مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دوبہنوں کو ایک نکاح میں رکھنے کی ممانعت کی حکمت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 435

سوال

دوبہنوں کو اکٹھے نکاح میں رکھنے کی منع میں کیا حکمت ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے سوالات کا اصل مقصد اکثر اوقات صرف اعتراضات میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، اس کے علاوہ ان کا کوئی اور فائدہ نہیں۔ اگر کوئی مسلمان ایسے سوالات کرے تو اسے اس سے بچنا چاہئے۔ اور اگر کوئی ملحد یہ سوال کرتا ہے تو پہلے اسے اسلام کو سچا ماننا چاہئے، پھر کسی حکمت کے بارے میں پوچھنا مناسب ہوگا۔ کیونکہ جو شخص اسلام کو مانتا ہی نہیں، اس کا اسلام کی کسی بات میں حکمت دریافت کرنا محض اپنے اور دوسروں کے وقت کا ضیاع ہے۔

تاہم اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام کی اس ممانعت کے پیچھے عظیم حکمت کارفرما ہے۔

اصل وجہ اور حکمت

❀ حقیقت یہ ہے کہ دو سوکنوں کے درمیان اکثر اچھی بن نہیں پاتی۔

❀ کئی دفعہ یہ مخالفت اور کشیدگی حد سے بڑھ جاتی ہے۔

❀ بعض اوقات ایک سوکن دوسری کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتی ہے۔

❀ اسلام ایسی عداوت، دشمنی اور قطع تعلقی کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

❀ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا ہے۔

اگرچہ بظاہر دونوں ایک دوسرے کو نقصان نہ بھی پہنچائیں، پھر بھی:

❀ ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض اور نفرت سے بھر جاتے ہیں۔

❀ یہ کیفیت اسلام میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ رشتہ داری کے ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے۔

❀ اور رشتہ داری توڑنا اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔