الثام اور نہ ہی برقع استعمال کرے۔

عربی میں نقاب سے مراد:

دراصل جب کسی چھوٹے کپڑے کے ٹکڑے سے چہرہ، سر یا ان کا کچھ حصہ چھپایا جائے تو اس فعل کا نام عربی زبان میں نقاب باندھنا ہے۔ عربوں میں چہرہ ڈھانپنے کے لیے جو چھوٹے چھوٹے کپڑے استعمال کیے جاتے ہیں ان کی مختلف شکلیں اور نام ہیں مثلاً ہیں۔
بخنق (وہ کپڑا جو سر پر اس طرح باندھا جائے کہ چہرہ چھپ جائے لیکن سرکے درمیان کا حصہ ننگار ہے)
برقع (وہ کپڑا جو چہرے پر اس طرح باندھا جائے کہ چہرے کے کچھ حصے یا پورے چہرے کو چھپالے)

صواص ( جو آنکھ تک کا حصہ چھپالے)
لثام (جو ہونٹوں تک کا حصہ چھپا لے)
لفام (چہرے کو چھپانے کا کپڑا)
حبشہ ( ایسا نقاب ہے جو چہرے کے ساتھ ساتھ سینے تک کا حصہ ڈھانک لیتا تھا)

یہ سب نقاب اوڑھنے کا رواج عربوں کے ہاں مردوں اور عورتوں میں عام تھا۔ جس کی وجوہات مختلف تھیں۔ مثلاً دشمنوں کی نظر میں آنے سے بچنے کے لئے،،،،،، شاہوں اور امراء کا خود کو عوام سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے،،،،، با حیاء عورتوں کا غیر مردوں سے بچنے کے لئے،،،،،، مجرموں کا اپنی شناخت چھپانے کے لئے،،،،، شاعروں، خطیبوں اور حسین عورتوں کا نظر بد سے بچنے کے لئے،،،،، بد صورت یا جسمانی عیب والوں کا اپنا عیب چھپانے کے لیے نقاب اوڑھنا۔
نقاب کی یہ تمام شکلیں ہمارے معاشرے میں بھی کسی نہ کسی صورت رائج میں مثلا، گرد و غبار سے بچنے کے لئے نقاب، رو مال یا غلاف باندھنا، ہیلمٹ پہننا، ڈاکٹروں کا جراثیم سے بچنے کے لیے، منہ اور ناک پر کپڑا باندھنا، مجرموں کا ڈھاٹا باندھنا یا ماسک چڑھالینا و غیره۔
احادیث کے الفاظ صرف منہ یا سر کو چھپانے کے لیے جو مخصوص کپڑا ہوتا ہے جسے عربی میں نقاب، لثام، لفام، برقع، صواف اور ہمارے ہاں ڈھاٹا باندھنا، ماسک ہیلمٹ وغیرہ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ان سب کو استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں۔
ان احادیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورت احرام کی حالت میں اپنا چہرہ ننگا رکھے۔ حجاب عورت پر حالت احرام میں بھی فرض ہے۔

امہات المومنین اور صحابیات کا طرزعمل:

آئیے! امہات المومنین اور صحابیات رضی اللہ عنہم کا طرز عمل دیکھیں کہ انہوں نے احرام کی حالت میں حجاب کیسے کیا؟ کیوں کہ امت کے لیے یہی اعلیٰ و ارفع طبقہ نمونہ ہے۔
① سیدہ اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہرے مردوں سے چھپاتی تھیں۔

[مستدرک حاکم:454/1]

② سیدہ فاطمہ بنت منذر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ہم اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مل کر جج کرتیں تو حالت احرام میں غیر مردوں سے پردہ کرتیں۔ [مؤطا امام مالك:310،228/1]

③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں:
[كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزونا كشفناه]
حالت احرام میں سوار گزرتے اور ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھیں، پس جب وہ ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی جلباب (بڑی چادر) کو چہرے پر ڈال لیتی اور جب وہ سوار گز ر جاتے تو ہم اسے اٹھا دیتیں۔
[سنن ابی داؤد، باب في المحرمة تغطى وجهها:1833]

اسکی ان میں یزید بن ابی زیاد راوی ضعیف ہے لیکن شواہد میں اس کی سندحسن ہے۔ کیونکہ اسی مضمون کی تائید او پر دی گئی دو روایات مستدرک حاکم، اور موطاء امام مالک والی بھی کرتی ہیں، اور وہ دونوں صحیح ہیں۔

اسماعیل بن ابی خالد اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
ہم 8 ذی الحجہ کو ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں، تو میں نے کہا اے ام المومنین! یہاں ایک عورت ایسی ہے جو کہ حالت احرام میں اپنے چہرے کو چھپانے سے انکار کرتی ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس کا خمار (چادر) اس کے سینے سے اٹھایا اور اس سے اس کا چہرہ ڈھانپ دیا۔ [التلخيص الحبير:272/2]

حافظ محمد زبیر تیمی لکھتے ہیں: وہ عورت حالت احرام میں بعض فرامین کی وجہ سے چہرے کا پردہ نا جائز سمجھ رہی تھی جب کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس کا چہرہ ڈھانپ کر اسے یہ بتلا دیا کہ حالت احرام میں چہرہ ڈھانپا جا سکتا ہے۔[محدث، جولائی:2010]

حجاب حالت احرام میں بھی فرض:

معلوم ہوا کہ چہرے کا پردہ غیر محرم کی موجودگی میں ضروری ہے اور حالت عبادت میں بھی اس کی تخفیف کا کوئی حکم یا اشارا نہیں ملتا۔
حجاب نا محرم مرد اور عورت کے ایک دوسرے سے دور رہنے، ایک دوسرے کو دیکھنے، ایک دوسرے کو تنہائی میں ملنے سے رکنے اور کوئی چیز لیتے دیتے وقت کسی دیوار، کپڑے، لکڑی کے تختے کسی سواری وغیرہ کی آڑ میں رہ کر لینے دینے کےاحکامات کا نام ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھیے:پردے کی اوٹ سے)

جب کسی اور چیز کی آڑ نا محرم کی نظروں سے بچنے کے لئے نہ ہو تو اس وقت عورت اپنے دوپٹے یا چادر سے چہرہ چھپا لینے کی پابند ہے۔ عام حالات میں عورت کا گھر سے باہر نکلتے ہوئے جلباب (ایسی بڑی چادر جوسر، چہرے اور پورے جسم اور زینت کو چھپالے) اوڑھ لینا فرض ہے۔ لہذا جب وہ سفر حج کے لئے نکلے تو بڑی چادر جلباب اوڑھے اور حالت احرام میں بھی وہ اس بڑی چادر کو اوڑھے رکھے گی۔ عام حالت میں بھی غیر مرد سامنے نہ ہوں تو وہ چہرے سے چادر ہٹالیتی ہے لہٰذا احرام کی حالت میں بھی صحابیات اور امہات المومنین کی طرح وہ اپنے چہرے سے جلباب ہٹا سکتی ہے لیکن مردوں کے سامنے اسے چہرہ ڈھانپنا ہوگا۔

نقاب اور حجاب میں فرق:

در اصل اردو میں نقاب کرنے سے مراد حجاب کرنا لیا جاتا ہے اور برقع یا عبایا ہمارے یہاں ایک ایسے کپڑے کا نام ہے جو گھریلو کپڑوں کے اوپر پہن کر عورت باہر نکلتی ہے مثلا ٹوپی برقع، گاؤن، اسکارف وغیرہ۔
سعودی عرب میں ایک لمبی چوڑی چادر کے دونوں سرے باہم سی کر، اسے اس طرح اوڑھا جاتا ہے کہ سر، چہرہ، ہاتھ، ٹخنے اور پاؤں چھپ جاتے ہیں۔ یہ سب دور حاضر میں رائج شکلیں نقاب کے مشابہ نہیں بلکہ جلباب (پردہ کرنے کی بڑی چادر) کے مشابہ ہیں اور جلباب ہی کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔
لہذا یہ حالت احرام میں ممنوع نقاب،لثام یا برقع کی تعریف سے خارج ہیں۔ اردو ترجمہ نگاروں نے نقاب،لثام اور برقع کا ترجمہ نقاب کرنا کیا ہے۔ جس سے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید حج کے دوران چہرے کا پردہ کرنا منوع ہے۔ حالانکہ نقاب (کپڑا) باندھنا ممنوع ہے، حجاب کرنا منع نہیں۔ ایک ترجمہ ملاحظہ کریں:
[لا تنتقب المراة ولا تلبس القفازين]
احرام والی عورت نقاب نہ کرے نہ دستانے پہنے۔
[ابی داؤ د، مترجم ابوانس محمد سرور گوہر مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ]

کسی بھی کپڑے سے چہرے کو چھپانا دوران احرام ممنوع ہونے کا خیال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ترجمہ کرتے وقت اپنے الفاظ کا اضافہ بھی کر دیا گیا۔ سنن ابی داؤد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ
[كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزونا كشفناه]
حالت احرام میں سوار ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم رسول اللہﷺ کے ہم راہ تھیں پس جب وہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے نقاب کو (اس طور سے) منہ پر ڈال لیتی کہ (چہرے کو نہ چھووے) پس جب وہ سوار گزرجاتے تو ہم اسے (پردہ کو) اٹھا لیتیں۔
اس ترجمہ میں (چہرے کو نہ چھو وے) اپنی طرف سے اضافہ ہے۔ حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
بعض علماء نے ترجمہ نقاب باندھنا ہی کیا ہے مثلاً مبشر احمد ربانی،،تفہیم دین،، کتاب میں ممنوعات احرام میں لکھتے ہیں: عورت کا مخصوص برقع یا مخصوص عربی نقاب جو چہرے پر باندھا جاتا ہے استعمال کرنا۔
اسی طرح ،،لا تتبرقع،، کا ترجمہ اور ،،نہ برقع پہنے،، کیا جاتا ہے۔ جس سے ہمارے یہاں رائج برقعے کا تصور ذہن میں آتا ہے اور اس مخصوص عربی نقاب کا تصور نہیں آتا جو صرف چہرے اور سر پر باندھا جاتا ہے کیونکہ وہ ہمارے یہاں مستعمل نہیں ہے۔

چہرے پر کپڑا نہ لگنے کا مسئلہ:

حنفی، شافعی اور بعض اہل حدیث علماء کی رائے یہ ہے کہ بحالت احرام اجنبی مردوں سے عورت اپنا چہرہ ایسے کپڑے سے چھپائے گی، جو چہرے کو مس نہ کرے ور نہ دم لازم آئے گا۔
مالکی فقہاء کی رائے میں ایسے کپڑے سے چہرہ چھپانا حرام ہے، جو باقی لباس کے ساتھ سلا یا بندھا ہوا ہو، ایسے کپڑے سے چہرہ چھپانے پر دم لازم آئے گا۔
عورت چہرہ بھی چھپائے اور کپڑا بھی مس نہ کرے، یہ نا ممکن ہے لہذا خواتین سر پر پگڑی کی طرح موٹا کپڑا لپیٹ کر یا ،،پی کیپ،، جیسی ٹوپی پہن کر او پر سے کپڑا لٹکا کر چہرہ چھپاتی ہیں گو اس میں بہت سی عملی مشکلات ہیں۔
◈ نماز کے دوران ٹوپی یا کپڑے کو ہٹانا پڑتا ہے ورنہ پیشانی زمین پر نہیں لگتی۔
◈ رسول اللهﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ ہیں۔

[صحیح بخاری عن ابن عباس:5885]،[ابو داؤد:4097]،[ترمذی:2785]،[ابن ماجه:1904]
،،پی کیپ،، اور پگڑی مردانہ لباس ہے اور مردوں سے مشابہت کی ذیل میں آتا ہے:
◈ چہرے اور کپڑے کے درمیان میں خلا ہونے کی وجہ سے چہرے کے خدوخال واضح نظر آتے ہیں اور بہت موٹا کپڑا ہو تو خود عورت کو رستہ وغیرہ نظر نہیں آتا۔
◈ یہ کپڑے کو چہرے سے ہٹانے کے لئے مسلسل اپنے ہاتھوں کو مصروف رکھنا پڑتا ہے۔
◈ اس طرح اپنا چہرہ چھپانے والی عورتیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں، جب کہ عورت کا نمایاں اور ممتاز ہونا بھی اس کے حجاب کے تقاضوں کے منافی ہے۔
◈ شریعت نے کوئی بھی ایسا حکم نہیں دیا جس پر عمل کرنا تنگی کا سبب بن جائے،جب کہ چہرے پر کپڑا مس نہ کرنے اور چہرہ چھپانے کی شرط کو ایک ساتھ نبھانا انتہائی مشکل ہے اور ایک لایعنی بوجھ اور تکلف ہے۔
◈ چہرے پر کپڑا مس ہونے کی صورت دم کا واجب ہونا بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ دم صرف حج کے دوران ان کو تاہیوں پر ہے جو سنگین قسم کی ہوں۔
◈ احادیث سے عورت کے چہرے پر کپڑا مس ہونے کا وجوب ثابت ہی نہیں۔ یہ ایک بے سند بات ہے۔
◈ بعض فقہا نے اس روایت سے یہ دلیل کی ہے کہ عورت کا احرام اس کےچہرے میں ہے۔ (دار قطنی، بیھقی، بحوالہ فقہ النساء) اس کے الفاظ غیر واضح ہیں۔
سب سے بڑی بات یہ کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔
◈بعض علماء یہ فتوی دیتے ہیں ،کہ اگر چہرے پر کسی وقت کپڑا لگ جائے تو دم واجب ہے، اور اگر مسلسل لگار ہے تو ایک ہی دم دینا ہوگا۔ یہ فتوی بھی غیر عقلی اور سمجھ سے بالاتر ہے۔

◈بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ صرف ناک پر کپڑا نہیں لگنا چاہیے۔ نا معلوم یہ دلیل کسی حدیث سے لی گئی ہے؟

چہرہ ننگا رکھنے والوں کا موقف:

امام نووی رحمہ اللہ کے خیال میں احرام کی حالت میں عورت کا چہرہ چھپاناحرام ہے۔ (فقہ النساء)
لیکن یہ خیال امہات المومنین اور صحابیات کے عمل کے خلاف ہے۔ کیوں کہ وہ احرام کی حالت میں اجنبی مردوں کے سامنے آنے پر چہرہ چھپایا کرتی تھیں۔

دوران حج چہرہ نگا رکھنے میں بہت سے مضمرات شامل ہیں:

◈ عورت مسلسل احرام کے پانچ دن چہرہ نہیں چھپائے گی، تو اس کے خدو خال مردوں کی نظروں میں نقش ہو جائیں گے۔
◈دور حاضر میں حج گروپ کا طریقہ رائج ہے اور یہ ناگزیر بھی ہے۔ یہ ہر مرد اور عورت کی مجبوری بن چکی ہے، کہ وہ اپنے گروپ کے ساتھ ہی تمام ارکان اداکرے۔ مسلسل ایک ہی گروپ میں رہنے کی وجہ سے غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کے چہرہ شناس ہو جائیں گے۔ کیا فتنوں کے اس دور میں چہرہ شناسی کے بعد بات آگے نہیں بڑھے گی؟ کیا شیطان حرم مکہ میں یا دورانِ احرام انسان کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جاتا ہے، جو اجنبی مرد و عورت کو ورغلا نہیں سکے گا؟ کیا دوران حج کی چہرہ شناسی واپسی کے بعد کوئی برا اثر پیدا نہیں کر سکے گی؟
◈ ہمارے ہاں حج اکٹھا کر لینے کے بعد حاجی بہن بھائی بنے کا رواج بھی عام ہے جو شرعاً جائز نہیں۔
◈ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے حج کیا تھا۔ اب پچاس لاکھ کی تعداد میں حاجی جمع ہوتے ہیں۔ عہد رسالت میں یہ ممکن تھا کہ عورتوں کے خیمے مردوں سے دور لگائے جاتے۔ خواتین مردوں سے الگ تھلگ رہ کر طواف کرتیں۔ مرد اور عورتیں الگ الگ سعی کرتے، رمی جمار کے لیے الگ تھلگ وقت مقرر ہوتا، گزرنے کے راستے الگ الگ ہوتے۔ یوں مردوں کے سامنے سے گزرنے کا امکان خاصا کم تھا، مگر اب ہجوم کی وجہ سے ہر عورت مجبور ہے کہ وہ اپنے محرم مردوں کے ساتھ ساتھ رہے، یوں مرد اور عورتوں کا آمنا سامنا ہر وقت کی ضرورت ہے، سوائے رہائش کی جگہ کے یا منی اور عرفات میں خیموں کی علیحدگی کے طواف، سعی، رمی جمار، گاڑیاں، بسیں گزرنے کے راستے حتی کہ حرم میں نماز کے دوران بھی ایام حج میں مردوں اور عورتوں کا ہمہ وقت آمنے سامنے آتے رہنا نا گزیر ہے اور الگ الگ ہونا ناممکن ہو چکا ہے۔ لہذا فرامین نبوی کی روشنی میں یہی طریقہ درست اور محفوظ ہے کہ عورت کھلے دل کے ساتھ اپنا چہرہ بڑی چادر(جلباب) کے ساتھ چھپائے اور چہرے پر مس کرنے کا وہم دل سے نکال دے۔

چہرہ ڈھانپنے والوں کی رائے:

حنبلی فقہاء کا موقف یہ ہے کہ عورت مردوں کے سامنے آنے پر اپنا چہرہ چھپائے گی چاہے چہرے پر کپڑا لگ جائے کیونکہ ایسا ہونا ممکن ہے جس کی دلیل یہ علماء اسماء رضی اللہ عنہما ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے عمل سے لیتے ہیں اور یہی درست اور حدیث کے مطابق موقف ہے۔ [فقه النساء از محمد عطيه خميس]
◈ امام ابن تیمیہ ہم اللہ فرماتے ہیں:
اگر عورت نقاب کی بجائے کسی اور کپڑے سے چہرہ ڈھانپ لے تو یہ جائز ہے۔ عورت کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ پردے کو اپنے چہرے سےدور رکھے نہ لکڑی کے ساتھ، نہ ہاتھ سے، نہ ہی کسی اور چیز سے۔(مجموع الفتاوی:112/26)
◈ شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محرم عورت کے لیے جب غیر محرم مرد گزریں تو چہرے کو ڈھانپ لینا واجب ہے اس پر نہ کوئی فدیہ ہو گا نہ دم، یہ شرط نہیں کہ کپڑا چہرے کو نہ لگے، جب عورت گھر یا خیمے میں داخل ہو تو اپنے چہرے کوننگا کر لے۔(فتاوی ارکان اسلام مطبوعہ دار السلام)
◈ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت اپنے سر کی طرف سے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر پردہ کرلے کیوں کہ رسول اللہﷺ نے نقاب سے منع کیا ہے، سدل سے منع نہیں کیا۔ (الاعتصام :20ذی قعدہ:1431)
◈ سعودی عرب کی افتاء کمیٹی نے فتوی دیا کہ عورت کا اجنبی لوگوں کی موجودگی میں چہرہ اور اپنا ہاتھ کھولنا حرام ہے، وہ حالت نماز میں ہو، حالت احرام میں ہو یا عام حالات میں۔
جیسا کہ حدیث عائشه که مرد حالت احرام میں ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم اپنی جلباب اپنے چہرے پر لٹکا لیتی تھیں، سے واضح ہے۔ جب حالت احرام کا یہ عالم ہے حالاں کہ اس میں چہرہ کھلا رکھنا مطلوب ہے تو دیگر حالات میں یہ (چہرہ ڈھانپنا) بدرجہ اولی ہوگا۔

(کیا حالت احرام میں چہرہ ڈھانپنا ضروری ہے؟ صلاح الدین یوسف (الاعتصام شماره:20 ذی قعدہ :1431)

◈ مولانا صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں:
احرام کی حالت میں صحابیات کا چہرہ ڈھانپنے کا یہ عمل رسول اللہﷺ کی موجودگی میں ہوا لیکن آپ نے منع نہیں کیا، جس سے حدیث[لا تنتقب المراة] ( عورت نقاب نہ پہنے) کی تخصیص ہو گئی کہ یہ حکم مطلق نہیں۔ نقاب نہ لینے کا مسئلہ صرف اس وقت تک ہے جب تک سامنا نہ ہو جب مردوں کا آمنا سامنا ہو تو پھر عورت کا ننگے (چہرے کے ساتھ) رہنا قطعا جائز نہیں ہے۔
(هفت روزہ الاعتصام،شماره:25 ذی قعده:1431)

دوران حج مردوں سے عورت کا چہرہ نہ چھپانے کی دلیل صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی لی جاتی ہے، جس میں یہ ذکر ہے کہ ایک عورت رسول اللہﷺ سے حج کے مسائل پوچھنے آئی۔ اس وقت آپﷺ کی سواری پر آپ کے پیچھے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بھی سوار تھے۔ وہ اس عورت کے چہرے کی طرف دیکھنے لگے تو آپﷺ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا چہرہ اپنے ہاتھ سے دوسری طرف پھیر دیا۔ اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور ظاہر ہوتے ہیں:
◈ آپﷺ نے رخ پھیر کر فضل رضی اللہ عنہ کی غلطی کی اصلاح کر دی، اور اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ اجنبی مرد کا اجنبی عورت کی طرف دیکھنا حرام ہے چاہے حالت احرام ہی کیوں نہ ہو۔
◈ جب نا محرم مرد و عورت ایک دوسرے کی طرف دیکھیں تو ان کو روکنا حاضرین پر فرض ہے۔ کیوں کہ قرآن حکیم کی یہ آیت مرد وعورت دونوں کے لیے ہے۔
[قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ]،[ وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ۔۔۔۔۔]

[مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں]،[ اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں]
◈ دور حاضر میں کون یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ اگر عورت چہرہ نگار کھے گی تو وہ اجنبی مردوں کی نظروں سے بھی بچی رہے گی، اور اگر کوئی مرد د یکھنے کی جرات کر ہی لے گا تو کوئی اس کو سمجھائے گا یا اس کا رخ پھیر دے گا۔ نیز پچاس لاکھ کے حجاج کرام میں سے کس کو یہ فرصت ہو گی کہ وہ لوگوں کی نظروں کا جائزہ لیتا پھرے کہ کون دیکھ رہا ہے، تا کہ اسے روکا جا سکے؟ نیز وہ کس کس کو روکے گا؟
◈ دور حاضر میں پچاس لاکھ حاجیوں میں سے مردوں کو اس بات کا پابند کرنا کہ وہ عورتوں کی طرف نہ دیکھیں نا ممکن ہے۔ لیکن عورت کو امہات المومنین اور صحابیات کے طریقے، دوران حج جلباب (بڑی چادر) چہروں پر کر لینے کے عمل کی ترغیب و تلقین کرنا آسان اور ممکن ہے۔
◈ صحابہ کرام انسان تھے، ان سے بھی غلطی ہو جاتی تھی ان کی غلطی کی اصلاح پوری امت کے لیے تا قیامت ایک سبق بن جاتی تھی۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ غلطی پوری امت کے مردوں کے لیے دوران احرام عورتوں سے نظر بچا کر رکھنے کا ایک ابدی سبق بن گئی ۔

چہرہ ڈھانپنے کا طریقہ:

عورت سر سے چہرے پر اپنی بڑی چادر (جلباب) کا پلو نیچے کر کے گھونگھٹ نکال لے۔
چہرے پر بڑی چادر کا پلو لٹکا کر بکسوا لگا لے یا بٹن لگا لے یا گرہ لگائے یا کپڑے کو اندر اڑس لے تا کہ بار بار چادر نہ کھلے۔
نیچے بڑی اور کھلی کوٹ نما قمیض یا گاؤن پہن کر او پر ایسا کپڑا سر کے اوپر سے گزار کر لے لے جو چہرے گردن، کندھے، کمر، سینے اور پیٹ پر کھل کر آ جائے چاہے وہ سلا ہو یا ان سلا اور اس سے چہرہ بھی ڈھانپ لے۔

حاصل کلام

قرآن حکیم میں عورت پر باہر نکلتے وقت جلباب (ایسا کپڑا جو اس کے جسم سرتا پاؤں چہرے اور زینت کو ڈھانپ لے) کو اوڑھنا فرض قرار دیا گیا۔لہذا عورت جب احرام کی حالت میں گھر سے باہر نکلتی ہے، تو بھی اس پر جلباب سے جسم اور چہرہ ڈھا نپنا فرض ہے۔ رسول اللہﷺ کی احادیث میں دوران حج جلباب نہ اوڑ ھنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔
دوران حج عورت پر نقاب (سلا ہوا وہ مخصوص کپڑا جو صرف چہرے کو چھپانے کے کام آتا ہے) باندھنا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح دستانے یا زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنناممنوع ہے، یا جس طرح مرد پر دورانِ احرام سر ڈھانپنا یا سلے ہوئے کپڑے پہنایا ٹخنے ڈھانپ لینے والے جوتے پہننا ممنوع ہے۔
نقاب ایک مخصوص کپڑے کا نام ہے، حجاب کا نام نہیں۔ دوران احرام عورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہے لیکن حجاب دوران حج ہو یا اس کے علاوہ ہر حالت میں اس پر فرض ہے۔ لہذا وہ دوران احرام بھی حجاب کرنے کی پابند ہے۔

حجاب سے مراد یہ ہے کہ پردے کے تمام احکام پر اپنی جزئیات سمیت عمل کیا جائے، مثلا، چہرہ چھپانا، اختلاط سے بچنا، نظر بچانا، تنہائی سے بچنا، غیر ضروری بات چیت سے بچنا، لوچ دار لہجے سے پر ہیز کرنا، بھڑکیلے چمکیلے کپڑےکو چھپانے کے لیے جلباب (چادر) اوڑھنا۔
دور حاضر میں بعض خواتین جلباب (بڑی چادر) کی بجائے پاؤں تک لمبا کوٹ (گاؤن) اور سر پر بڑا دو پٹہ اسکارف یا دو پٹے کو گولائی کی صورت سی کر سر پر باندھ لیتی ہیں۔ اسے ہماری پاکستانی زبان میں برقع کہا جاتا ہے۔ بعض خواتین چادر پر ہی چھوٹا ساٹکڑاسی کر بٹن یا اسٹک لگا لیتی ہیں تا کہ چہرہ چھپایا جاسکے۔ یہ سب پردے کی درست صورتیں ہیں،اور احرام کی حالت میں بھی ان سے چہرہ چھپانے کا کام لیا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے جو عمل دوران حج ملتاہے وہ یہی ہے کہ دوران حج وہ اپنی جلباب (بڑی چادر) کو مردوں کے سامنے آنے پر چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔ جب مرد چلے جاتے تو چہرے سے ہٹا لیتی تھیں۔ یہی طریقہ حج کے دوران ہر خاتون کو اختیار کرنا چاہئے۔

جلباب یا برقع کی خصوصیات:

جلباب (بڑی چادر) یا اردو زبان میں برقع کے لیے کپڑا استعمال کیا جائے شرعا اس میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
کپڑا موٹا ہوتا کہ نیچے پہنے ہوئے کپڑے یا چہرے کے خدو خال نظر نہ آئیں۔
اگر سلائی کی ہوتی ہے تو تنگ نہ ہو کہ جسم کے اعضاء کی ساخت نمایاں ہو۔
ایسے کپڑے کا نہ ہو جو جسم سے چپک جاتا ہے کیونکہ اس سے بھی اعضاء کی ساخت نمایاں ہوتی ہے۔ پرکشش، خوب صورت اور جاذب نظر رنگ نہ ہو۔
اس پر کوئی خوب صورتی، کڑھائی، سنجاف، خوب صورت بٹن، گوٹا، جھالر، پھول، ستارے، موتی وغیرہ نہ ہوں ورنہ یہ بھی آرائش بن جائیں گے، جب کہ جلباب، بڑی چادر یا ہمارے ہاں کا عرف عام میں برقع یا گاؤن زینت چھپانے کے لیے ہے۔
اتنا چھوٹا نہ ہو کہ سرسے لے کر پیروں تک کو چھپانے کا کام نہ دے سکے۔
اگر چادر یا جلباب کی بجائے گاؤن، اسکارف یعنی دو حصوں پر مشتمل ہے تو پھر ایک ہی رنگ پر دونوں کپڑے مشتمل ہوں ورنہ یہ کپڑا جلباب کے تقاضے پورے نہیں کرے گا،اور جاذب نظر بن جائے گا مختلف رنگوں کی وجہ سے۔
گاؤن اسکارف کی صورت سر پر لیا جانے والا کپڑا، رومال یا اسکارف اتنا کھلا اور لمبا چوڑا ہونا چاہیے کہ وہ سینے اور پیٹ پیچھے سے کندھوں کے نیچے تک کا حصہ ڈھانپ لے۔ (مزید تفصیل کے لیے عورت کا لباس)

توجہ کیجئے:

حجاب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے اس کی پابندی کرنا فرض ہے۔ حج پر جانے والی بعض خواتین احرام اترتے ہی دیدہ زیب لباس، بناؤ سنگھار اور کنگھی چوٹی کر کے بغیر حجاب کے یا مختصر چادر کے ساتھ باہر نکلتی ہیں۔ مختلف ڈیزائنوں اور فیشنوں والے کپڑے پہننے کا اہتمام کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ احرام اترنے کے بعد احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن عورت پر مکمل حجاب کرنے کی پابندی تو ہر حالت میں اور ہر شہر میں ہے۔ حج صفائی قلب، صفائی گناہ کا نام ہے، اگر حج کے بعد بھی حجاب کی طرف اپنی طبیعت مائل نہیں کر سکے اور خود کو اس کا پابند نہیں کر سکے تو اس کا مطلب ہے کہ حج کے مقصد کو ہی نہیں سمجھا۔
نیز حج کا سفر نہ تو پکنک ہے نہ سیر و تفریح، یہ خالص عبادت کا سفر ہے اور حرم مکہ اور حرم مدینہ شہر عبادت ہیں، یہاں اپنے آپ پر تضرع، عاجزی اور گدائی کا رنگ ہی غالب رکھا جائے تو بہتر ہے۔
عورتیں احرام کے اترنے کے بعد اس طرح بن ٹھن کر رہتی ہیں، کہ مردوں کے لیے اس فتنے سے خود کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بہت سے مردوں نے اس کی شکایت بھی کی ہے، بلکہ بعض مردوں کو اس بات پر پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا گیا کہ ہم حج کرنے اس شہر حرم میں آئے ہیں۔ بنی سنوری عورتوں کے قدم قدم پر نظارے کرنے کے لیے تو نہیں آئے؟
عورتوں کی ایک عادت بازاروں کے غیر ضروری چکر لگانا ہے۔ اپنے شہر میں بھی عورت کا بازاروں میں جانا یا بغیر ضرورت گھر سے باہر نکلنا اچھا نہیں، جب کہ سفر حج کے لیے جاتے ہوئے خریداری اور بازار کے چکروں میں مصروف رہنا ایک مسلمان اور باحیاء عورت کو زیب نہیں دیتا۔(تفصیل کے لئے دیکھیں:ہمارا کتابچہ عورتیں اور بازار)

رب کریم ہمیں حیادارانہ زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!