مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون دل کی اصلاح اور اس کی دینی حیثیت پر مبنی ہے۔ آغاز میں یہ بتایا گیا ہے کہ دل انسان کے تمام اعضاء کا “بادشاہ” ہے؛ اگر یہ صالح ہو تو اعمال درست ہوتے ہیں اور اگر یہ فاسد ہو تو اعضاء بھی فساد کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت کی نصوص سے ثابت کیا جائے گا کہ اللہ کے حضور نفع دینے والی چیز “قلبِ سلیم” ہے، ایمان کا اصل محل دل ہے، اللہ کی نظر کا مرکز بھی دل اور اعمال ہیں، اور اعمال کی قدر و قیمت دل کے احوال (خشوع، اخلاص، نیت) کے مطابق بدلتی ہے۔ پھر دل کی صفائی، سچّی زبان، اور نرم دلی کی فضیلت، اور سنگدلی کے اسباب و علاج مرحلہ وار بیان ہوں گے۔
دل: اعضاء کا بادشاہ
کہا جاتا ہے کہ دل اعضاء کا بادشاہ ہے اور باقی اعضاء اس کی فوج ہیں؛ فوج بادشاہ کی اطاعت کرتی ہے۔ صالح دل پوری فوج (اعضاء) کو صالح بناتا ہے اور فاسد دل انہیں فاسد کر دیتا ہے۔
آخرت میں کام آئے گا تو “قلبِ سلیم” ہی:
﴿ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ ٭ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ﴾ [الشعراء :۸۸۔ ۸۹]
ترجمہ: “اس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ بیٹے، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس اطاعت گزار/سلامت دل لے کر آئے۔”
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( أَلا وَإِنَّ فِیْ الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ لَہَا سَائِرُ الْجَسَدِ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ، أَلا وَہِیَ الْقَلْبُ )
[البخاری: کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینه: ۵۲؛ مسلم: کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبهات: ۱۵۹۹]
ترجمہ: “جسم میں ایک لوتھڑا ہے؛ وہ درست ہو تو سارا جسم درست، اور وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔”
مشتبہات سے بچاؤ اور دل کی درستی
حدیث کے مقدمے میں واضح ہے کہ حلال و حرام روشن ہیں اور ان کے بیچ مشتبہ امور ہیں۔ ان مشتبہات سے بچنے والا اپنے دین و عزت کی حفاظت کر لیتا ہے، اور ان میں پڑنے والا حرام میں جا گرتا ہے۔ اسی ربط سے سمجھ آتا ہے کہ اعضاء کی حرکات کی درستی، حرام و مشتبہ امور سے اجتناب—سب دل کی صحت کے مطابق ہوتے ہیں۔
اگر دل میں اللہ کی محبت، خوف (خشیت) اور ناپسندیدہ امور سے بچنے کا دائمی اندیشہ ہو تو اعضاء بھی حرام و شبہات سے بچتے ہیں۔
اور اگر دل خواہشاتِ نفس کے غلبے میں ہو تو اعضاء گناہوں اور مشتبہات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
ایمان کی استقامت، دل اور زبان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( لَا یَسْتَقِیْمُ إِیْمَانُ عَبْدٍ حَتّٰی یَسْتَقِیْمَ قَلْبُہُ ، وَلَا یَسْتَقِیْمُ قَلْبُہُ حَتّٰی یَسْتَقِیْمَ لِسَانُہُ )
[مسند احمد ۳/۱۹۸، سند حسن، عن انس بن مالک]
ترجمہ: “بندے کا ایمان سیدھا نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو، اور دل مستقیم نہیں ہوتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو۔”
دل: ایمان کا محل
اللہ تعالیٰ نے ایمان کو دلوں میں مزین کیا:
﴿ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ﴾ [الحجرات:۷]
ترجمہ: “اللہ نے ایمان کو تم پر محبوب کر دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا۔”
بدویوں کے دعوائے ایمان پر تنبیہ:
﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤمِنُوْا وَلٰـکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ﴾ [الحجرات:۱۴]
ترجمہ: “اعراب کہتے ہیں ہم ایمان لائے؛ کہہ دیجیے: تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو ہم اسلام لائے ہیں، اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔”
منافقین کے بارے میں:
﴿ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاھِھِمْ وَ لَمْ تُؤمِنْ قُلُوْبُھُمْ﴾ [المائدۃ:۴۱]
ترجمہ: “اے رسول! وہ لوگ آپ کو غمگین نہ کریں جو کفر میں سبقت لیتے ہیں، ان میں سے وہ جو زبان سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے۔”
➤ ان آیات سے واضح ہوا کہ ایمان کی اصل قیام گاہ “دل” ہے؛ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، ورنہ منافقین کامیاب ہوتے—حالانکہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درک میں ہوں گے۔ والعیاذ باللہ۔
اللہ کی نظر کا مرکز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ ، وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوبِکُمْ وَأَعْمَالِکُمْ ) [مسلم:۲۵۶۴]
ترجمہ: “اللہ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
لہٰذا جس پر اللہ کی نظر ہے، اسی کی اصلاح ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔
اعمال کا تفاوت: دل کے تفاوت کے مطابق
کئی لوگ ایک ہی عبادت کرتے ہیں، مگر ثواب میں فرق ہوتاہے؛ وجہ دل کا خشوع و اخلاص ہے۔
نماز کی مثال:
( إِنَّ الرَّجُلَ لَیٍَنْصَرِفُ وَمَا کُتِبَ لَہُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِہِ ، تُسْعُہَا ، ثُمُنُہَا ، سُبُعُہَا ، سُدُسُہَا ، خُمُسُہَا ، رُبْعُہَا ، ثُلُثُہَا ، نِصْفُہَا )
[ابو داؤد:۷۹۶، وحسنہ الألبانی]
ترجمہ: “آدمی نماز سے پلٹتا ہے تو کبھی اس کے لیے دسواں، نواں، آٹھواں… حتیٰ کہ نصف حصہ لکھا جاتا ہے۔”
تلاوتِ قرآن میں بھی یہی اصول: محض تلفظ پر ثواب کم، معانی میں تدبر و اثرپذیری پر اجر زیادہ۔
قبولیتِ عمل کا مدار “اخلاصِ نیت” ہے؛ ریاکاری عمل کو باطل کر دیتی ہے، اور نیت میں دنیا کی آمیزش اجر میں کمی لاتی ہے۔
لوگوں میں سب سے افضل کون؟
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت کا معیار دنیاوی مال و اسباب نہیں بلکہ دل کی صفائی اور زبان کی سچائی قرار دیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب پوچھا گیا: ( أَیُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( کُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ ، صَدُوقِ اللِّسَانِ )
صحابہؓ نے عرض کیا: صَدُوقُ اللِّسَانِ (سچّی زبان) کو تو جانتے ہیں، “مخموم القلب” کون ہے؟ فرمایا:
( ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ ، لَا إِثْمَ فِیْہِ ، وَلَا بَغْیَ ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ )
[ابن ماجہ: ۴۲۱۶، وصححہ الألبانی]
ترجمہ: “وہ پرہیزگار اور پاک دل ہے؛ جس میں گناہ، زیادتی، کینہ اور حسد نہیں ہوتا۔”
دلوں میں سب سے افضل دل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( إِنَّ لِلّٰہِ آنِیَۃً فِی الْأرْضِ ، وَآنِیَۃُ رَبِّکُمْ قُلُوبُ عِبَادِہِ الصَّالِحِیْنَ ، وَأَحَبُّہَا إِلَیْہِ أَلْیَنُہَا وَأَرَقُّہَا )
[الطبرانی فی الکبیر، وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ: ۱۶۹۱]
ترجمہ: “اللہ کے زمین میں برتن ہیں؛ تمہارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں، اور انہیں میں سب سے محبوب وہ دل ہیں جو سب سے زیادہ نرم و رقیق ہوں۔”
رقتِ قلب کی ضد: اجتماعی سنگدلی کی صورتیں
شرک و بدعت: قبروں، درگاہوں پر سجدے، نذرانے، فوت شدگان کو “حاجت روا/مشکل کشا” سمجھ کر پکارنا۔
نماز میں غفلت: جمعہ کے سوا ہفتہ بھر نمازوں سے دوری۔
بے حیائی، موسیقی اور فحش مناظر کا عام ہونا۔
شراب اور نشہ آور چیزوں کا پھیلاؤ۔
تفریح کے نام پر رقص و سرور، مخلوط محافل اور علانیہ اظہارِ محبت۔
خیانت، دھوکا دہی، رشوت خوری کو “حق” سمجھ لینا۔
جھوٹ، مالی فریب، حقوق تلفی—معاشرتی بنیادوں کی کھوکھلاہٹ۔
اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کی سنگدلی یوں بیان فرمائی:
﴿ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْھٰرُ وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴾ [البقرۃ:۷۴]
ترجمہ: “پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، پس وہ پتھروں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ اور یقیناً بعض پتھر ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے، اور بعض ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں۔”
سنگدلی کے اسباب
① ذکرِ الٰہی سے غفلت
فرمایا: ( لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ ، فَإِنَّ کَثْرَۃَ الْکَلَامِ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ قَسْوَۃٌ لِّلْقَلْبِ) [الترمذی:۲۴۱۱]
"اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں نہ کیا کرو، کیونکہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے۔”
مثالِ حیات و ممات: «مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ» [البخاری:۶۴۰۷]
جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی مانند ہے۔
② موت کی یاد سے غفلت — مرنے اور پیشیِ الٰہی کو بھلا دینا دل کو سخت کرتا ہے۔
③ فرائض میں کوتاہی
﴿ فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً ﴾ [المائدۃ:۱۳]
پس ان کے عہد توڑنے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت بنا دیا۔
بنو اسرائیل نے نماز، زکاۃ، رسولوں کی نصرت اور قرضِ حسنہ—سب عہد توڑے تو دل سخت کر دیے گئے۔
④ گناہوں پر اصرار اور استغفار نہ کرنا
﴿ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ﴾ [المطففین:۱۴]
ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کماتے رہے۔
ابن عباسؓ: إِنَّ لِلسَّيِّئَةِ سَوَادًا فِي الْوَجْهِ، وَظُلْمَةً فِي الْقَلْبِ، وَوَهْنًا فِي الْبَدَنِ، وَنُقْصَانًا فِي الرِّزْقِ، وَبُغْضًا فِي قُلُوبِ الْخَلْقِ۔
گناہ کے اثرات یہ ہیں کہ چہرے پر سیاہی، دل میں اندھیرا، بدن میں کمزوری، رزق میں کمی، اور مخلوق کے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
ابن المبارکؒ:
رَأَيْتُ الذُّنُوبَ تُميتُ القلوبَ وَقَدْ يُورِثُ الذُّلَّ إِدْمَانُهَا وَتَرْكُ الذُّنُوبِ حَيَاةُ القُلُوبِ وَخَيْرٌ لِنَفْسِكَ عِصْيَانُهَا
میں نے دیکھا کہ گناہ دلوں کو مار دیتے ہیں، اور گناہوں کی عادت ذلت کا باعث بنتی ہے۔گناہوں کو چھوڑنا دلوں کی زندگی ہے، اور اپنے نفس کی نافرمانی کرنا ہی تیرے لیے بہتر ہے۔
⑤ خواہشاتِ نفس کی پیروی اور حق سے اعراض
﴿ فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ﴾ [الصف:۵]
پس جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور زیادہ) ٹیڑھا کر دیا۔
﴿ وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ ﴾ [التوبۃ:۱۲۷]
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور کہتے ہیں): “کیا تمہیں کوئی دیکھ رہا ہے؟” پھر وہ (منہ موڑ کر) لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔
⑥ دنیا کی لذتوں کے پیچھے اندھا دھند دوڑ — آخرت فراموشی۔
⑦ زیادہ ہنسنا اور لہو و لعب
( َلا تُکْثِرُوا الضَّحِکَ فَإِنَّ کَثْرَۃَ الضَّحِکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ) [ابن ماجہ:۴۱۹۳، صححہ الألبانی]
زیادہ ہنسا نہ کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
⑧ فضول مجالس میں لغو گفتگو
⑨ فحش و فضول مناظر دیکھنا
⑩ دین کے بنیادی مسائل سے جہالت پر راضی رہنا
انجام کی وعید
﴿ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴾ [الزمر:۲۲]
تباہی ہے ان دلوں کے لیے جو اللہ کے ذکر سے سخت ہو گئے ہیں، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
اور فرمایا: ( إِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللّٰہِ الْقَلْبُ الْقَاسِی ) [الترمذی:۲۴۱۱]
ترجمہ: “اللہ سے سب سے دور وہ ہے جس کا دل سخت ہو۔”
دلوں کو نرم کرنے کے اسباب
جب سنگدلی کے اسباب معلوم ہو گئے تو اب ان کے برعکس اعمال دلوں کو نرم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:
① موت کو یاد رکھنا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ ) [البخاری: ۶۴۱۶]
ترجمہ: “دنیا میں ایسے رہو جیسے اجنبی یا مسافر ہوتا ہے۔”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:
«إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ»
“جب شام ہو تو صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو، اپنی صحت میں اپنے مرض کے لیے اور زندگی میں اپنی موت کے لیے تیاری کر لو۔”
مسند احمد میں مزید الفاظ ہیں:
«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ» [الصحیحۃ للألبانی: ۱۱۵۷]
"دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی اجنبی یا راہ چلتا مسافر، اور اپنے آپ کو اہلِ قبور (یعنی مرنے والوں) میں سے سمجھو۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( أَکْثِرُوْا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتَ ) [صحیح الجامع للألبانی: ۱۲۱۱]
“لذتوں کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔”
اور ایک دوسری حدیث میں:
( أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأَحْسَنُہُمْ لِمَا بَعْدَہُ اسْتِعْدَادًا أُولٰئِکَ الْأکْیَاسُ ) [ابن ماجہ: ۴۲۵۹، صححہ الألبانی]
“سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو موت کو زیادہ یاد کرے اور اس کے بعد کے مرحلوں کے لیے بہترین تیاری کرے۔”
② قبرستان کی زیارت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ، أَلَا فَزُوْرُوْہَا، فَإِنَّہَا تُرِقُّ الْقَلْبَ، وَتُدْمِعُ الْعَیْنَ، وَتُذَکِّرُ الْآخِرَۃَ ) [الحاکم، بسند حسن، أحکام الجنائز للألبانی: ۱۸۰]
ترجمہ: “میں تمہیں قبروں کی زیارت سے روکتا تھا، اب زیارت کرو؛ یہ دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں سے آنسو جاری کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔”
③ قرآن مجید میں تدبر و غور
قرآن دلوں کے امراض (کفر، نفاق، حسد، بغض) کا علاج اور شفا ہے:
﴿ یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [یونس: ۵۷]
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے، اور وہ (قرآن) ان دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ اَللّٰهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴾[الزمر: ۲۳]
ترجمہ: “اللہ نے سب سے بہترین کلام نازل فرمایا — ایک ایسی کتاب جو (الفاظ میں) ایک جیسی اور (مطالب میں) بار بار دہرائی جانے والی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔”
اور فرمایا:
﴿ لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ﴾ [الحشر:۲۱]
“اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ پڑتا۔”
لہٰذا جو دل قرآن پر تدبر کرے، اس میں لازمی طور پر رقت و نرمی پیدا ہوتی ہے۔
﴿ أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا ﴾ [محمد:۲۴]
کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟
④ اللہ کا ذکر غور و فکر سے کرنا
ذکرِ الٰہی دل کی زندگی اور سکون کا ذریعہ ہے:
﴿ اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ أَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ﴾ [الرعد:۲۸]
وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
ا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٢﴾ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ﴾ [الأنفال:۲–۴]
مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس بلند درجے، مغفرت اور عمدہ رزق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴾ [الحدید:۱۶]
کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھک جائیں، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر (مدتِ عمر) لمبی ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
⑤ گناہ کے بعد توبہ و استغفار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، فَذَاكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾»
[الترمذی:۳۳۳۴، حسن صحیح؛ ابن ماجہ:۴۲۴۴]
ترجمہ:بے شک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے، گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ گناہ میں اضافہ کرے تو وہ دھبہ بڑھتا جاتا ہے — یہی وہ "زنگ” ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کرتے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( إِنَّہُ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِی، وَإِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ ) [مسلم:۲۷۰۲]
“میرے دل پر بھی پردہ آ جاتا ہے، اور میں روزانہ سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔”
⑥ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان
﴿ وَمَنْ یُّؤمِنْ بِاللّٰہِ یَہْدِ قَلْبَہُ ﴾ [التغابن:۱۱]
“جو اللہ پر ایمان لاتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔”
⑦ مسکین کو کھلانا، یتیم پر شفقت
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ )[الصحیحۃ:۸۵۴]
“اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔”
⑧ مریضوں کی عیادت
عیادت سے دل میں شکر، ہمدردی اور عافیت کی قدر بڑھتی ہے۔ یہ دل کو رقیق اور متأثر بناتی ہے۔
⑨ فرائض کی پابندی اور نوافل میں سبقت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
إِنَّ لِلْحَسَنَةِ ضِيَاءً فِي الْوَجْهِ، وَنُورًا فِي الْقَلْبِ، وَسَعَةً فِي الرِّزْقِ، وَقُوَّةً فِي الْبَدَنِ، وَمَحَبَّةً فِي قُلُوبِ الْخَلْقِ۔
نیکی کے اثرات یہ ہیں کہ چہرے پر روشنی، دل میں نور، رزق میں کشادگی، جسم میں قوت، اور مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
⑩ حلال کھانا اور حرام و مشتبہ امور سے اجتناب
اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکیزہ، حلال رزق کھائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ یٰأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ﴾ [المؤمنون:۵۱]
اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہوں۔
اور فرمایا:
﴿ یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ﴾ [البقرۃ:۱۷۲]
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ان میں سے کھاؤ، اور اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو تو اللہ کا شکر ادا کرو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلا سوال ان امور کے بارے میں ہوگا:
“مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟”
(سنن الترمذی: ۲۴۱۷)
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صرف حلال اور طیب مال کھائے، حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچے۔
جس نے حلال کھایا اور شبہات سے پرہیز کیا، اس کا دل صاف، رقیق اور نیک اعمال کا خواہش مند بن جاتا ہے، جیسا کہ حدیثِ نبوی میں آیا ہے کہ حلال و حرام کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جو ان سے بچ گیا اس نے اپنے دین و عزت کو بچا لیا۔
⑪ فضول مجلسوں اور لغو گفتگو سے پرہیز
زیادہ بولنا، زیادہ ہنسنا اور بے مقصد باتیں کرنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( لَا تُکْثِرُوا الضَّحِکَ فَإِنَّ کَثْرَۃَ الضَّحِکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ ) [ابن ماجہ:۴۱۹۳]
زیادہ ہنسا نہ کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
لہٰذا مومن کو چاہیے کہ اپنی محفلوں میں لغویات، غیبت، جھوٹ اور فحش گوئی سے اجتناب کرے، صرف ان مجلسوں میں بیٹھے جہاں اللہ کا ذکر، نصیحت اور علمِ دین کا چرچا ہو۔
⑫ خواہشاتِ نفس کی اتباع سے بچنا
دل کی سختی کا ایک بڑا سبب نفس کی پیروی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی ﴾ [النازعات:۴۰–۴۱]
“جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکے رکھا، جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔”
اسی طرح فرمایا:
﴿ وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاہَا فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا ﴾ [الشمس:۷–۱۰]
“قسم ہے نفس کی اور جس نے اسے ٹھیک بنایا، پھر اسے بدی اور نیکی دونوں کا الہام کیا، یقیناً کامیاب وہ جس نے نفس کو پاک کیا، اور نامراد وہ جس نے اسے گناہوں میں دبایا۔”
⑬ دنیا کی بے ثباتی پر یقین رکھنا
دنیا فانی ہے، اس کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( مَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ہَمَّہُ فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ أَمْرَہُ، وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَلَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا مَا کُتِبَ لَہُ، وَمَنْ کَانَتِ الْآخِرَۃُ ہَمَّہُ، جَمَعَ اللّٰہُ لَہُ أَمْرَہُ، وَجَعَلَ غِنَاہُ فِی قَلْبِہِ، وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِیَ رَاغِمَۃٌ )
[ابن ماجہ:۴۱۰۵، وصححہ الألبانی]
ترجمہ:
“جس کی ساری فکر دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، فقر کو اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے لکھا گیا۔ لیکن جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے معاملات سنوار دیتا ہے، اس کے دل میں غنا پیدا کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے سامنے ذلیل ہوکر آتی ہے۔”
دعا اور التجا
پس اے اللہ! ہمارے دلوں کو نرم فرما، ان میں اپنی محبت، اپنے رسول ﷺ کی محبت اور دین کی رغبت پیدا فرما۔ ہمیں دنیا کی محبت اور خواہشات کے فتنوں سے محفوظ رکھ، اور اپنی رضا کے راستے پر قائم رکھ۔
مضمون کا خلاصہ
❀ دل انسان کے تمام اعمال کی بنیاد اور روح ہے۔
❀ اگر دل صالح ہو تو تمام اعضاء صالح ہوتے ہیں۔
❀ ایمان کا اصل محل دل ہے، اور اللہ کی نظر بھی دلوں اور اعمال پر ہے۔
❀ دل کی درستی کے بغیر ایمان و عمل صالح معتبر نہیں۔
❀ سنگدلی کا علاج ذکرِ الٰہی، قرآن پر تدبر، موت کی یاد، توبہ و استغفار، یتیموں و مساکین پر شفقت، نیکیوں میں سبقت اور دنیا سے بے رغبتی میں ہے۔
❀ نرم دل وہ ہے جو اللہ کے خوف سے لرزتا، اس کے ذکر سے منور اور نیکی سے خوش ہوتا ہے۔
نتیجہ
جس کے دل میں ایمان، اخلاص، محبتِ الٰہی اور خوفِ خدا راسخ ہو، اس کے اعمال پاکیزہ اور زبان سچی ہوتی ہے۔ یہی شخص اللہ کے قریب اور مخلوق میں سب سے افضل ہے۔ لہٰذا دل کی اصلاح دراصل دین کی اصلاح ہے، اور دل کی خرابی دین کی تباہی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں “قلبِ سلیم” عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو اپنی رضا کے لیے نرم و رقیق بنا دے۔ آمین۔