دشمن علاقے کے مؤمن مقتول کا حکم

اگر مؤمن مقتول دشمن کے علاقے میں رہائش پذیر ہو
تو اس میں کوئی دیت نہیں بلکہ صرف ایک مومن غلام آزاد کرنے کا کفارہ ہی ہے ۔ قرآن میں ہے کہ :
فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ [النساء: 92]
”اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وہ مسلمان تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنا لازم ہے ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾