دس محرم (عاشوراء) کے روزے کی فضیلت اور احکام

تحریر: نصیر احمد کاشف

دس محرم (عاشوراء) کا روزہ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء کا روزہ سابقہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (صحیح مسلم :۱۱۲۲)
سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس کا (استحبابی) حکم دیا پھر فرمایا:

اگر میں اگلے سال باقی (زندہ) رہا تو نو ( ۹ محرم) کا روزہ رکھوں گا۔ (صحیح مسلم : ۱۳۴)
اس حدیث کے راوی سیدنا ابن عباسؓ نے فرمایا:

’’صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود‘‘

نو اور دس (محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲۸۷/۴ وسندہ صحیح) راوی کے اس فتوے سے معلوم ہوا کہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا چاہئے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️