مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دل بہلانے کے لیے بانسری جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا دل بہلانے کے لیے یا فارغ اوقات میں بانسری بجانا اسلام میں جائز ہے؟

جواب :

اسلام میں بانسری بجانے کی اجازت نہیں ہے، دل بہلانے کے لیے قرآن حکیم کی تلاوت کرو اور علمائے دین کی تقاریر وغیرہ سنا کرو۔ مومن آدمی کا دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
(الرعد: 28)
”خبردار! اللہ کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔“
موسیقی کے آلات وغیرہ اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزیں اور شیطانی آواز میں ہیں۔ نافع بیان کرتے ہیں:
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ہٹ گئے اور بعد میں مجھے کہا: ”اے نافع! کیا تم کوئی آواز سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں! تو انھوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں نکال دیں اور کہا: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا۔“
(ابو داود، کتاب الأدب، باب كراهية الغناء والزمر ح 4924)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ بانسری بجانا دل بہلانے کے لیے یا کسی اور غرض کے لیے درست نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سن کر اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لی تھیں۔ ہمیں بھی بانسری کی آواز سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔