دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے
❀ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾
”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ مدت اس کے لیے ہے جو پوری مدت دودھ پلانا چاہے۔“
(2-البقرة:233)
فائدہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال ہے بعض علمائے کرام اڑھائی سال کہتے ہیں کہ دلیل وہ آیت پیش کرتے ہیں قرآن مجید میں آتا ہے۔
❀ ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرً﴾
”اس کے حمل کا اور دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے (اڑھائی سال) کا ہے۔“
(46-الأحقاف:15)
میرے بھائیو! اس آیت میں تو حمل اور دودھ چھڑانے دونوں کی مدت اڑھائی سال ذکر ہوئی ہے صرف دودھ چھڑانے کی نہیں۔
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کم از کم حمل چھ مہینے یعنی نکاح سے چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو بچہ حلال ہی کا ہو گا حرام کا نہیں۔ اس لیے قرآن نے مدت رضاعت دو سال (24 مہینے) بتلائی ہے۔
سورة لقمان: 14 ، البقرة : 233
اس حساب سے مدت حمل چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔ (یعنی کم از کم)