مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

دفتر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا شرعی حکم اور دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام ومسائل جلد 1

سوال

ہم دفتر میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں، اور دفتر شہر میں واقع ہے۔ کیا ہماری نماز جمعہ صحیح ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جمہور احناف، شوافع اور حنابلہ کے اہل علم کے نزدیک مسجد کے علاوہ بھی نماز جمعہ ادا کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کے جواز میں کوئی شرعی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے لیے پوری زمین کو مسجد قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

وجعلت لي الارض طيبة طهورا ومسجدا
(صحيح مسلم: رقم 521)

ترجمہ: میرے لیے پوری زمین پاکیزہ اور مسجد بنا دی گئی ہے۔

اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بحرین کو خط میں لکھا:

أن جمعوا حيث كنتم
(رواه أحمد، وقد صححه الألباني في إرواء الغليل: 3/66، وقال أن إسناده صحيح على شرط الشيخين)

ترجمہ: تم جہاں کہیں بھی ہو، جمعہ ادا کر لو۔

نتیجہ

مذکورہ دلائل کی روشنی میں دفتر میں نماز جمعہ ادا کرنا درست ہے، بشرطیکہ قریب کوئی مسجد موجود نہ ہو۔

هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔