دمہ کی دوا ناک کے ذریعے سونگھنے سے روزے کا حکم؟
سوال :۔
دمہ کے مریض ناک کے ذریعے دوائی سونگھ کر استعمال کرتے ہیں کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
فتوی :۔
دمہ کی دوا جسے مریض ناک کے ذریعہ سونگھ کر استعمال کرتا ہے وہ دوا ہوا کی نالی کے ذریعہ پھیپھڑوں تک پہنچ جاتی ہے معدہ تک نہیں پہنچتی۔ دوا کا اس طرح استعمال نہ کھانا پینا ہے اور نہ یہ کھانے پینے کے مشابہ ہے بلکہ یہ تو دوا کے اس قطرہ کے مشابہ ہے جسے آلہ تناسل میں ڈالا جاتا ہو نیز یہ مختلف زخموں پر رکھی جانے والی دوا سرمہ اور اس ٹیکہ وغیرہ کے مشابہ ہے، جس سے دوا دماغ یا بدن میں منہ اور ناک کے راستہ کے علاوہ کسی اور طریقہ سے پہنچتی ہے۔ ان اشیاء کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے کہ ان کے استعمال سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے کسی بھی چیز کے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے بعض سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور بعض سے نہیں ٹوٹتا جب کہ اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ ان میں کسی بھی چیز کا نام کھانا پینا نہیں ہے لیکن جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ان اشیاء سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے وہ ان کو کھانے پینے کے حکم میں سمجھتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک چیز اپنے اختیار سے پیٹ میں جاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
بالغ فى الاستنشاق إلا أن تكون صائما
”خوب مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھاؤ الا یہ کہ تم روزے دار ہو۔“
(سنن ابی داود : 2366 ، جامع الترمذی : 788 ، سنن ابن ماجہ : 407، سنن النسائی : 87)
تو اس حدیث میں روزہ دار کو مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانے سے اسی لیے تو منع کیا گیا ہے کہ پانی اس کے حلق یا معدہ تک نہ چلا جائے کیونکہ اس سے اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جو اپنے اختیار سے پیٹ میں جائے اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ جن علماء کی یہ رائے ہے کہ ان اشیاء کے استعمال سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے ہم نوا شامل ہیں۔ یہ فرماتے ہیں کہ ان اشیاء کا کھانے پینے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے اور کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ ہر اس چیز سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے جو دماغ یا بدن تک پہنچے یا کسی بھی جسمانی راستے (مساموں) سے اندر داخل ہو کر پیٹ تک پہنچ جائے شریعت نے ان اوصاف میں سے کسی وصف کے بارے میں بھی یہ حکم بیان نہیں کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح اسے مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے پانی کے حلق یا معدہ تک پہنچ جانے کے ہم معنی قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں فرق ہے پانی تو غذا ہے لہذا جب وہ حلق یا معدہ تک پہنچے تو اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا خواہ وہ منہ کے راستہ داخل ہو یا ناک کے کیونکہ ان میں سے ہر ایک راستہ ہے یہی وجہ ہے کہ مبالغہ کے بغیر محض کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ منہ اور ناک میں پانی ڈالنے سے منع کیا گیا ہے۔ منہ کا راستہ ناک تو ایک عام وصف ہے جس کی کوئی تاثیر نہیں، لہذا جب پانی وغیرہ ناک سے پہنچ جائے تو کا حکم یہی ہے جس طرح منہ سے پہنچنے کا حکم ہے پھر ناک اور منہ برابر ہیں اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ناک کے ذریعہ اس دوا کے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کیونکہ یہ کسی طرح بھی کھانے پینے کے حکم میں نہیں ہے۔