❀ مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :
” آج کل دنیا میں وہ چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں، جن کا خیر القرون میں نام ونشان بھی نہ تھا اور جن کے بغیر اب دنیاوی زندگی مشکل ہے۔ ہر شخص ان کے استعمال پر مجبور ہے۔ ریل، موٹر، ہوائی جہاز ، سمندری جہاز، تانگہ، گھوڑا گاڑی۔ پھر خط، لفافہ، تار، ٹیلیفون، ریڈیو، لاؤڈ سپیکر وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اور ان کا استعمال بدعت ہے اور انہیں ہر جماعت کے لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔ بولو دیوبندی وہابی بغیر بدعت حسنہ کے دنیاوی زندگی گزار سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں !“
(جاء الحق : 211)
جو چیزیں مقاصد (اعتقادات و عبادات ) میں داخل نہ ہوں، بلکہ مبادی سے تعلق رکھتی ہوں، ان کے متعلق شرعی ممانعت بھی وارد نہ ہو، تو کسی مصلحت کے لئے انہیں مقرر کرنا جائز ہے، مثلاً : ہجری سال مقرر کرنا ، مسجد میں سپیکر لگوانا، تبلیغ دین کے لئے دینی محافل و مجالس کا انعقاد کرنا اور کتابوں کی اشاعت کرنا وغیرہ، ان امور کے جائز ہونے سے ہر قسم کے نئے کاموں کا جواز کشید کرنا سراسر لاعلمی کا مظاہرہ ہے۔
❀ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م : 790ھ) فرماتے ہیں :
إن سكوت الشارع عن الحكم فى مسألة ما، أو تركه لأمر ما على ضربين :
أحدهما: أن يسكت عنه أو يتركه لأنه لا داعية تقتضيه، ولا موجب يقرر لأجله، ولا وقع سبب تقريره، كالنوازل الحادثة بعد وفاة النبى صلى الله عليه وسلم، فإنها لم تكن موجودة ثم سكت عنها مع وجودها، وإنما حدثت بعد ذلك، فاحتاج أهل الشريعة إلى النظر فيها وإجرائها على ما تبين فى الكليات التى كمل بها الدين. وإلى هذا الضرب يرجع جميع ما نظر فيه السلف الصالح مما لم يبينه رسول الله صلى الله عليه وسلم على الخصوص، مما هو معقول المعنى، كتضمين الصناع، ومسألة الحرام، والجد مع الإخوة، وعول الفرائض، ومنه جمع المصحف، ثم تدوين الشرائع، وما أشبه ذلك مما لم يحتج فى زمانه عليه السلام إلى تقريره، لتقديم كلياته التى تستنبط منها، إذا لم تقع أسباب الحكم فيها، ولا الفتوى بها منه عليه الصلاة والسلام، فلم يذكر لها حكم مخصوص. فهذا الضرب إذا حدثت أسبابه فلا بد من النظر فيه وإجرائه على أصوله، إن كان من العاديات، أو من العبادات التى لا يمكن الاقتصار فيها على ما سمع، كمسائل السهو والنسيان فى أجزاء العبادات. ولا إشكال فى هذا الضرب، لأن أصول الشرع عتيدة، وأسباب تلك الأحكام لم تكن فى زمان الوحي، فالسكوت عنها على الخصوص ليس بحكم يقتضي جواز الترك أو غير ذلك، بل إذا عرضت النوازل روجعت بها أصولها فوجدت فيها، ولا يجدها من ليس بمجتهد، وإنما يجدها المجتهدون الموصوفون فيي علم أصول الفقه.
والضرب الثاني: أن يسكت الشارع عن الحكم الخاص، أو يترك أمرا من الأمور، وموجبه المقتضي له قائم، وسببه فى زمان الوحي وفيما بعده موجود ثابت، إلا أنه لم يحدد فيه أمر زائد على ما كان فى ذلك الوقت. فالسكوت فى هذا الضرب كالنص على أن القصد الشرعي فيه أن لا يزاد فيه على ما كان من الحكم العام فى أمثاله، ولا ينقص منه، لأنه لما كان المعنى الموجب لشرعية الحكم العملي الخاص موجودا، ثم لم يشرع، ولا نبه على استنباطه، كان صريحا فى أن الزائد على ما ثبت هنالك بدعة زائدة، ومخالفة لقصد الشارع، إذ فهم من قصده الوقوف عند ما حد هنالك، لا الزيادة عليه، ولا التقصان منه.
”شارع علیہ السلام کا کسی مسئلہ میں سکوت یا ترک دووجہ سے ہوسکتا ہے۔
① اس کو ترک کرنے کا کوئی داعیہ یا قرینہ نہیں تھا اور نہ اس عمل کی ضرورت محسوس ہوئی تھی، جیسا کہ وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے حالات، یہ آپ کی زندگی میں موجود نہ تھے، اگر آپ کی زندگی میں موجود ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے سکوت اختیار نہیں کر سکتے تھے، بعد میں جب یہ حالات پیدا ہوئے تو اہل علم نے غور وخوض کے بعد کلیات دین سے استنباط کر کے ان حالات میں معاملت کا طریق واضح کر دیا۔ اس قسم میں وہ تمام امور آجائیں گے، جنہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر بیان نہیں فرمایا اور سلف صالحین نے ان میں غور و خوض کیا ہے۔ جیسے چیز ضائع ہونے کی صورت میں کاری گر کو ضامن قرار دینا، حرام کا مسئلہ، بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی وراثت ، فرض حصہ کا عول، قرآن کو ایک کتابی شکل میں جمع کرنا ، تعلیمات دین کو مدون کرنا ۔
اور اس طرح کے وہ تمام امور، جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی ، البتہ وہ کلیات موجود تھیں، جن سے ایسے امور کا استنباط کیا جاسکتا تھا، جب کسی حکم کے اسباب عہد نبوی میں موجود نہ ہوں، اس کی وضاحت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوی اور حکم نہ ملے اور اب ایسے اسباب پیدا ہو چکے ہوں کہ ان امور کا حکم واضح کیا جائے تو ان میں غور وفکر کر کے ان کی اصل پر جاری کرنا ضروری ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ امور معاملات سے متعلقہ ہوں یا ان عبادات سے ، جن میں سماع پر اکتفا کرنا ممکن نہیں ہوتا ، جیسے عبادات میں سہو و نسیان کے مسائل ہیں۔ ایسے احکامات کا جاری کرنا جائز ہے، اس کے جواز میں کوئی اشکال نہیں، کیوں کہ شریعت کے اصول موجود ہیں، لیکن ان احکام کے اسباب نزول وحی کے دور میں موجود نہ تھے ۔
شارع نے ان کا تفصیلی حکم بیان نہیں کیا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اب ان کو ترک کر دیا جائے ، بلکہ جب بھی مسائل درپیش ہوں گے، شریعت کے اصول کی طرف رجوع کیا جائے گا، یہ مسائل ان اصول میں مل جائیں گے، لیکن صرف ان کو جو علم فقہ سے بہرہ ور اجتہاد کے شناور ہوں گے۔
② نزول وحی اور بعد کے زمانے میں داعیہ وسبب ہونے کے باوجود شارع علیہ السلام کا کسی مسئلہ کے مخصوص حکم سے سکوت کرنا یا کسی کام کو چھوڑ دینا، نص کی حیثیت رکھتا ہے، گویا شریعت کا منشا یہ ہے کہ دیگر معاملات کی طرح حکم کو عام سمجھتے ہوئے اس میں کمی یا زیادتی نہ کی جائے ۔ کیوں کہ سبب کے موجود ہونے کے باوجود جب کوئی شرعی عملی حکم مشروع نہ ہوا ہو اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنباط کرنے کا کہا ہو، تو یہ واضح نص ہو گی کہ ثابت حکم میں زیادتی بدعت اور شریعت کے منشا کی مخالفت ہے، کیوں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کی حد پر توقف کیا جائے ، کمی یا زیادتی نہ کی جائے ۔ “
(الاعتصام : 281/2- 282)
کیا بدعت میں صرف دینی احکام کی قید درست ہے؟
❀ مفتی نعیمی صاحب لکھتے ہیں :
”دینی کام کی قید لگانا محض اپنی طرف سے ہے ۔ احادیث صحیحہ اور اقوال علما وفقہا اور محدثین کے خلاف ہے، حدیث میں ہے : كل محدثة بدعة (مشکوۃ باب الاعتصام ) ”ہر نیا کام بدعت ہے“۔ اس میں دینی یا دنیاوی کی قید نہیں لگائی۔“
(جاء الحق : 212)
نعیمی صاحب تو جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں، لیکن ان کے معتقدین یا حلقہ احباب سے سوال ہے کہ وہ ”احادیث صحیحہ اور اقوال علما وفقہا“ اور محدثین کہاں ہیں؟
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحدث فى ديننا ما ليس منه فهو رة .
”ہمارے دین میں جاری کی جانے والی ہر نو آموز چیز ، جس کی اصل اس میں نہ ہو، باطل ہے۔“
(جزء لوين : 71، شرح السنة للبغوي : 103، وسنده صحيح)
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
إياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة .
”دین میں نت نئے کام مت نکالیں، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
(سنن أبي داود : 4607، سنن الترمذي : 2676، سنن ابن ماجه : 44، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ ، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5) ، حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (اتباع السنة واجتناب البدع :2) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ بزار رحمہ اللہ (جامع بيان العِلم وفَضْلِهِ لابن عبد البر : 2306) نے ثابت ”صحیح“ اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ
(جامع بيان العلم وفَضْلِهِ : 2306) نے ”ثابت“ کہا ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ دین میں بدعات داخل کرنا ناجائز اور ممنوع ہے اور ہر بدعت ضلالت و گمراہی ہے، یہاں دین کی قید موجود ہے، لہذا بدعت اس نئے کام کو کہا جائے گا، جو دین میں نکالا جائے ، نہ کہ دنیا میں۔
❀ سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سيلي أموركم بعدي رجال يطفئون السنة، ويعملون بالبدعة، ويؤخرون الصلاة عن مواقيتها فقلت : يا رسول الله إن أدركتهم، كيف أفعل؟ قال : تسألني يا ابن أم عبد كيف تفعل؟ لا طاعة، لمن عصى الله.
”عنقریب میرے بعد آپ کے معاملات ایسے لوگوں کے ہاتھ لگ جائیں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے اور بدعات اپنا ئیں گے، نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے، عرض کی: اللہ کے رسول ! میں ان کا زمانہ پاؤں، تو کیا کروں؟ فرمایا : ابن ام عبد ! مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کروں؟ اللہ کے نافرمان کی اطاعت نہیں۔“
(مسند الامام أحمد : 399/1 ، سنن ابن ماجه : 2865، وسنده حسن)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدعت کی مذمت فرمائی ہے، معلوم ہوا کہ بدعت معصیت ہے اور بدعتی اللہ کا نافرمان ، ہر بدعت ،خواہ اس کا تعلق اعتقاد سے ہو یا عمل سے، وہ مذموم ہے، یاد رہے کہ ہر لغوی بدعت مذموم نہیں، یہ کہنا کہ بدعت میں ”دینی کام کی قید لگا نا محض اپنی طرف سے ہے۔“ بھی لاعلمی ہے۔
❀ حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ما ابتدع قوم بدعة فى دينهم إلا نزع الله من سنتهم مثلها ثم لا يعيدها إليهم إلى يوم القيامة .
”جب کوئی قوم دین میں بدعت ایجاد کرتی ہے، تو اللہ ان سے ایک سنت اٹھا لیتے ہیں، پھر تا قیامت وہ سنت ان کے پاس واپس نہیں آتی ۔“
(سنن الدارمي : 99، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبي نعيم : 73/6، المعرفة والتاريخ للفسوي : 386/3، وسنده صحيح)
❀ مزید فرماتے ہیں :
ما ابتدعت بدعة إلا ازدادت مضيا، ولا تركت سنة إلا ازدادت هربا .
”بدعت جب شروع ہو جائے، تو بڑھتی چلی جاتی ہے اور سنت ترک کر دی جائے ، تو دور سے دور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔“
(حلية الأولياء للأصبهاني : 72/6، حسن)
ایک ثقہ امام ومحدث دینی بدعت کی قید لگا کر اس کے نقصانات سے امت کو آگاہ کر رہے ہیں ۔ سنت کے مقابلہ میں بدعت کا ذکر واضح پتہ دے رہا کہ بدعت جو ہوگی ، وہ دین ہی میں ہوگی ، دنیا میں نہیں ہوگی۔