مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دعائے قنوت میں رفع الیدین سنت ہے؟ مکمل شرعی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام
مضمون کے اہم نکات

دعائے قنوت میں رفع الیدین کرنا سنت ہے یا نہیں؟ تفصیلی جواب

سوال

کیا دعائے قنوت میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانا) سنت ہے؟ اگر ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں، دعائے قنوت میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانا) سنت ہے، اور اس کی متعدد دلائل موجود ہیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔

دعائے قنوت میں رفع الیدین کی دلیل

◈ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قنوتِ نازلہ کے وقت فرض نمازوں میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
◈ اسی طرح، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قنوت وتر کے وقت رفع الیدین کرنا منقول ہے۔

خلفائے راشدین کی اتباع کا حکم

حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین میں سے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس بنا پر ان کا قنوت وتر میں رفع الیدین کرنا ہمارے لیے قابلِ پیروی عمل ہے۔

رفع الیدین کن لوگوں کے لیے سنت ہے

امام ہو یا
مقتدی ہو یا
منفرد (اکیلا نمازی) —

ان سب کے لیے قنوت وتر میں رفع الیدین سنت ہے۔ لہٰذا جب بھی قنوت (دعا) کی جائے تو ہاتھ اٹھانے چاہییں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔