مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دعا مانگنے کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

دعا مانگنے کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟

جواب:

دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر کی جائے اور اختتام کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرے جائیں۔
❀ ابو نعیم وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رأيت ابن عمر وابن الزبير يدعوان، يديران بالراحتين على الوجه.
”میں نے دیکھا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما دعا کے بعد ہتھیلیاں چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے۔“
(الأدب المفرد للبخاري: 609، وسنده حسن)
❀ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”میں نے ابو کعب عبدربہ بن عبید رحمہ اللہ کو دیکھا، ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور بعد میں ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے، عرض کیا: کسی کو ایسا کرتے دیکھا ہے؟ فرمایا: حسن بصری رحمہ اللہ کو۔“
(فضل الدعاء في أحاديث رفع اليدين بالدعاء للسيوطي: 59، وسنده صحيح)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن “کہا ہے۔
معلوم ہوا کہ دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا درست ہے۔ خیر القرون میں ایسا کوئی نہیں، جو ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور بعد میں ہاتھ چہرے پر نہ پھیرے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔