مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

دعائے قنوت رکوع سے پہلے ہاتھ باندھ کر پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 516

سوال

کیا دعائے قنوت رکوع سے پہلے ہاتھ باندھ کر پڑھی جا سکتی ہے اور کیا اس کے جواز میں کوئی حدیث یا صحابہ کرام کا عمل موجود ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قیام اللیل للمروزی میں یہ ذکر موجود ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رکوع سے پہلے ہاتھ باندھ کر دعائے قنوت پڑھنا ثابت ہے۔
◈ ہمارے شیخ و شیخ الکل حضرت محمد محمدث گوندلوی رحمہ اللہ اپنے فتویٰ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’دعائے قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
(جزء رفع الیدین) اور رکوع سے پہلے ہاتھ باندھ کر دعا کرنا بھی بعض صحابہ سے آیا ہے۔
(قیام اللیل)‘‘
(العبد محمد گوندلوی، ۱۴۔۲۔۲۳۶)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔