دن کے وقت احتلام ہو گیا تو کیا روزہ ٹوٹ گیا؟
سوال :
جب رمضان میں دن کے وقت روزہ دار کو احتلام ہو جائے تو کیا وہ اس کے روزہ کو باطل کر دے گا یا نہیں؟ اور کیا اس پر جلد غسل واجب ہے؟
فتوی :۔
احتلام روزہ کو باطل نہیں کرتا کیونکہ یہ بات روزہ دار کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ البتہ اس صورت میں غسل واجب ہے، جبکہ منی لگی ہوئی دیکھ لے۔ اگر اسے نماز فجر کے بعد احتلام ہو اور وہ ظہر کی نماز کے وقت تک غسل کو مؤخر کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر وہ رات کو اپنی بیوی سے صحبت کرے اور طلوع فجر کے بعد غسل کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جماع سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر نہاتے اور روزہ رکھتے۔ حیض اور نفاس والی عورتوں کو بھی یہی صورت ہے۔ اگر وہ رات کو پاک ہو جائیں اور طلوع فجر کے بعد نہائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ان کا روزہ صحیح ہوگا لیکن انہیں اور اسی طرح جنبی کو بھی یہ جائز نہیں کہ وہ طلوع آفتاب یا نماز فجر کو مؤخر کرے۔ بلکہ ان سب پر واجب ہے کہ نہانے میں جلدی کریں تاکہ طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کو اپنے وقت پر ادا کر سکیں۔ اور مرد پر لازم ہے کہ جنابت کے غسل سے جلدی فارغ ہو اور فجر کی نماز باجماعت ادا کر سکے اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔