مضمون کے اہم نکات
انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی تعلق اس کے خالق و مالک، اللہ ربّ العالمین سے ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ ہاتھ پھیلاتا ہے، اپنی حاجات بیان کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے، اور صرف اسی سے مدد مانگتا ہے، تو یہی عمل ’’دعا‘‘ کہلاتا ہے۔ دعا بندے اور رب کے درمیان محبت، امید، خوف اور بندگی کے سب سے مضبوط رشتے کا اظہار ہے۔
اس مضمون میں ہم دعا کی اہمیت، اس کی ضرورت، فضیلت، آداب اور قبولیت کے اسباب پر روشنی ڈالیں گے، تاکہ ہم اس عظیم عبادت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں اسے مؤثر بنائیں۔
دعا کی اہمیت و فضیلت
➊ دعا سب سے افضل عبادت ہے
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
( أَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ الدُّعَائُ )
[رواہ الحاکم وصححہ ووافقہ الذہبی]
ترجمہ: ’’سب سے افضل عبادت دعا ہے۔‘‘
دعا کو سب سے افضل عبادت اس لیے قرار دیا گیا کہ اس میں بندہ اللہ کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے، اپنی بے بسی کا اقرار کرتا ہے، اور دل و زبان دونوں سے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے۔ بندہ دعا میں اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے تمام تر معاملات اسی کے سپرد کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک اور روایت میں فرمایا:
( اَلدُّعَائُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ )
’’دعا ہی عبادت ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿ وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ﴾
[غافر: 60]
ترجمہ: ’’اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دعا عبادت ہے، اور جو لوگ دعا سے غفلت یا تکبر کرتے ہیں وہ دراصل عبادت سے روگردانی کرتے ہیں۔
➋ قرآن مجید کا آغاز و اختتام دعا سے
قرآن مجید کی ابتدا سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے، جو سراسر دعا ہے:
﴿ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ﴾
ترجمہ: ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘
اسی طرح قرآن کا اختتام دو سورتوں (المعوذتین) سے ہوتا ہے جو شر سے پناہ مانگنے کی دعا ہیں۔ یہ قرآن کے پیغام کی جامع علامت ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ سے دعا کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی کی پناہ میں آئے۔
➌ دعا اللہ کے نزدیک سب سے معزز عمل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( لَیْسَ شَیْئٌ أَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَائِ )
[الترمذی: 3370، ابن ماجہ: 3829]
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز کوئی چیز نہیں۔‘‘
دعا اللہ کے ہاں اس قدر پسندیدہ ہے کہ جو بندہ دعا نہیں کرتا، اس پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( مَن لَّمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضَبْ عَلَیْہِ )
[الترمذی: 3373، ابن ماجہ: 3827]
ترجمہ: ’’جو اللہ سے دعا نہیں مانگتا، اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔‘‘
کتنا رحیم و کریم رب ہے کہ اپنے بندوں کو خود مانگنے کا حکم دیتا ہے، قبولیت کا وعدہ کرتا ہے، اور نہ مانگنے پر ناراض ہو جاتا ہے۔
➍ دعا ہر حال میں ممکن ہے
دعا ایک ایسی عبادت ہے جس کیلئے نہ وقت کی قید ہے، نہ جگہ کی۔ بندہ دن میں یا رات میں، خشکی یا سمندر میں، خوشحالی یا تنگدستی میں، ہر حال میں دعا کر سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( إِذَا سَأَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیُکْثِرْ فَإِنَّمَا یَسْأَلُ رَبَّہُ )
[ابن حبان، اسناد صحیح]
ترجمہ: ’’جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو خوب مانگے، کیونکہ وہ اپنے رب سے مانگ رہا ہوتا ہے۔‘‘
➎ دعا مصیبتوں کو دور کرتی ہے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ قُلْ مَا یَعْبَؤُ بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَآؤُکُمْ ﴾
[الفرقان: 77]
ترجمہ: ’’(اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہو تو میرا رب تمہاری کوئی پروا نہ کرے۔‘‘
یعنی دعا کی برکت سے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے اور ان کی مشکلات دور کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( لَا یَرُدُّ الْقَضَائَ إِلَّا الدُّعَائُ ، وَلَا یَزِیْدُ فِی الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ )
[ترمذی: 1239]
ترجمہ: ’’قضا کو صرف دعا ہی بدل سکتی ہے، اور عمر میں اضافہ صرف نیکی سے ہوتا ہے۔‘‘
➏ دعا انبیاء علیہم السلام کا طریقہ
اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کے بارے میں فرمایا:
﴿ اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَھَبًا ﴾
[الأنبیاء: 90]
ترجمہ: ’’یہ (انبیاء) نیکیوں میں جلدی کرتے، ہم سے امید اور خوف کے ساتھ دعا کرتے، اور ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔‘‘
انبیائے کرام کا یہ طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا ہر حال میں بندگی اور عاجزی کا مظہر ہے۔
دعا کے آداب
دعا عبادت کا نچوڑ ہے، مگر یہ اسی وقت بابرکت بنتی ہے جب اس کے آداب و شرائط کا خیال رکھا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کے چند اصول و آداب بیان فرمائے جن پر عمل کر کے بندہ اپنی دعا کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
➊ اخلاصِ نیت
دعا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہونی چاہیے، کسی ریاکاری، نمود و نمائش یا شہرت کے لیے نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ﴾ [غافر: 14]
ترجمہ: ’’پس تم اللہ کو پکارو خالص اسی کے لیے دین کو رکھتے ہوئے۔‘‘
یہ اخلاص اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ دعا صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جائے، کسی ولی، نبی، قبر یا فوت شدہ بزرگ سے دعا یا فریاد کرنا شرک ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
( إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ ) [الترمذی: 2516]
ترجمہ: ’’جب تم سوال کرو تو اللہ سے کرو، اور جب مدد مانگو تو اللہ سے ہی مانگو۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللّٰہِ مَا لَا یَنفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِیْنَ ﴾ [یونس: 106]
ترجمہ: ’’اور اللہ کے سوا ایسے کو مت پکارو جو نہ تمہیں نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘
فوت شدہ بزرگوں کو پکارنا قرآن و سنت کی رو سے شرک ہے، کیونکہ وہ نہ سن سکتے ہیں، نہ مدد کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَکُمْ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ ﴾ [فاطر: 14]
ترجمہ: ’’اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کر سکتے۔‘‘
➋ قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا
نبی کریم ﷺ قبلہ رخ ہو کر دعا فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں:
’’غزوہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:
( اَللّٰہُمَّ أَنْجِزْ لِی مَا وَعَدتَّنِی، اَللّٰہُمَّ آتِ مَا وَعَدتَّنِی، اَللّٰہُمَّ إِنْ تَہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃُ مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِی الْأرْضِ )
[مسلم: 1763]
ترجمہ: ’’اے اللہ! جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے اسے پورا فرما، اے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی۔‘‘
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت یا مشکل کے وقت بندہ قبلہ رخ ہو کر عاجزی سے دعا کرے۔
➌ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( إِنَّ اللّٰہَ حَیِیٌّ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَیْہِ یَدَیْہِ أَنْ یَرُدَّہُمَا صِفْرًا خَائِبَتَیْنِ )
[ترمذی: 3556، ابن ماجہ: 3865]
ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا کرنے والا اور کریم ہے، جب کوئی بندہ اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ انہیں خالی واپس لوٹانے سے حیا کرتا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
( إِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوہُ بِبُطُونِ أَکُفِّکُمْ وَلَا تَسْأَلُوہُ بِظُہُورِہَا )
[ابو داؤد: 1488]
ترجمہ: ’’جب تم دعا کرو تو ہتھیلیوں کے اندرونی حصے سے کرو، نہ کہ الٹے ہاتھوں سے۔‘‘
➍ دعا سے قبل اللہ کی حمد و ثنا اور درود شریف
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دعا کی ابتدا میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اس کے بعد اپنی حاجت مانگو۔
حضرت فضالہ بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں:
’’جب ایک شخص نے نماز کے بعد صرف دعا کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
( عَجِلْتَ أَیُّہَا الْمُصَلِّی، إِذَا صَلَّیْتَ فَاحْمَدِ اللّٰہَ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ وَصَلِّ عَلَیَّ، ثُمَّ ادْعُہُ )
[ترمذی: 3476]
ترجمہ: ’’اے نمازی! تم نے جلدی کی، جب تم نماز سے فارغ ہو تو پہلے اللہ کی حمد بیان کرو، پھر مجھ پر درود بھیجو، پھر دعا کرو۔‘‘
➎ جامع دعائیں کرنا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
’’رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند کرتے تھے۔‘‘ [ابو داؤد: 1482]
قرآنی اور مسنون دعائیں سب سے جامع ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم دعا یہ ہے:
( اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ )
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں درگزر اور عافیت مانگتا ہوں۔‘‘
➏ عاجزی اور خفیہ دعا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ﴾ [الأعراف: 55]
ترجمہ: ’’اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِرْبَعُوا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ فَإِنَّکُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا )
[بخاری: 2830]
ترجمہ: ’’اے لوگو! آہستہ دعا کرو، تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکار رہے ہو۔‘‘
قبولیتِ دعا کے اسباب
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے، لیکن قبولیت کے کچھ شرائط و اسباب ہیں جنہیں اختیار کرنے سے دعا زیادہ مؤثر بنتی ہے۔ قرآن و سنت میں ایسے متعدد عوامل بیان کیے گئے ہیں جو دعا کی قبولیت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
➊ دعائے یونس علیہ السلام
جب یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی:
﴿ لَا إِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ﴾ [الأنبیاء: 87]
ترجمہ: ’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( إِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِہَا مُسْلِمٌ فِیْ شَیْئٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا )
[مستدرک للحاکم، 1/505]
ترجمہ: ’’جو مسلمان ان الفاظ کے ساتھ کوئی بھی دعا کرے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔‘‘
➋ فرائض کے ساتھ نوافل کی کثرت
بندہ جب فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل میں اضافہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے، اور اس کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّهُ… فَإِذَا سَأَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّهُ )
[بخاری: 6502]
ترجمہ: ’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے عطا کرتا ہوں، اور جب پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔‘‘
➌ قبولیت کے خاص اوقات
اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت دعا سنتا ہے، مگر کچھ خاص اوقات ایسے ہیں جن میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں:
✿ سجدے کے دوران
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِن رَّبِّہِ وَہُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ )
[مسلم: 482]
ترجمہ: ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، پس کثرت سے دعا کرو۔‘‘
✿ اذان اور اقامت کے درمیان
( لَا یُرَدُّ الدُّعَائُ بَیْنَ الْأذَانِ وَالْإِقَامَۃِ )
[ابو داؤد: 521]
ترجمہ: ’’اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘
✿ رات کے آخری پہر
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأَسْتَجِیْبَ لَہُ، مَنْ یَسْأَلُنِیْ فَأُعْطِیَہُ، مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرَ لَہُ )
[مسلم: 758]
ترجمہ: ’’کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے کہ میں اسے بخش دوں؟‘‘
✿ فرض نمازوں کے بعد
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( أَفْضَلُ الدُّعَاءِ جَوْفَ اللَّیْلِ الْآخِرِ وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَۃِ )
[ترمذی: 3499]
ترجمہ: ’’بہترین دعا رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد ہے۔‘‘
✿ افطار کے وقت
( إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِہٖ لَدَعْوَۃً مَا تُرَدُّ )
[ابن ماجہ: 1753]
ترجمہ: ’’بے شک روزہ دار کی افطار کے وقت ایک دعا ایسی ہوتی ہے جو رد نہیں کی جاتی۔‘‘
✿ جمعہ کے دن
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( فِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ… إِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ )
[بخاری: 935]
ترجمہ: ’’جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جب مسلمان بندہ اس میں دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا کر دیتا ہے۔‘‘
✿ بارش کے دوران اور اذان کے وقت
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
( ثِنْتَانِ مَا تُرَدَّانِ: اَلدُّعَائُ عِنْدَ النِّدَائِ وَتَحْتَ الْمَطَرِ )
[صحیح الجامع: 3078]
ترجمہ: ’’دو مواقع کی دعا رد نہیں کی جاتی: اذان کے وقت اور بارش کے دوران۔‘‘
➍ اللہ کے اسمائے حسنی کے وسیلے سے دعا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَلِلّٰہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا ﴾ [الأعراف: 180]
ترجمہ: ’’اور اللہ کے سب اچھے نام ہیں، پس ان کے ذریعے اسے پکارو۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَعَا اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ، إِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطَی )
[مسند احمد: 13595]
ترجمہ: ’’اس نے اللہ کے اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی، جب اس نام سے دعا کی جائے تو اللہ قبول کرتا ہے، اور جب سوال کیا جائے تو عطا کرتا ہے۔‘‘
➎ عمل صالح کا وسیلہ بنانا
قرآن کہتا ہے:
﴿ یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ ﴾ [المائدہ: 35]
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔‘‘
یہ وسیلہ نیک اعمال کا ہوتا ہے، جیسا کہ اصحابِ غار کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ان تینوں نے اپنے خالص اعمال کو وسیلہ بنا کر دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی مشکل دور کر دی۔
➏ مسلمانوں کے لیے غائبانہ دعا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( دَعْوَۃُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِیْہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ مُسْتَجَابَۃٌ… کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیْہِ بِخَیْرٍ قَالَ الْمَلَکُ: آمِیْنَ، وَلَکَ بِمِثْلٍ )
[مسلم: 2733]
ترجمہ: ’’مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے، اور فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہیں بھی یہی حاصل ہو۔‘‘
جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں (عدمِ قبولیت کے اسباب)
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر دعا کو سنتا ہے، لیکن بعض اوقات بندوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اس کی چند واضح وجوہات احادیث و آثار میں بیان کی گئی ہیں جنہیں سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
➊ حرام کمائی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
( إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا )
[ابن ماجہ، صحیحہ الألبانی]
ترجمہ: ’’اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیز کو ہی قبول کرتا ہے۔‘‘
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کی مثال دی جو لمبا سفر کر کے آتا ہے، بال پریشان، بدن گرد آلود، ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتا ہے: ’’اے رب! اے رب!‘‘ مگر اس کا کھانا، پینا اور لباس سب حرام سے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
( فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لَہُ؟ )
ترجمہ: ’’پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حرام کمائی دعا کی قبولیت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
➋ گناہ یا قطع رحمی کی دعا کرنا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ یَدْعُو اللّٰہَ تَعَالٰی بِدَعْوَۃٍ إِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہَا، أَوْ صَرَفَ عَنْہُ مِنَ السُّوْئِ مِثْلَہَا، مَا لَمْ یَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ )
[ترمذی: 3573]
ترجمہ: ’’زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں جو دعا کرے مگر اللہ یا تو اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے، یا اس کے بدلے میں کوئی مصیبت دور کر دیتا ہے، بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔‘‘
➌ نبی ﷺ پر درود نہ بھیجنا
حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
( کُلُّ دُعَائٍ مَحْجُوْبٌ حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ﷺ )
[طبرانی، صحیح الترغیب: 1675]
ترجمہ: ’’ہر دعا کو روکے رکھا جاتا ہے جب تک کہ نبی ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے۔‘‘
اسی طرح حضرت عمرؓ نے فرمایا:
( إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْءٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ ﷺ )
[ترمذی: 486]
ترجمہ: ’’دعا آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے، اوپر نہیں جاتی جب تک کہ نبی ﷺ پر درود نہ پڑھا جائے۔‘‘
➍ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنا
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
( مُرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوْا فَلَا یُسْتَجَابَ لَکُمْ )
[ابن ماجہ: 4004]
ترجمہ: ’’نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ ہو۔‘‘
دوسری روایت میں فرمایا:
( لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، أَوْ لَیُوشِکَنَّ اللّٰہُ أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا، ثُمَّ تَدْعُونَہُ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ )
[ترمذی: 2169]
ترجمہ: ’’تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، ورنہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرے گا، پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔‘‘
➎ ابراہیم بن ادہمؒ کی نصیحت
ان سے پوچھا گیا کہ اللہ فرماتا ہے:
﴿ اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾
’’مجھے پکارو میں قبول کروں گا‘‘، لیکن ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
انہوں نے فرمایا:
تمہارے دل دس باتوں سے مردہ ہو چکے ہیں:
➊ تم نے اللہ کو پہچانا مگر اس کا حق ادا نہیں کیا۔
➋ اس کا رزق کھایا مگر شکر ادا نہیں کیا۔
➌ قرآن پڑھا مگر اس پر عمل نہیں کیا۔
➍ شیطان کو دشمن جانا مگر اس سے دوستی کی۔
➎ رسول ﷺ سے محبت کا دعویٰ کیا مگر سنتوں کو چھوڑ دیا۔
➏ جنت کی خواہش کی مگر عمل نہیں کیا۔
➐ جہنم سے ڈرتے ہو مگر گناہ نہیں چھوڑے۔
➑ دوسروں کے عیب دیکھتے ہو مگر اپنے نہیں۔
➒ موت کو سچ مانتے ہو مگر تیاری نہیں کرتے۔
➓ مردوں کو دفن کرتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے۔
اسی لیے تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
نتیجہ
دعا ایمان کا مظہر اور اللہ پر توکل کی علامت ہے۔ جو بندہ دعا کرتا ہے وہ دراصل اپنی عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اور جو دعا نہیں کرتا وہ تکبر کا شکار ہے۔
لہٰذا ہمیں ہر حال میں اپنے رب کو پکارنا چاہیے، اس سے مدد طلب کرنی چاہیے، اور خلوصِ دل سے اس کے سامنے جھک جانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ دعا کرنے، دعا کے آداب اختیار کرنے، اور قبولیت کے تمام اسباب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔