مضمون کے اہم نکات
سوال
دنیا میں غنی اور فقیر، امیر اور غریب کے رزق کا فرق کیوں ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس سوال کا جواب سوال نمبر 2 میں تقدیر کے متعلق مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ضمناً پیش کیا جا چکا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ:
◄ یہ فرق اور امتیاز ابتلاء اور آزمائش کے لیے ضروری تھا۔
◄ اگر سب لوگ امیر اور غنی ہوتے تو باہمی تعاون، ایک دوسرے کی مدد اور ہمدردی کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
◄ اسی فرق کی بنیاد پر ہی زکوٰۃ، صدقات، خیرات وغیرہ کا نظام قائم کیا گیا تاکہ غریب، مسکین اور محتاج کی مدد ہو سکے اور خیر کے کاموں پر خرچ کیا جا سکے۔
یہ تمام چیزیں اسی فرق اور امتیاز پر مبنی ہیں۔
قرآن کی وضاحت
گزشتہ صفحات میں سورۃ انعام کی وہ آیت نقل کی گئی ہے جس میں اس اونچ نیچ کی علت بیان ہوئی ہے۔ غور کیجیے، اگر سب لوگ مالدار ہوتے تو:
◄ نہ زکوٰۃ و خیرات کا وجود ہوتا،
◄ نہ ہی ہسپتال، تعلیمی ادارے اور رفاہ عامہ کے دوسرے کام وجود میں آتے۔
آج دنیا ہر اس شخص کی تعریف کرتی ہے جو غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتا ہے، اپنوں اور غیروں کی ضرورت کے وقت تعاون کرتا ہے، اور رفاہی منصوبوں میں خرچ کرتا ہے۔
یہاں تک کہ ملحد بھی ایسے فیاض شخص کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتے۔ اگر یہ تقسیم نہ ہوتی تو دنیا میں فیاضی اور دوسروں کو نفع پہنچانے والے لوگ ہی موجود نہ ہوتے۔
کیا ایسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا سے فیاض اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے والے انسان ختم ہو جائیں؟
آزمائش کا پہلو
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کو باقی معاملات میں جس طرح آزمائش میں ڈالا ہے، ویسے ہی ذات و صفات کے شعبے میں بھی آزمایا ہے تاکہ ظاہر ہو:
◄ فقیر اپنی غربت پر صبر، شکر، تحمل اور برداشت کرتا ہے یا نہیں؟
◄ امیر اپنی ملکیت سے ناداروں کی مدد کرتا ہے یا نہیں؟
◄ خیر کے کاموں میں انفاق میں حصہ لیتا ہے یا نہیں؟
پھر اعتراض کس بات پر ہے؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ:
◄ ہر انسان دوسرے کا محتاج ہے۔
◄ ہر شخص کو دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے۔
◄ اگر ایسا نہ ہوتا تو، جیسا کہ عقل کے دشمنوں کا گمان ہے، دنیا سے باہمی تعاون ختم ہو جاتا اور کوئی بھی دوسرے کو چاہنے والا باقی نہ رہتا۔
بے بنیاد سوالات
ایسے سوالات کرنا بالکل بے معنی ہے۔ کوئی نادان یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ:
◄ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیمار اور تندرست کیوں پیدا کیے؟ سب کو صحت مند کیوں نہ پیدا کیا؟
◄ سب کو مرد یا سب کو عورت کیوں نہ بنایا؟
◄ سب کو گورا کیوں نہ بنایا؟
◄ سب کو ہمیشہ زندہ کیوں نہ رکھا؟
لیکن ہر سمجھدار انسان جانتا ہے کہ یہ سوالات فضول اور بے ہودہ ہیں۔
اختلاف کی برکت
در حقیقت اسی اختلاف کی وجہ سے دنیا دلکش اور خوبصورت ہے:
گلہائے رنگ رنگ سے ہے رونق چمن
اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
ورنہ اگر مکمل یکسانیت ہوتی تو دنیا ایک لمحہ بھی رہنے کے قابل نہ رہتی۔
منکرین کا مقصد
حقیقت یہ ہے کہ ایسے اعتراض کرنے والوں کا اصل مقصد یہ ہے کہ نعوذباللہ، اللہ کا وجود ہی نہیں ہے۔ ان کا گمان ہے کہ انسان اپنی مرضی سے سارے کام کرتا ہے اور یہ فرق اور امتیازات اسی نے خود بنا رکھے ہیں۔
لہٰذا ان کے ساتھ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے وجود پر گفتگو کی جانی چاہیے۔ اگر وہ اللہ کے وجود کا اقرار کر لیں تو باقی سوالات خود بخود حل ہو جائیں گے۔ بصورت دیگر ان کے ساتھ گفتگو بیکار ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب